
کینیڈا نے غزہ جانے والے فلوٹیلا کارکنوں کی گرفتاری پر اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بن گویر کی جانب سے جاری ویڈیو پر بھی ردعمل دیا۔کینیڈین وزیر خارجہ نے اسرائیلی سفیر کو کینیڈین شہریوں کی حفاظت سے متعلق وضاحت طلب کرنے کی ہدایت دی۔کینیڈین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کینیڈا پہلے ہی بن گویر پر اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیوں سمیت سخت پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ یہ پابندیاں تشدد پر اکسانے کے بار بار بیانات کے باعث لگائی گئیں۔دوسری جانب فریڈم فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں سے بدسلوکی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسرائیل کے خلاف عالمی غم و غصہ شدت اختیار کرگیا جب کہ اسرائیل سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈا، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز، بیلجیئم، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا گیا۔اس کے علاوہ جرمنی، برطانیہ، اسپین، پولینڈ، یونان، آئرلینڈ، جنوبی کوریا، قطر اور ترکیے کی جانب سے بھی مذمت کی گئی۔انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے غزہ جانیوالے فلوٹیلا کے گرفتار ارکان سے تضحیک آمیز سلوک کی ویڈیو شئیر کردی دوسری جانب برطانوی وزیرخارجہ یوویٹ کوپر نے کہاکہ اسرائیلی رویہ انسانی احترام اوروقارکےبنیادی معیارکی خلاف ورزی ہے۔ یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایاکلاس نے کہاکہ غزہ جانے والے امدادی کارکنوں کوہتھکڑیاں لگاکرزمین پربٹھانا توہین آمیز ہے۔ امریکی سینیٹرمرکلے نے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی اتمر بن گویر کا سلوک گھناؤنا اور غیر انسانی قرار دیا۔سینیٹر وان ہولن نے کہا اسرائیلی وزیر کا کیمروں کے سامنے یہ سلوک ہے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔



