Select Language
ہفتہ وار کالمز

پاکستانی حکمرانوں کی افسوسناک ترجیحات!

پاکستان کے اہل اقتدار نے اگر ان چار ترجیحات پر توجہ نہیں دی تو ہم انہیں کیا کہیں گے؟ پہلے ترجیحات سن لیں۔ اوّل بد عنوانی جسے کرپشن بھی کہتے ہیں،کو جڑ سے ختم کرنا۔دُوم ، بچوں کو تعلیم دینا، سوئم، شیر خوار اور ننھے بچوں کو مناسب خوراک دینا تا کہ ان کی ٹھیک پرورش ہو سکے، اور چہارم، نو جوانوں کو بنیادی تعلیم کے علاوہ ہنر دینا تا کہ وہ با عزت روزگار کما سکیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ ہر حکومت نے ان ترجیحات پر کچھ نہ کچھ کرنے کا پروگرام بنایا لیکن اس پر عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی جیسے وہ ان پراجیکٹس کے لیے کرتے تھے جو ان کو عزیز تھے۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی وبا ایسی پہلی کہ اس نے ہر اچھے منصوبہ کو مٹی میں ملا دیا۔ہم ایسے حاکموں کو غدار تو نہیں کہتے، لیکن یہ بے حس ، خود غرض، لالچی لوگ کسی ایسے منصوبے میں دلچسپی نہیں لیتے تھے جس میں انہیں لمبا چوڑاکمیشن ملنے کی امید نہ ہو۔ تعلیم سے تو انہیں قطعاً دلچسپی نہیں تھی۔ کچھ دانشمندوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے اہل اقتدار جو زیاد ہ تربڑے زمین دار تھے، یا وڈیرے اور صنعتکار،وہ پڑھا ؛لکھا مزدور نہیں چاہتے تھے۔کیونکہ ایسے مزدوروں کا استحصال کرنا مشکل ہو تا تھا۔ ہم یہ رونا اپنے کالموں میں اکثر روتے ہیں، لیکن پرنالہ وہیں گرے گا جہاں یہ مطلب پرست احباب چاہیں گے۔
خواہ کسی کے کانوں پر جوں رینگے یا نہ رینگے، ہم تو یہ راگ گاتے جائیں گے۔
پہلے کرپشن کی کہانی سن لیں۔ ایک بہادر جوان، عمران خان نے پاکستان سے کرپشن کی بیخ کنی کرنے کا بیڑا اٹھایا، اور پوری قوم نے اس کا ساتھ دیا۔ اس کو حکومت میں لا بٹھایا۔لیکن ثابت ہو گیا کہ راشیوں اور حرامخوروں کے گروہ ، جو ایوانوں کی کرسیوں پر براجمان تھے، وہ اس ایمان دار اور پُر خلوص قائد کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ان کی عیاشی کی زندگی اور اوپر کی آمدنی کو بند کرنا چاہتا تھا۔لاکھوں کروڑوں کا نقصان تھا۔ اس لیے اس کا جانا ضروری تھا۔ حالات ایسے بن گئے یا بنا دیئے گئے، کہ بیرونی طاقتوں نے موقع مناسب سمجھا، اور اپنے تو تیار بیٹھے تھے، انہوں نے سازش کی اور عمران خان کو حکومت سے باہر نکال کھڑا کیا۔یہی نہیں، اس کو، اور اس کی اعلیٰ قیادت کو جیل میں ڈال کر ، اس کی پارٹی کو بھی تقریباً نا کارہ کر دیا۔ ان لوگوں کو آپ کیا کہیں گے؟ یہ محب وطن تھے یا یہ مفاد پرست عوام کے دشمن تھے؟ یا ظالمین؟
اس قصہ میں قصور عوام کا بھی ہے کہ کیوں نہیں انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی؟ جب ان کے بچوں کو سکول میں داخلہ نہیں ملتا تھا تو کیوں نہیں انہوں نے اپنے ایم این اے اور ایم پی اے سے مطالبات کئے؟جب ان کے قائدین ، عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے ہیں، تو وہ بھی اس پر شاکر رہتے ہیں۔اگر ان کے پاس تعلیم ہوتی تو یہ اپنے حقوق پہچانتے اور جانتے کہ بنیادی تعلیم حاصل کرنا ان کا بنیادی حق ہے، جو ان کو پاکستان کا آئین دیتا ہے اور دنیا کے ادارے بھی۔
تعلیم دی بھی تو کیسی؟ تعلیم کے نام پر دھبہ۔ میٹرک پاس لڑکا یا لڑکی ایک معمولی درخواست نہیں لکھ سکتے۔ اس کے لیے بازار سے بنی بنائی درخواست خرید کر تھوڑی سی خانہ پری کر کے اپنا کا م چلا لیتے ہیں۔درخواست چھٹی کی ہو یا نوکری کی۔بی اے اور ایم اے پاس کو بھی کچھ زیادہ نہیں آتا۔معمولی سی تربیت لیکر کسی دفتر میں لگا دیا جاتا ہے۔ بالکل ان پڑھ بھی کسی استاد سے کام سیکھتے ہیں اور بہت ابتدائی کام کر لیتے ہیں جیسے موٹر کاروں کی مرمت یا بائیسکل کی، یا حلوائی ۔ پنساری کی دکان پر۔
