Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

کیاامریکی صدر ایک کٹھ پتلی ہے؟

بس چند دنوں کی بات ہے کہ ددوھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔امریکی قوم مڈ ٹرم انتخابات میں جا رہی ہے۔اس میں صدر ٹرمپ کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ ہر ایسی ریاست میں جا کر ریپبلیکن امیدواروں کے حق میں تقریریں کر رہے ہیں جو اپنی کسی نہ کسی سیٹ کے لیے کھڑے ہیں۔ زیادہ تو سینیٹ کے امیدواروں کی حمایت میں، اور کچھ کانگریس کے امیدواروں کے حق میں۔یہ ایک روایت ہے۔ ڈیموکریٹس کے امیدواروں کے لیے سابق صدرابامہ اور کلنٹن تقریریں کر رہے ہیں۔ یہ امریکہ میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ اور اب بھی ہو رہا ہے۔ البتہ اس دفعہ مقابلہ کانٹے کا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ریپبلیکن کانگریس اور سینیٹ دونوں میں بمشکل اکثریت میں ہیں جو تھوڑی سیٹوں سے ہی تلپٹ ہو سکتی ہے۔یہ مڈ ٹرم الیکشنز اس لیے بھی اہم ہیں کہ ٹرمپ پر نیتن یاہو کا دبائو بہت زیادہ ہے کہ اس کو اور زیادہ فوجی امداد اور نقد امدادچاہیئے۔اس کے بغیر وہ فلسطینیوں کی نسل کشی جاری نہیں رکھ سکے گا۔اس مقصد کے حصول میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ کم از کم ٹرمپ اور نیتن یاہو میں،ا لبتہ ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ ٹرمپ تو نسل کشی نہیں چاہتا لیکن عزرائیل نے اس کے خلاف اتنے شرمناک ثبوت اکٹھے کئے ہوئے ہیں کہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں۔لا محالہ ٹرمپ نیتن یاہو کی ہر خواہش ماننے پر مجبور ہے۔ ایک گڑ بڑ کا امکان ضرور ہے کہ نیتن یاہو خود اپنے ملک میں الیکشنز لڑ رہا ہے اور اس میں اس کی کامیابی آسان نہیں۔ عزرائیلی اپنے ملک کی حرکات سے پوری طرح متفق بھی نہیں۔ بہت سے عزرائیلی فلسطینیوں کی نسل کشی سے خوش نہیں۔یہ بائیں بازو کی جماعتیں ہیں ان میں بھانت بھانت کے گروہ اکٹھے ہیں، بشمول ان کے جو اس بات پر یقین ہی نہیں رکھتے کہ یہودیوں کا کوئی وطن بھی ہونا چاہیے۔ نیتن جسے بی بی بھی کہتے ہیں، لیکوڈپارٹی کا قائد ہے۔ یہ دائیں بازو کی شدت پسند جماعت ہے۔ اس میںزیادہ تر یوروپین یہودی ہیں، اور یہ فلسطینیوں کی جانی دشمن ہے۔ یہ نہیں چاہتی کہ فلسطین میں ایک بھی فلسطینی رہے۔ اس کے لیے اگر انہیں سب فلسطینیوں کو تہ تیغ بھی کرنا پڑے تو انہیں کوئی عار نہیں۔ہم مانتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میںہٹلر نے بہت درندگی کے ساتھ بہت سے یہودیوں کو قتل کر دیا تھا، (اتنے نہیں جو یہودی بتاتے ہیں)، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اس کا بدلہ وہ فلسطینیوں سے لیں؟ فلسطینی کیوں کہ کمزور ہیں، انہیں پر ان کا بس چلتا ہے۔ حالانکہ بدلہ تو انہیںجرمنوں سے لینا چاہیے؟ یہودی بڑے کائیاں لوگ ہیں۔ ان کے منصوبے بڑے اور طویل المعیاد ہوتے ہیں۔ ان کی منصوبہ بندی عالمگیر ہوتی ہے۔ جیسے کہ لاطینی امریکہ کے ہر ملک میں، سوائے برازیل کے، ان کے اڈے ہیں یا تسلط اور اثر و نفوذ ہے۔