Select Language
ہفتہ وار کالمز

خیرو شر کا معرکہ!

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ جنہیں اپنی طاقت اور قوت پر گھمنڈ ہوتا ہے کسی قانون یا ضابطہ کونہیں گردانتے۔ انہیں یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہمیشہ اپنی بات منوالیں گےاور کمزور کو اس امر پر مجبور کردینگے کہ وہ ان کی طاقت کے سامنے سر جھکائے اور ہتھیارڈال دے !یہ زعم ، یہ گھمنڈ ہمیشہ سے جنگل کے قانون کی پرستش کرتا آیا ہے اور جنگل کا قانون، آپ جانیںصرف اور صرف ایک ہوتا ہے اور وہ یہ کہ طاقتور کی ہر بے جا بات، یا مطالبہ کے سامنے کمزور اپناسرِ تسلیم خم کردے !
جب سے انسان نے اپنی دنیا کی تاریخ مرتب کرنے کا کام شروع کیا جنگل کے قانون نے ہی فتح وشکست کی تاریخ لکھی۔بیسویں صدی کو دنیا کی تاریخ میں تہذیب کی صدی کے طور پہ مانا جاتا ہے لیکن اسی برائے نام مہذب صدی نے اپنے پہلے چالیس برس میں دو ایسی خوفناک جنگیں دیکھیں جن کی نظیر اس سے پہلے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔کڑوڑوں لوگ ان دو عالمی جنگوں میں لقمہء اجل بن گئے اور دنیا کا نقشہ تہہ و بالا ہوگیا! پہلی جنگِ عظیم کے خاتمہ پرمہذب مغربی دنیا کے ممالک نے لیگ آف نیشنز نام کی تنظیم بنائی تاکہ بین الاقوامی مسائل کو مہذب طور پہ، سلیقہ سے، مذاکرات کی میز پر حل کیا جاسکے لیکن لیگ آف نیشنز کے بنانے والے ہی وہ ثابت ہوئے جنہوں نے جنگل کے قانون کی پیروی کرتے ہوئے دوسری، پہلی سے زیادہ خوفناک، جنگِ عظیم کو جنم دیا اور پھر سے وہی تاریخ دہرائی گئی کہ کروڑوں مظلوم عوام جنگ کے شعلوں کی نذر ہوگئے ! دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر اقوامِ متحدہ نام کی عالمی تنظیم وجود میں آئی اور ایک بار پھرمہذب اقوام نے طے کیا کہ وہ اپنے مسائل اور اختلافات کو گفت و شنید کے ذریعہ، مذاکرات کی میز پر حل کرینگے۔ بڑا ہی لفظی طور پہ متاثر کن ہے وہ حرفِ آغاز جو اقوامِ متحدہ کے منشور کا ایک لحاظ سے دیباچہ کہا جاسکتا ہے اور جس میں یہ بلند و بانگ عہد کیا گیا ہے کہ عالمی برادری اب کبھی وہ تاریخ نہیں دہرانے دے گی جس نے ہماری زندگیوں میں دو خوفناک جنگیں دیکھیں! لیکن اسی منشور نے ممالک کے درمیان برابری کے اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسری جنگِ عظیم کے فاتحین پانچ ممالک کو ویٹو پاور یا حقِ استرداد بھی دے دیا کہ ان پانچ فاتحین میں سےجو چاہے پوری عالمی برادری کے متفقہ فیصلہ کو اپنے ویٹو کی طاقت سے رد کرسکتا ہے ! دوسرے معنوں میں جنگل کے قانون کو ویٹو پاور کا نام دیکر جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس کے صدیوں پرانے کلیہ کو ایک نیا جامہ پہناکے دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ اور پھر دنیا کے دیکھا کہ وہی جن کے پاس ویٹو کی طاقت تھی انہیں ممالک نے اپنی طاقت کے زعم میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمہ کے پانچ برس بعد ہی کوریا کی جنگ شروع کی اور پھر اس کے بعد کے سالوں میں ویتنام کی جنگ اور خلیج کی جنگ کے علاوہ طاقتور ملکوں نے جنگل کے قانون کی پیروی اور پرستش کرتے ہوئے دنیا کے امن اور چین کو تہہ و بالا کیا، بغیر کسی اظہارِ شرمندگی کے! ستم بالائے ستم دنیا بھر کیلئے یہ کہ موجودہ دور کی سب سے بڑی عسکری قوت کی سربراہی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو نہ صرف بد زبان و بد کلام ہے بلکہ اسے اپنی طاقت کا ایسا نشہ ہے جو آئے دن عالمی برادری کو نئے نئے ناٹک دکھاتا رہتا ہے! اس پر مزید طرہ یہ کہ یہ فحش کلام شخص اپنے سحر میں مبتلا ہے اور خودنمائی کا جادو اس کے سر چڑھ کے ایسے بولتا ہے جیسے یہ دھرتی پہ خدا کا نائب یا اوتار ہو! اس کی انا اور خودنمائی کا زہر اسے ایک پل چین نہیں لینے دیتا!
اسے یہ زعم ہے کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتےپر دنیا کو اپنے قدموں پہ جھکاسکتا ہے اور جو اس کے حکم سے سرتابی کی جسارت کرے اسے زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں ہے! اسے یہ غرور بھی ہے کہ وہ ہر ملک کا ریاستی اور سیاسی نقشہ اپنی مرضی کے مطابق مرتب کرسکتا ہے۔ اس کے خیال میں اس کی ڈنڈے کی طاقت نے اسے یہ حق دیا ہے کہ وہ جس ملک کو چاہے اس میں در اندازی کرسکتا ہے! وہ نہ کسی قانون کو گردانتا ہے نہ اس کے نزدیک دنیا میں کسی قانون یا ضابطہ میں اتنی قوت ہے کہ وہ جو کرنا چاہتا ہے اسے اس سے باز رکھ سکے! اسی طاقت کے گھمنڈ میں نیا سال شروع ہونے کے تیسرے دن وہ جنوبی امریکہ کے ملک وینزویلا پر چڑھ دوڑا اور نہ صرف ایک خودمختار اور آزاد ملک کی سالمیت کو اس فعل سے مکمل طور پہ نظرانداز اور پامال کیا بلکہ اس کے منتخب صدرِ مملکت کو بھی یرغمال بناکے اور ہتھکڑیاں پہناکے اپنے ملک کے ایک زندان کی نذر کردیا!سال کا دوسرا مہینہ ختم ہونے سے پہلے اسی جنگل کے قانون اور جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کے فارمولہ کے تحت اس نے اپنے صیہونی یارِ غار سے گٹھ جوڑ میں پاکستان کے پڑوسی ملک ایران کی سالمیت اور خودمختاری کو پامال کرتے ہوئے اس پر چڑھائی کرڈالی اور یہ سطور تحریر کرنے تک اس ملک کے رہبرِ معظم کو، ان کی بیٹی، داماد، بہو اور نواسے نواسی سمیت موت کی نیند سلادیا اور اپنے اس ارتکابِ جرم پر ناز کرتے ہوئے دنیا کو بڑے فخر سے بتایا کہ اس نے علی خامنائی کو ہلاک کردیا ہے جو اس کے بقول دنیا کی سب سے ناپسندیدہ سیاسی شخصیت تھی! اس نیم خواندہ گھمنڈی نے دنیا کی تاریخ نہیں پڑھی، یا اگر پڑھی تھی تو اسے تاریخ کا یہ سبق چنداں یاد نہیں ہے کہ فرعون کیلئے ایک موسیٰ پیدا ہوتا ہے جو اس کے کاخِ زعم کو مٹی میں ملادیتا ہے، اسے دھول چٹادیتا ہے اور پھر دنیا دیکھتی ہے کہ وہ جو سمجھتا تھا کہ وہ ہر قانون سے بالاتر ہے اور کسی ضابطہ کا پابند نہیں وہی دریا یا سمندر کی لہروں کا لقمہ بن جاتا ہے ! طاقت کے نشہ سے بے حال اس فرعونِ دوراں کو ذرا سا بھی یہ شعور نہیں کہ تم ننگی تلوار سے اپنے مخالف کا گلہ تو کاٹ سکتے ہو لیکن نظامِ ریاست کو ایک سربراہ کے اقدامِ قتل سے نہیں بدل سکتے! اور پھر ایران کا موجودہ نظامِ ریاست جواستعمار اور صیہونی طاغوت کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے ایک انقلاب کی پیداوار ہے اور انقلاب کی پیداوار اتنی آسانی سے مٹائی نہیں جاسکتی! ایران تو بہت بڑا ملک ہے جسے قدرت نے بیشمار وسائل سے مالا مال کیا ہے، کیوبا تو ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو استعمار کے مرکز سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور جس پر استعمار نے اپنی طاقت کے زعم میں 67 برس سے اقتصادی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں اور اس کا بحری محاصرہ بھی کیا ہوا ہے لیکن آج تک، تمام تر سازشوں کے باوجود وہ کیوبا کے انقلاب کا بال بھی بیکا نہیں کرسکا!