ظالموںنے پاکستانی عوام کو بنیادی تعلیم بھی نہیں لینے دی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق،پاکستان کی 40فیصد آبادی لکھ پڑھ نہیں سکتی یعنی نا خواندہ ہے۔ ان میں مرد 23 فیصداور خواتین تقریباً47فیصد نا خواندہ ہیں۔
سن 2024 کے اکنامک سروے کے مطابق، پاکستان نے تعلیم کے شعبہ پر صر ف 0.8% of GDPخرچ کیا۔ اکثر ترقی پذیر ممالک میں یہ 3یا 4فیصد ہوتا ہے۔ایک اور شر م کی بات ۔ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سکول جانے کی عمر کے بچے سکول سے باہر ہیں۔ یہ بھی اسی سروے نے بتایا۔ ان میں زیادہ بچے بلوچستان میں ہیں، جہاں سکول کی عمر کے 45فیصد بچے سکول میں داخل نہیں ہیں۔ صرف ذرائع کی کمی کا بہانہ نہیں چلے گا۔ مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ ہماری ترجیحات کہیں اور ہیں۔ جیسے کہ دہشت گردوں سے جنگ، ہمسایہ ممالک سے پھڈا، عیاشی اور بیرونی ممالک کی سیر،وغیرہ۔تعلیم میں تفاوت صرف مردوں، عورتوں کا ہی نہیں، شہری اور دیہاتی علاقوں میں بھی بہت ہے۔ مثال کے طور پر سندھ کے شہری علاقوں میں خواندگی کی شرح 72.26% ہے، لیکن دیہی علاقوں میں 38.13% ۔ یہ فرق معاشرتی اقدار کا مظہر ہے یا سہولیات کی کمی کا؟ شاید دونوں کا؟
تعلیم کی نوعیت ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ جو بچے خوش قسمتی سے سکول داخل ہو بھی جاتے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ ایک سروے کے مطابق، گریڈ تین سے آٹھ کے 34فیصد بچے گریڈ دُوم کے حساب کے سوال حل نہیں کر سکتے۔ البتہ بچوں کا سکول چھوڑ دینا معاشی مسئلہ بھی ہے 71 فیصد والدین نے بچوں کو اس لیے سکول سے اٹھوا دیا کہ وہ ان کی تعلیم کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
پاکستان میں اتنے سکول نہیں جتنے چاہئیں۔ اس کی24کروڑ کی آباادی کے لیے 242,616 سکول ناکافی ہیں۔2025کی ایک رپورٹ کے مطابق، 23فیصد سکولوںمیں بجلی نہیں ہے22 فیصد میں بیت الخلاء نہیں ہیں۔
پاکستان کی عوام گئی بھاڑ میں۔ انکی کس کو پرواہ ہے۔صرف زبانی جمع خرچ جتنامرضی کروا لو۔ اب بچوں کی مثال لے لیں۔ بچے سب کو پیارے ہوتے ہیں۔ ماں باپ بچوں پر جان چھڑکتے ہیں۔ لیکن غریب ماں باپ اس کے باوجود بچوں کو مناسب غذا نہیں دے پاتے اور حکومت بھی ان بچوں کی پرواہ نہیں کرتی۔ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ ایک سروے کے مطابق، پانچ سے دس سال کی عمر کے بچوںمیں، 18فیصد کم وزن تھے، 23 فیصد پستہ قد اور 35فیصد میں خون کی کمی تھی۔جب 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے چلی گئی ہو تو یہی کچھ تو ہو گا۔ہمارے حکمران اپنے چند گھنٹوں کے سفر کو پر تعیش بنانے میں لگے ہیں۔ مہنگے ترین پرائیویٹ جیٹ خرید رہے ہیں۔ جب وہ ا ن جہازوں میں کسی دوسرے ملک جائیں گے تو وہاں کے لوگ کیا سوچیں گے؟ ان لوگوں کو قطعاً شرم نہیں آتی جب کہ ان کے بچے فاقوں سے ہیں، انہیں مناسب غذا نہیں ملتی اور یہ قومی خزانہ کیسے بے دردی کے ساتھ لٹا رہے ہیں؟بچوں کی صحت کے اعداد و شمار جو اوپر دیئے گئے ہیں وہ سندھ اور پنجاب سے ہیں۔ فرنٹیر اور بلو چستان میں حالات اس ے بہتر تو نہیں ہو سکتے۔اب غور کیجئے کہ یہ بچے جب جوان ہو نگے تو کیا کر سکیں گے۔ نہ ان کے پاس تعلیم ہو گی، نہ صحت۔ بس بھیک مانگنے کے قابل رہ جائیں گے۔ کیا ہمارے پیارے حکمران ایسی نسلوں کی پرداخت کر رہے ہیں؟