یہ ان کا انتظام ہے کہ اگر کسی دن ان کو عزرائیل چھوڑنا پڑا تو یہ کس جگہ محفوظ رہ سکیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی سپریم قوت کو بھی اچھی طرح قابو میں کیا ہوا ہے۔اس کے لیے یہ اپنے ڈایا سپورا (یعنی مقامی یہودی آبادی) کو بڑے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ان کو اہم حکومتی عہدوں پر لگواتے ہیں۔خصوصاً امریکی کانگریس اور سینیٹ میں، ریاستی سیاسی کرسیوں پر، انتظامیہ میں،خصوصاً سٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جو امریکہ کا دفتر خارجہ ہے۔ یہ کام اتنا باریک بینی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اس کو پوری طرح سمجھنا بھی آسان نہیں۔ عزرائیلی حکومت کے پیغامات تیزی کے ساتھ سینا گاگوں(یہودی مندر) کے ذریعے پہنچا دئے جاتے ہیں، جو پوری ڈایا سپورا کو دنوں میں مل جاتے ہیں اور وہ بلا چوںو چرا ن پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مالی ذرائع پر ان کا پورا قبضہ ہے۔ جیسے سٹاک مارکیٹ کے دلال، بینکاری کے مراکز،وغیرہ۔ ہالی ووڈ کے ذریعے ان کے کارندے امریکیوں کے ذہنوں پر حکومت کرتے ہیں۔یہ بحث بہت لمبی ہے اس کو یہیں ختم کرتے ہیں۔
امریکی حکومتوں کو قابومیں رکھنے کے لیے، دارلحکومت میں ایک یہودی لابی کا اڈا ہے (AIPAC)۔یہ انتہائی طاقتور ادارہ ہے، اور یہ انتہائی چابکدستی سے یہودی ڈایاسپورا کے ساتھ ملکر امریکی صدور، وزراء، اور اعلیٰ افسروں کو اپنے احکامات پر عمل کرواتا ہے۔خواہ کسی ملک پر جنگ مسلط کرنی ہو، کسی کی ٹانگ کھینچنی ہو، کسی کی پگڑی اچھالنی ہو، کچھ بھی کروانا ہو۔صدرڈونلڈ ٹرمپ اور ان سے پہلے کہ کئی صدور اس لابی کی ہدایات پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اس سے ان کی زندگی آسان رہتی ہے۔صدر اوبامہ نے کتنے مسلمان ملکوں پر حملے کروائے، اور مسلمان قائدین کو مروایا، یہ سب اس لابی کے کہنے پر۔یہی وجہ تھی کہ اس کو امن کا نوبل پرائز دلوایا گیا۔اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ صاحب تلملا رہے ہیں کہ انہیں کیوں نہیں نوبل پرائز دیا گیا؟ اگر امریکہ ایران پر حملہ نہ کرتا، وینزویلا کے صدر اور رانی کو اغوا نہ کرتا ، فلسطینیوں کی نسل کشی میں عزرائیل کی مالی اور عسکری امداد نہ دیتا،تو شاید اسے انعام دلوا دیا جاتا۔ لیکن ان حرکات کے علاوہ یو کرائن کی جنگ، گرین لینڈ پر قبضہ کے اعلانات، وغیرہ کی وجہ سے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ ٹرمپ کو امن کا انعام دیا جاتا۔یہ تو ہمارے بوٹ پالیشئے قائدین کا شوشہ تھا جو انہوں نے ٹرمپ سے مراعات لینے کے لیے چھوڑا تھا، کہ ٹرمپ نوبل انعام کا حقدار ہے۔کیونکہ اس نے ایک نمائشی ہندو پاک جنگ کروائی اور رکوائی۔ جب ٹرمپ کو وہ انعام نہیں ملا جو وہ سچی مچی قبول کرنے کے لیے تیار تھا،تو اس کو بہت غصہ چڑھا اور اس نے ناروے کی پیس کمیٹی پر اپنا غصہ نکال دیا۔