اسی طرح استعمار نے بہت چاہا کہ انقلابِ چین کا رخ بدل دے یا اسے ناکام بنادے لیکن دنیا آج اسی چین کو رشک و حسد کی نظروں سے دیکھ رہی کہ وہ ترقی اور تعمیر میں دنیا کے ہر دوسرے ملک کو، استعماری طاقت سمیتِ، کہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گیا ہے ! زخمی شیر ایران آنے والے دنوں اور ہفتوں میں خلیج کے سیاسی نقشے اور اقتصادیات کو کیسے متاثر کرتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن یہ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز، جو صرف 33 کلومیٹر چوڑی آبی شاہراہ ہے وہ ایران کی عسکری طاقت کی دسترس میں ہے اور یہ وہ آبی شاہراہ ہے جس سے دنیا میں خام تیل کی مانگ اور طلب کا بیس فیصد حصہ روز گذرتا ہے۔ صرف ایک یہی حقیقت استعمار اور صیہونی یلغار کی نیندیں اڑانے کیلئے بہت ہے ! وہ جو کہاوت ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے تو ہمارے ہاں بھی جو عسکری ٹولہ، یزید عاصم منیر کی قیادت میں ملک و قوم پر قابض ہے، حاوی ہے اوراس کے ساتھ اس بگڑے ہوئے نودولتیے کا سا سلوک کر رہا ہے جسے امیر باپ کی دولت اچانک مل گئی ہو، وہ بھی پاکستانی قوم کے ساتھ وہی سلوک روا رکھے ہوئے ہے جو اس کے سرپرست کا ہے ! پاکستان کے عوام میں اب بھی کچھ جذبہء ایمانی ہے، کچھ خمیرِ حریت ہے جس کے تحت کراچی میں عوام نے امریکی قونصل خانے کے سامنے مظاہرہ کیا اور جذبات کی روانی میں قونصل خانے میں گھسنا چاہا! یہ جسارت ہمارے یزیدی ٹولہ کو ناگوار گذری۔ بھلا پاکستانی عوام کی اتنی جراءت کہ وہ یزیدی ٹولہ کا آقائے نامدار کے قونصل گھر کی طرف بری نظر سے دیکھے یا اس میں دراندازی کی کوشش کرے۔ سو حکم صادر ہوا کہ ان بلوائیوں کو روکا جائے۔ ہماری پولیس، وہ چاہے شہزادی مریم نواز کی جاگیر پنجاب کی ہو یا ڈکیت زرداری کی تحویل سندھ یا کراچی کی، اپنے عوام پر بیدریغ گولیاں برسانے میں طاق ہے۔ یہ وہ ملکہ ہے جو فرنگی راج کی پولیس کو بھی حاصل نہیں تھا۔ لہٰذا یزیدِ وقت کے حکم کی تعمیل ہوئی اور پندرہ شہری گولیوں کی بھینٹ چڑھ گئے! غلامی ہو تو ایسی ہو۔ یزید عاصم منیر، جو اپنے آپ کو پاکستانی قوم سے اولامر کے طور پہ منواناچاہتا ہے، اس زعم میں ، اس سحر میں مبتلا ہے، اپنے آقائے نامدار کی مانند، کہ جب تک اس کے سر پر استعماری گروگھنٹال کا دستِ شفقت ہے اس کا دنیا کی کوئی طاقت کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی۔ یہ وہی زعم ہے جو ہر فرعون کو، ہر نمرود اور یزید کو ہوتا ہے لیکن ہر یزید یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے گھمنڈ اور فسطائیت کو دھول چٹانے کیلئے ایک حسین یا حسین شہید کا ایک پیروکار قدرت کی طاقت اور مدد سے پیدا ہوجاتا ہے۔ عمران خان بھی سید الشہدا، حسین مظلوم کربلا کا پیروکار ہے اور حسینی عزم کی مشعل اس کی صراطِ یقین کو بھی روشن کر رہی ہے۔ تو وہ دن دور نہیں جب یزیدِ وقت بھی اسی طرح ہزیمت و رسوائی کی تاریخ دہرائے گا جیسے ہر یزید دہراتا رہا ہے! قدرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی، کوئی رد و بدل نہیں ہوتا۔ یہی تاریخ کا وہ سبق ہے جو ہر یزید، فرعون اور نمرود کو یاد نہیں رہتا! پاکستان کے اور دنیا بھر کے مظلوم عوام کیلئے ہمارا یہی پیغام ہے :
خیر و شر کا معرکہ درپیش ہے
کربلا کا عزم زندہ کیجئے
نورِ حق کی سرفرازی کیلئے
اسوہء شبیر پیدا کیجئے !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button