2024کا اکنامک سروے بتاتا ہے کہ پاکستان نے اپنے جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم صحت عامہ پر خرچ کیا۔ لعنت ہے ہماری زندگی پر۔ ہمیں کیا حکمران ملے ہیں۔ انہیں اپنی جیبیں بھرنے کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں؟ راقم تو اس بات پر بھی حیران ہے کہ ہمارے سب سے بڑے نگہبان ادارے، آئی ایم ایف کو چھوٹی سے چھوٹی بات کا پتہ ہوتا ہے تو وہ کیوں نہیں پاکستان کے ان حالات پر کوئی اہداف بناتے؟ کیا ہماری اشرافیہ کی طرح وہ بھی بے حس اور ظالم ہیں؟ کوئی شک نہیں۔ پاکستانی عوام کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت کے قابل نہیں۔ اب تو ان کے ووٹ کو بھی کوئی عزت نہیں دیتا۔ وہ ووٹ کسی کو دیتے ہیں اور جاتا کسی اور کو ہے۔ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے۔
وہ بچے تو خوش قسمت ہیں جو پیدا ہو کر زندہ رہ جاتے ہیں۔ ورنہ ہمارے پیارے ملک میں ہر ایک ہزار میں سے 50-47بچے نو زائیدگی میں اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ یہ شرح اموات ہمارے ہمسایہ ملک بھارت ، سری لنکا، اور بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ ان بچوں کو نا مناسب غذا ملتی ہے، نہ وقت پر طبی سہولیات۔ اکثر بے چارے اسہال جیسی بیماریوںسے جانبر نہیں ہو سکتے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور بچے پڑھائی میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔دانتوں کے مسئلے، بینائی کے مسئلے، اور غذائیت کی کمی سے نارمل نشو ونما اور تعلیمی ترقی متاثر ہوتے ہیں۔خصوصاً لڑکیوں میں تعلیم کی کمی صحت کی خرابی کی ایک بڑی وجہ بن جاتی ہے۔کیونکہ ایسی مائیں اپنے بچوں کو مناسب خوراک دینا نہیں جانتیں۔اور بچوںکی تعلیم میں بھی مدد نہیں کر سکتیں۔
اب ایک اور اہم شعبہ کی طرف آتے ہیں۔ وہ ہے نو جوانوں کی ہنر مندی کی تربیت۔پاکستان میں قومی سطح پر سب سے بڑا ادارہ ہے: نیشنل ووکیشنل اینڈٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC)جو وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے تحت کام کرتا ہے،صوبوںمیں دوسرے ادارے بھی ہیں جیسے TEVTA اور نجی شعبہ میں بھی۔تربیت کے مضامین میں سیاحت، آئی ٹی،بینکاری،ٹیکسٹائل اور تعمیرات وغیرہ میں سن 2025-2026کے لیے ہدف تین لاکھ پچاس ہزار رکھا گیا ہے۔ لیکن وفاقی پروگرام کے تحت گذشتہ سال 146,000افراد کو تربیت دی گئی۔2025کے جون تک 141,000افراد کو تربیت ملی۔مستقبل کے منصوبے بڑے ہیں لیکن کیا حاصل کر سکیں گے؟2026میں پنجاب میں ایک لاکھ نوجوانوںکی تربیت کا منصوبہ ہے۔اسی طرح مدارس میں2026میں بیس ہزار طلباء کو تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔ اور 2027 میں تیس ہزار۔کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس میں 53فیصد تربیت شدہ افراد نے چھ ماہ کے اندر روزگار حاصل کر لیا تھا۔سن 2022-2023کے دورانNAVTTC تربیت لینے والوں میں سے ، ۰۰۰،۲۵، افراد نے بیرون ملک ملازمت حاصل کی۔ اب خصوصاً سعودی عرب کے لیے 2025سے 2027کے درمیان ۰۰۰،۴۰، ۰۰۰،۱۰۰ اور ۰۰۰،۱۵۰ افراد کو تربیت دینے کا ہدف ہے۔
مندرجہ بالا جتنی تعداد کو تربیت دینے کا پروگرام ہے یہ تعداد ان نوجوانوں کی تعداد سے کہیں کم ہے جن کو ایسی تربیت چاہیئے۔ایک دفعہ پھر معاملہ وہیں ترجیحات کا آ جاتا ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button