راقم کی رائے میں، اگر ٹرمپ یو کرائن کی جنگ بندی کروا دیتا ، عزرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی میں امداد نہ دیتا،اور ایران پر حملہ نہ کرتا تو شاید اس کو ورلڈ نوبل پیس پرائز مل جاتا؟ٹرمپ معلوم نہیں کن لوگوں کے ہتھے چڑھا ہوا ہے جو اس کوالٹے سے الٹا مشورہ دیتے ہیں۔ مثلاً بھائی نے اور نہیں تواپنے انتہائی تابعدار چھوٹے بھائی کینیڈا سے پنگا لے لیا۔بے سوچے سمجھے ۔ غالباً اس کے پیچھے بھی عزرائیل کامشورہ ہو گا۔ کینیڈا اور امریکہ کی تجارت اربوں ڈالروں میں ہوتی تھی اور امریکہ اپنی مرضی کی ڈیل کرواتا تھا۔ جس کسی نے بھی ٹیڑف بڑھانے کا مشورہ دیا وہ نہایت ناقص نظر آتا ہے۔ یہ مشورہ صرف بی بی کا ہی ہو سکتا ہے۔جسکو ٹرمپ نے کہا ہو گا کہ امریکہ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اس کی نسل کشی کی مالی امداد دے سکے،تو اس نے یہ مشورہ دیا۔ سیدھی سی بات ہے کہ ٹیرف لگانے کا براہ راست اثر عوام کی جیبوں پر پڑے گا۔ لیکن اس کافائدہ حکومتی خزانے کو ہو گا۔لیکن ایسا کرنے سے کیا عوام کو پتہ نہیں چلے گا؟ بالکل چلے گا۔ لیکن ٹرمپ بہادر کو وہ بلینز ڈالرز نظر آ رہے تھے جو قومی خزانے میں آنے والے تھے اور وہ اس رقم کو جیسے چاہے استعمال کر سکتا تھا؟ نہیں ایسا بھی نہیں۔ ٹیرف بڑھانے سے نہ صرف امریکی معیشت کو نقصان پہنچا، عوام بھی ناراض ہو گئے۔ اس پر سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ ایران کی جنگ میں پٹرول کی قیمتیں بہت بڑھ گئیں۔اس سے لوگوں کو پتہ چل گیا کہ یہ سب عزرائیل کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کاروائیوں کا نتیجہ اب لوگ ریپببلیکن پار ٹی کو ووٹ نہ دے کر نکالیں گے۔ ٹرمپ کو جو بھی مشورے ملے وہ چھوٹی ذہنیت کے لوگوں کے تھے۔ایک اور مشورہ ملا کہ تم گرین لینڈ پر قبضہ کر لو، وینزویلا میں تیل کے سب سے بڑے ذخیرے ہیں اس پر قبضہ کرو۔ کیوبا پر قبضہ کر لو، وغیرہ وغیرہ۔ ٹرمپ بھی سوچے سمجھے بغیر ہر مشورہ پر عمل کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کی فوج کے جو دانا جنرل تھے ان کو فارغ کر دیا۔اپنے زیرک جرنیلوں اور ساتھیوں کی ایک نہیں سنی۔اس نے یہ نہیں سوچا کہ جو لوگ اسے مشورے دے رہے ہیں ان میں ان کو اپنا فائدہ نظر آتا ہے نہ کہ امریکہ کا۔ڈونلڈ ٹرمپ اس قدر بی بی کے اثر میں آ گیا ہے کہ اس نے اپنے وفادارافسروں اور ماتحتوں کے مخلصانہ مشوروں کو ٹھکرا کر بی بی کی ہر بات کو آمنا و صدقنا کہا۔ تبھی نیتن یاہو نے کہنا شروع کر دیا کہ اتنا اچھا امریکہ کا صدر اسے کبھی نہیںملا جتناکہ ٹرمپ ہے۔ٹرمپ کو جس بات کا ڈر ہے کہ عزرائیلی جن کے پاس اس کی تصویریں ہیں، کمسن بچیوں کے ساتھ نا جائز جنسی تعلقات بناتے ہوئے،وہ کہیں امریکہ میں شائع نہ کر دیں۔وہ اتنی بڑی شرمندگی ہو گی کہ وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔اس لیے یہ بودا شخص ان کی ہر بات مانے چلا جا رہا ہے۔ابھی دو دن پہلے،ٹرمپ کے وزیر نے امریکہ کے سب سے بڑے جنرل کو جو منصوبہ بندی کا انچارج تھا،اس کو کھڑے کھڑے نکالدیا۔کوئی انکوائری نہیں، کوئی الزامات کی فہرست نہیں۔ صرف اس لیے کہ غالباً بی بی کو پسند نہیں تھا؟عوام تو یہ سب باتیں دیکھتے ہیں اور ان کی سزا الیکشن بوتھ میں دیتے ہیں۔ جب تک آپ یہ کالم دیکھیں گے، مڈ ٹرم الیکشنزکے نتائج آچکے ہوںگے۔ وہیں سے پتہ چل جائے گا کہ ٹرمپ کتنا مقبول عام لیڈر ہے؟امریکی جریدہ ٹائمز نے اپنی حالیہ اشاعت میں ٹرمپ کو سر ورق پر ڈالا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ٹائمزنے کسی شخص کو اپنےے سرورق پر اتنی دفعہ نہیں ڈالا جتنی مرتبہ ٹرمپ کو ۔ٹرمپ امریکہ کی ان ریاستوں میں مقبول تھا جہاں کے لوگوں کو نسل پرست، ریڈ نیکس کہتے ہیں۔ یہ لوگ جمہوریت، نسلی برابری، اور سیاہ فام کو برابر کے حقوق دینا، جیسی روایات پر یقین نہیں کرتے۔ اور حکومت کو بھی۔یہی لوگ تھے جوٹرمپ کی الیکشن میں فتح کا جشن منانے واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل کی بلڈنگ پر چڑھ دوڑے تھے۔اور توڑ پھوڑ کی۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ان لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں۔ زیادہ امریکی قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور مہذب ہیں۔ ٹرمپ نے پیسہ جائدادیں بنا کر کمایا۔ اس نے یہ گر سیکھا کہ ایک بلڈنگ بنائو پھر اس کو گروی رکھ کر اس پیسے سے دوسری، پھر تیسری، اور اس طرح وہ پراپرٹی کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔ٹرمپ اپنی بلڈنگز ایسی جگہ بناتا ہے جہاں زمین کی قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اور بلڈنگز کا ڈیزائن بھی منفرد ہوتا ہے۔ٹرمپ اور اس کی اولاد دنیا میں جہاں جاتے ہیں، وہ اپنے اصلی کام کو نظر میں رکھتے ہیں، اور اگر سودا بننے کا امکان ہو تو وہ بھی کر لیتے ہیں، اگرچہ سرکاری دوروں میں ایسا کرنا جائز نہیں سمجھا جاتا۔جیسے سعودی عرب میں مکہ کے قریب ٹرمپ کاہوٹل بنانا۔امریکہ میں صدر کی بہت عزت ہوتی ہے۔ اس لیے صدر اپنی حیثیت سے ہر طرح کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ صدر کو آسانی سے عہدے سے ہٹایا بھی نہیں جا سکتا۔ اور صدر کے پاس یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی مجرم کی سزا معاف کر دے۔ اس لئے صدر لوگوں سے غلط کام بھی کروا سکتا ہے۔ ٹرمپ ان سب طاقتوں کو جانتا ہے اور ان سے پورا فائدہ لینا بھی۔اس لیے ٹرمپ کی نہ دوستی اچھی اور نہ دشمنی۔ ٹرمپ نہ تو مسلمانوں کو اچھا سمجھتا ہے اور نہ پاکستانیوں کو۔ یہ تو اسے احکامات ملے کہ پاکستان کی فوج کا ایک جنرل اپنے قابو میں کرو اور اس کو بڑھائو۔اسی لیے ٹرمپ نے فیلڈ مارشل کو سر پر چڑھایا۔ جب دوسرے حکم آئیں گے تو اسے نیچے بھی پٹخ مارے گا۔عزرائیل پاکستان کو، اس کی ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے، خطرناک ملک سمجھتا ہے کیونکہ وہاں کی مذہبی جماعتیں عزرائیل کے خلاف ہیں۔ لیکن ابھی وہ اس کو چھیڑنا نہیں چاہتا۔ اور پیار محبت سے رکھنا چاہتا ہے۔اسی لیے ٹرمپ کو جو مشورہ دیا گیا ہے وہ فیلڈ مارشل کے سر پر دست شفقت رکھنے کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button