ہفتہ وار کالمز

ایران امریکہ جنگ!

ایک مصنف ہیں JOHN TODD،ان کی ایک کتاب THE EMERGENCE of FAITHپچھلی صدی کے وسط میں منظرِ عام پر آئی،اس کتاب میں بنیادی نکتہ یہ تھاکہ مغرب تو خدا کے بغیر چل رہا ہے مگر مشرق اپنے اعتقاد اور روحانیت کو چھوڑنے میں شائد ایک صدی سے زیادہ عرصے لے اس دوران مغرب اور مشرق کے درمیان عقلیت کا فرق مشرق کو مفلوج کئے رکھے گا اور مغرب مشرق میں مذہب کو مرنے نہیں دے گا مشرق میں سائینس اور ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث مشرق مغرب کا محتاج رہے گا ،دیگر مصنفین نے بھی اس نکتے کو اجاگر کیا کہ مغرب مشرق میں اپنے مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کرتا رہے گا،اور ہم نے دیکھا کہ پچھلے پچھتر سالوں میں مشرق مذہب کی جکڑ سے باہر نہیں آسکا،یہ بات مغرب کے لئے باعثِ اطمینان تھی کہ اس کو مشرق سے کوئی خطرہ نہیں اور نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعدایک اور غیر مرئی نو آبادیاتی نظام نے مشرق کو اپنی گرفت میں لے لیااس کی شکل مختلف تھی اقوام متحدہ کا ادارہ وجود میں آچکا تھا اور اس کی بنیادی فکر یہ تھی کہ مالدار ممالک کمزور اور غریب ممالک کے مسائل حل کرنے میں مدد دیں گیں اس طرح عالمی بھائی چارہ پیدا ہوگا اور امن کر فروغ ملے گا اور جنگ نہیں ہوگی ۔شروع شروع میں بڑے ممالک نے چھوٹے ممالک کی مدد بھی کی مگر پسِ پردہ اپنے مفادات کو بھی نظر میں رکھا،مثلاًامریکہ نے پاکستان میں کچھ بڑے ڈیم بنائے مگر اس کے ساتھ پاکستان میں اپنے فوجی اڈے بھی قائم کر لئے،ہندوستان میں تقسیم سے پہلے تین بڑے فرقے تھے سنیّ،دیوبندی اور شیعہ سنیّ اور دیوبندی بہت فروعی فقہی معاملات پر باہم دست و گریباں رہے مناظرے ہوتے رہے اور ان مناظروں کے لئے انگریز دونوں کو پیسے دیتا رہا،شیعہ فرقےکو کمزور سمجھا جاتا تھا سو شیعہ ذاکرین نے اپنی تقاریر میں دلیل کو اپنا ہتھیار بنا کر ایک فکری تحریک پیدا کی جس کا مقابلہ سنیّ اور دیو بندی علماء نہ کر سکتے تھے اس فکری تحریک کے پیچھے ایک طرف علمیت تھی تو دوسری طرف حریت کی ۔بہت مضبوط طاقت،1979میں جب ایران میں شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیااور خمینی برسرِ اقتدار آئے شیعیت کی فکر کو بڑا عروج ملا،اسلام، حریتِ فکر،اور اسلامی نشاۃ الثانیہ کی بات ہونے لگی خمینی نے قدم جمالئے۔ شاہ کی باقیات رفتہ رفتہ ختم ہونے لگیں،جمی کارٹر کے زمانے میں یرغمالیوں کو چھڑانے کا آپریشن ناکام ہوا تو ایران کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی اور کہا جانے لگا کہ خدا ایران کے ساتھ ہے،یہاں تک تو بات قابلِ قبول تھی مگر جب یہ کہا جانے لگا کہ ایران یہ انقلاب EXPORTکرے گا تو مشرقِ وسطی کے ممالک کے کان کھڑے ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ ظاہری طور پر ایران کو اسلامی ملک کہا جانے لگا تھا جبکہ مشرقِ وسطی کے دیگر ممالک کے پاس سوائے چند اسلامی سزاؤں کے کوئی مربوط اسلامی نظام نہ تھا سو ان ممالک کا خوفزدہ ہونا فطری عمل تھااور ان کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے ہاں مسلم آبادی ایران کی طرف دیکھنے لگے،یہ تو ہے خلیجی ریاستوں کا سیاسی اور نفسیاتی مسئلہ،امریکہ اور مغرب کی نظر ہمیشہ سے مشرق وسطیٰ کے تیل پر رہی تاکہ ان کی فیکٹریاں چلتی رہیں اور صنعت فروغ پاتی رہے،اسی لئے پچھلے ساٹھ سال سے مشرق وسطیٰ کی ریاستوں پر مغرب اور امریکہ کی فوج کشی جاری ہے حالیہ ایران اسرائیل امریکہ جنگ کو پسِ منظر یہی ہے مگر دس سال پہلے سے اسرائیل کی نظر ایران پر ہےاسرائیل کا خیال ہے کہ مشرق وسطی کے دیگر ممالک تو اس کا مقابلہ کر نہیں سکتے اگر ایران کی سرکوبی کر لی جائے تو مشرق وسطی پر اس کی بالا دستی قائم ہو سکتی ہے اس کے لئے منصوبہ سازی کی گئی،میں یہ کہتا رہا ہوں کہ حماس اسرائیل کی پراکسی ہے اور اسرائیل کے بہت سے مقاصد کے حصول کے لئے حماس مدد و معاون رہی ہے دو سال قبل اکتوبر میں حماس کا اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ،امریکی میڈیا نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بہت قریب تھا کہ حماس نے راکٹوں سے اسرائیل پر حملہ کر دیا تاکہ سعودی عرب کواسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے سے روکا جائے مگر دراصل منصوبہ غزہ کی مکمل تباہی تھی اور وہ ہو کر رہی اور دنیا سوائے مذمت کے کچھ نہ کر سکتی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی قراردادیں کچھ نہ کر سکیں،یہ مرحلہ امریکہ کی مدد کے بغیر مکمل نہ ہو سکتا تھا،اس مرحلے سے گزرنے کے بعد اسرائیل نے ایران پر گزشتہ جون میں حملہ کر دیا اور امریکہ اپنے بی ٹو ببمبار طیاروں کے ساتھ اسرائیل کی مدد کو آگیا،ایران نے جی داری سے مقابلہ کیا اس وقت بھی جھوٹ بولا گیا کہ ایران ایٹم بم بنانے کے بہت قریب ہے مگر ایران شدید حملوں کے باوجود SURVIVEکر گیا،اس دوران ایران کے خلیجی ریاستوں سے تعلقات بہتر ہونے لگے،اب کے پھر ایک منصوبہ بندی ہوئی امریکہ نے وینزویلہ پر حملہ کیا اور صدر مدورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر لیا،وینزویلہ کی نائب صدر کو شیشے میں اتارا اور ویزویلہ کی تیل کی صنعت پر قبضہ کر لیا ہمارا خیال ہے کہ یہ اقدام اس لئے کیا گیا کہ ایران پر دوباہ حملہ کرنا تھااور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ دوران جنگ امریکہ کو تیل کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے یہ اقدام کرنے کے بعد ایران پر حملہ کر دیا گیا منصوبہ کام آیا اور امریکہ کو تیل کی کوئی خاص کمی نہیں آبنائے ہرمز بند ہونےکے بعد ساری دنیا کو تیل کے بارے میں فکر ہے مگر امریکہ اس فکرسے آزاد ہےاس فروری میںجب حملہ کیا گیا تو اس بات کو پھر دہرایا گیا کہ ایران ایٹم بم بنانے کے ایک ہفتہ کی دوری پر ہے،یہ بات بھی دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ایران ایسے میزائیل بنا سکتا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیںاور ایران امریکہ پر حملہ کر سکتا ہے اس سے قبل ایران پر دباؤ ڈالا گیا کہ کہ وہ امریکہ سے نیا معاہدہ کرے، امریکہ نے پرانا معاہدہ جو خاصاCOMPREHENSIVEتھا یک طرفہ طور پر منسوخ کر دیا عمان ترکیہ کی مدد سے ایک اور معاہدہ کرنےکی کوشش کی گئی اور فریقین معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ایران نے یہ بات بھی مان لی کہ وہ یورینیم کی افزودگی صفر کر دے گا مگر میزائیل ٹیکنالوجی کو ترک نہیں کرے گا،یہ معاہدہ ہونے ہی والا تھا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور امریکہ اسرائیل کی مدد کو چلا آیا،امریکی میڈیا نے ٹرمپ اور مارکو روبیو کے حوالے سے یہ رپورٹ کیا ہے کہ ایران پر دو ہزار حملے کر چکے ہیںکچھ ویڈیو ز میں دیکھا جا سکتا کہ تہران اور کئی دوسرے شہروں کے کچھ حصے کھنڈر بن چکے ہیں۔