Select Language
ہفتہ وار کالمز

رجیم چینج میں ناکامی!

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ نہ جانتا ہو کہ کسی بھی ملک میں رجیم چینج کے لیے حملہ آور کو سازگار حالات پیدا کرنا پڑتے ہیں۔ وہ اگر مفتوح ملک میں اپنی فوج نہ بھیج سکے تو پھر اسے مقامی لوگوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ لیبیا میں 2011میںمعمر قذافی کی حکومت گرانے کے لیے امریکہ نے کئی ملیشیاجتھوںکی خدمات حاصل کی تھیں۔ امریکہ نے ان عسکریت پسندوں کو مالی اور عسکری امداد دینے کے علاوہ فوجی تربیت بھی دی تھی۔ تب کہیں جا کے لیبیا میں رجیم چینج ہوئی تھی۔ اس سے پہلے 2003 میں صدام حسین کی حکومت تبدیل کرنے کے لیے جارج ڈبلیو بش کو امریکی افواج عراق بھیجنا پڑی تھیں۔ سرد جنگ کے سینتالیس برسوں میں امریکہ نے لاطینی امریکہ سے لے کر افریقہ اور ایشیاء تک درجنوں حکومتیں تبدیل کیں۔ صدرٹرمپ رجیم چینج کی اس پوری تاریخ سے اچھی طرح واقف ہیں۔انہوں نے 2016میں اپنی پہلی انتخابی مہم کے دوران کہا تھاکہ "Regime change is a proven absolute failure” یعنی رجیم چینج ایک ثابت شدہ مکمل ناکامی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دوسرے ممالک کی حکومتیں گرانے کی غلطی نہیں کرے گا۔ گذشتہ برس کی صدارتی مہم کے دوران اس نے اپنی مد مقابل کاملہ ہیرس کے بارے میں کہا تھا کہ وہ تیسری عالمی جنگ شروع کر دے گی اور امریکنوں کے بیٹوں اور بیٹیوں کو کسی ایسے ملک میں جنگ لڑنے کے لیے بھیج دے گی جسکا نام بھی انہوں نے نہ سنا ہو گا۔ ان وعدوں کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس نے وینزویلا پر حملہ کرکے اسکے صدر کو اغوا کر لیا۔ پورے لاطینی امریکہ میں خو ف و ہراس پھیلا دینے والے اس حملے میں صدر نکولس میڈورو کو تو امریکی جیل منتقل کر دیا گیا مگر رجیم چینج نہ ہو سکی۔ وینزویلا کی نئی صدر Delcey Rodriguez جو میڈورو حکومت میں نائب صدر تھیںاب صدر ٹرمپ کے احکامات کے مطابق حکومت چلا رہی ہیں۔ وینزویلا کی تیل اور گیس کی دولت امریکہ کے قبضے میں ہے۔ رجیم چینج نہیں ہوئی مگر اغراض و مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔
اس مائینس ون فارمولے کا اطلاق ایران پر بھی کیا گیا ہے۔ ہفتے کے دن امریکہ اور اسرائیل نے ملکر فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور انکے خاندان کے کئی افراد کو شہید کر دیا۔اس حملے سے کچھ پہلے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب رات ڈھائی بجے صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی۔ اس میں ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوے انہوں نے کہا
"When we are finished, take over your government. It will be yours to take.” کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں اتنی کھلی مداخلت بین الاقوامی قوانین کے علاوہ امریکی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی ملک پر حملے سے پہلے صدر ِامریکہ کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور امریکی کانگرس سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ صدر جارج بش نے مارچ 2003 میں عراق پر حملے سے پہلے سیکیورٹی کونسل سے اجازت لی تھی پھر کانگرس کے دونوں ایوانوں سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ وہ دنیا بھر کو بیوقوف بنانے کی ایک ایسی کوشش تھی جسکی مذمت امریکی میڈیاآج تک کر رہا ہے۔عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا ناٹک رچا کر جو طویل جنگ شروع کی گئی اس نے ہزاروں عراقیوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ مشرق وسطیٰ کو ایسے عدم استحکام سے دوچار کر دیا تھا جسکے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔ جس طرح ہر جارح کو جارحیت کی قیمت خود بھی ادا کرنا پڑتی ہے اسی طرح امریکہ نے بھی اس حملے کی ایک بڑی قیمت ادا کی تھی۔ عراق جنگ نے اس سوال کوجنم دیا تھا کہ صدر جارج ڈبلیو بش بری طرح اسرائیلی لابی کے زیر اثر تھے۔ اس جنگ کے بعد امریکہ میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ اسرائیل اپنے اغراض و مقاصد کے لیے امریکہ کو استعمال کر رہا ہے۔ اس متنازعہ مکالمے نے گزشتہ برس غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے دوران شدت اختیار کر لی۔ اب ایران پر صدر ٹرمپ اور نتن یاہو کے حملوں کے بعد کبھی کبھار سرگوشیوں میں ڈھل جانے والی یہ بحث پہلے سے زیادہ کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی MAGA تحریک کے اندر لاکھوں قوم پرست اسرائیل کو طویل عرصے سے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا شمار اس دھڑے کے رہنمائوں میں ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں تو یہ بات کسی شک و شبے سے بالا تر ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کو انکار نہیں کر سکتے۔
صدر ٹرمپ نے گذشتہ نو ماہ میں ایران پر دو بڑے حملے کر کے، نیتن یاہو کو اسکے خواب کی تعبیر دے دی ہے مگر اب اسکے بعد کیا ہو گا۔ اب جو بھی ہو گا اسکے نتائج کا سامنا صدر ٹرمپ کو کرنا پڑےگا، نیتن یاہو اب چھٹی مرتبہ وزیر اعظم بننے کے لیے ایران کی تباہی کا تاج سر پر سجا کر عوام سے ووٹ مانگنے جائیں گے اور صدر ٹرمپ کو نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا صدر ٹرمپ کو یہ سب معلوم نہ تھا۔ اسکے ایک سے زیادہ جواب ہو سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ اسرائیلی لابی کے سامنے بے بس ہیں‘ دوسرا یہ کہ وینزویلا میںصدر نکولس میڈورو کے اغوانے انہیں ضرورت سے زیادہ خود اعتماد بنا دیا ہے اور تیسرا یہ کہ طاقت کا نشہ سر چڑھ کے بولتا ہے۔ غرور اور تکبر کے اس عالم میں انہیں یہ نظر نہیں آ رہا کہ ایران میں انہیں Delcey Rodriguez نہیں مل سکی۔ تہران میں انہیں آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مشرق وسطیٰ کی جس نئی جنگ میں دھکیلا ہے وہ عراق ‘ شام اور لیبیا کی جنگوں سے بہت مختلف ہو گی۔ امریکہ کی موجودہ داخلی سیاست کو دیکھتے ہوے کہا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو جلد یا بدیر اسکی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ فی الحال وہ وقتی فتح کے ان لمحات کا لطف اٹھا سکتے ہیں مگر واشنگٹن میں وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہا۔ اب بھی ایسا ہی ہو گا۔بس تھوڑے سے انتظار کی ضرورت ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button