اسرائیل اور امریکہ نے ایران میں رجیم چینج کی بھی بات کی اور آیت اللہ خامنہ ای کو ایک حملے میں قتل کر دیا خامنہ ای کی بیوی،بیٹی، نواسی،داماد بھی مارے گئے اسرائیل نے اننچاس دیگر اعلی عہدیدار بھی مارے گئے مگر ایران میں قیادت کا خلاء پیدا نہیں ہوا بقول پزشکیان ملک کا کاروبار ویسے ہی چل رہا ہے اور اتنی ہلاکتوں کے بعد بھی قیادت کابحران پیدا نہیں ہوا،ایران کے پاس ملٹری طاقت بہت محدود ہے اس کا کل انحصار میزائل پر ہے جس کو وہ بہت کامیابی سے استعمال کرتا چلا آرہا ہے چار میزائل امریکہ کے ابراہام لنکن جہاز تک بھی پہنچ گئے ایران نے امریکہ کا بہت قیمتی ریڈار سسٹم بھی تباہ کر دیا اور ایران خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں ،سفارت خانوں اور تنصیبات کو مستقل نشانہ بنا رہا ہے ،خلیجی ریاستوں میں اپنے اڈوں سے امریکہ نے اپنے تمام اسٹاف، فوجیوں کو نکال لیا ہے امریکہ کی فوجیں خلیجی ریاستوں میں موجود ہیں امارات سے امریکہ کا دفاعی معاہدہ بھی ہے مگر امریکہ ان کا دفاع نہ کر سکا ،ایران نے دبئی، امارات،کویت، سعودی عرب،عمان، قطر، میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں عام شہریوں کی بھی شہادتیں ہوئی ہیں مگر ابھی تک کچھ خلیجی ریاستوں نے Receptorsکے علاوہ اپنی کسی فوجی طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا، امارات اور عمان کی طرف سے یہ بیان سامنے ضرور آیا کہ ہم دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں،خلیج کی تمام ریاستوں میں بادشاہ موجود ہیں جن کو امریکہ کی خوشنودی حاصل ہے امریکہ کو ان ریاستوں سے تیل بھی ملتا ہے اور پیسہ بھی یہ ریاستیں اگر ذرا بھی اپنی ڈگر سے ہٹیں گی تو ان کی حکومتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے ،مکہ مدینہ سمیت تمام مڈل ایسٹ میں تمام تعمیرات امریکہ،اٹلیِ برطانیہ اور فرانس کی کمپنیز نے کی ہے اور اب ایرانی حملوں کی وجہ جو تباہی ہوئی ہے ۔اس کی Reconstructionبھی یہی کمپنیز ہی کرینگی گویا مشرقِ وسطی امریکہ کے لئے سونے کی چڑیا ہے بہت اطاعت گزار اور مطیع، اسی لئے یہ ریاستیں کبھی مسلم ممالک کی مدد کو نہیں آتیں بلکہ ان کو نقصان پہنچانے میں دیر نہیں کرتیں،امارات کے دو بلین ڈالرز پاکستان کے پاس ہیں ان کو رول اوور کرانے کے لئے پاکستان کو امارتی حکمران کی کتنی منتیں کرنی پڑتی ہیں سعودی عرب بھی اپنے ایک بلین ڈالرز ایک بار واپس مانگ چکا ہے،ایران ایک افلاس زدہ ملک ہے جس کی معیشت امریکی پابندیوں کی وجہ سے دگرگوں ہے،اس کا امریکہ یا ا سرائیل کی مالی اور فوجی طاقت سے کوئی مقابلہ نہیں مگر یہ چھ ہزار سال پرانی تہذیب ہے ایران کے لوگوں کو اپنی زبان اپنے مذہب اور اپنی زمین سے بہت محبت ہے اس کے ساتھ ساتھ ایران کی Resilienceقابل داد ہے امریکہ بہت بڑی طاقت ہے بڑی طاقتوں کو بڑی طاقتوں کی طرح ہی رویہ رکھنا چاہیئے مگر بڑی طاقتوں کو اپنے مفادات بہت عزیز ہوتے ہیں اور طاقت پر غرور بھی ،یہ ہمیشہ سے رہا ہے ہمیشہ ہی رہے گا اخلاقیات فرد کی ہو سکتی ہیں ملکوں کی نہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button