Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

وہ دئیے جو مذہب نہیں پوچھتے تھے ڈیلس کی نوراتری سے سندھ کی بے تعصب دوستیوں تک !

‎پردیس میں کچھ شامیں ایسی بھی آتی ہیں جب کسی اجنبی کی کھڑکی میں جلتا ہوا ایک دیا انسان کو ہزاروں میل کی مسافت طے کرا کے اُس گلی میں لا کھڑا کرتا ہے جہاں اس نے بچپن گزارا تھا۔ میں یہ بات اس لیے جانتا ہوں کہ اس ہفتے یہ میرے ساتھ ہوا ہے۔‎ڈیلس کی ہندو برادری ان دنوں نوراتری منا رہی ہے، عقیدت اور عبادت کی نو راتیں۔ مندر عقیدت مندوں سے بھرے ہوئے ہیں اور گھروں میں مٹی کے چھوٹے چھوٹے دئیے روشن ہیں۔ لوگ روزہ رکھتے ہیں، عبادت کرتے ہیں اور جسم کی خواہشوں کو لگام دے کر روح کی پاکیزگی کی جستجو کرتے ہیں۔ نوراتری کے بعد دسہرہ آئے گا اور دسہرے کے بعد دیوالی، جب روشنی گھروں کی دہلیز پار کر کے گلیوں میں بکھر جائے گی۔‎مگر میرے لیے یہ روشنیاں محض کسی دوسرے کے تہوار کی روشنیاں نہیں ہیں۔ یہ ٹنڈوالہیار کی روشنیاں ہیں، سندھ کے اُس چھوٹے سے شہر کی جہاں میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ یہ اُن گلیوں کی یاد ہیں جہاں ایک انسان سے دوسرے انسان کا فاصلہ آنگن کی ایک دیوار سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ وہاں ایک گھر کی شادی پوری گلی کا جشن ہوتی تھی، اور ایک گھر کا جنازہ پورے محلے کے چہروں پر لکھا ہوا غم بن جاتا تھا۔‎ہم وہاں ایک ساتھ بڑے ہوئے، ہندو بھی، مسلمان بھی، شیعہ بھی، سنی بھی اور دوسرے عقیدوں کے لوگ بھی۔ ہر ایک کی اپنی عبادت گاہ تھی، اپنی رسمیں اور اپنے مقدس دن تھے۔ اس سب کے نیچے اور ان سب کے درمیان ایک مشترکہ زندگی بہتی تھی۔ اس زندگی میں کسی کو یہ گمان تک نہ تھا کہ اس کے پڑوسی کا عقیدہ اس کے اپنے ایمان کے لیے خطرہ ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ہاں مذہب بدلوانے نہیں، خوشیوں میں شریک ہونے جاتے تھے۔ ہم کسی دوسرے کی عبادت کو اپنی عبادت نہیں سمجھتے تھے، مگر اس کے عبادت کرنے کے حق کی تعظیم ضرور کرتے تھے۔‎شاید لوگ اسی کو رواداری کہتے ہیں۔ مگر اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ یہ اس سے کچھ بڑھ کر تھا۔ یہ سندھ کی روح تھی۔ اسے کسی نام کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ ابھی تک کسی نے اسے للکارا نہیں تھا۔‎آج ایک عجیب سی کسک کے ساتھ مجھے اُن برسوں کے دو دوست یاد آتے ہیں۔‎پہلے تھے دیوی داس پرمانی۔ سرکاری ریکارڈ بتائے گا کہ وہ بلدیاتی کونسلر تھے، ایک مقامی سیاسی و سماجی شخصیت تھے۔ ریکارڈ درست ہوگا، مگر وہ آپ کو کچھ نہیں بتائے گا۔ وہ میرے دوست تھے۔ میں اُن دنوں نوجوان صحافی تھا اور وہ ہاتھ میں پریس ریلیز لیے میرے پاس آیا کرتے تھے۔ مسکراتے ہوئے اسے میری طرف بڑھاتے اور کہتے: "یہ میرا تعویذ ہے، پلیز یہ تعویذ لے لیں!”‎یہ ایک مذاق تھا۔ وہ خوب جانتے تھے کہ خبر کا اپنا وزن ہوتا ہے اور صحافی کا اپنا کام۔ لیکن اس مذاق میں ایسی بے ساختہ محبت چھپی تھی کہ اس کی گونج آج بھی میرے کانوں میں ہے۔‎میں ان کی خبر شائع کر دیتا، اور پھر اکثر ہم بیٹھ جاتے۔ چائے آ جاتی، پکوڑے آ جاتے، اور باتوں کا رخ شہر اور اس کے دکھوں کی طرف مڑ جاتا۔ سیاست کی باتیں ہوتیں، ٹوٹی نالیوں کی، عام لوگوں کی شکایتوں کی، اور اُن چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی جو کسی بھی قابلِ قدر زندگی کا بڑا حصہ ہوتی ہیں۔‎جو بات میں تب نہیں سمجھتا تھا، وہ آج سمجھتا ہوں۔ وہ چائے کبھی صرف چائے نہیں تھی، اس میں ایک پورے معاشرے کی مٹھاس گھلی ہوئی تھی۔ وہ پکوڑے محض کھانے کی چیز نہیں تھے، وہ ایک ایسی دوستی کا ذائقہ تھے جس میں کسی کے مذہب نے کوئی کڑواہٹ نہیں گھولی تھی۔ ہم دونوں میں سے کسی کے ذہن میں ایک لمحے کو بھی یہ سوال نہیں آیا کہ پیالی اٹھانے والا ہندو ہے یا مسلمان۔ ہم دوست تھے، اور دوستی کا کوئی مذہبی شناختی کارڈ نہیں ہوتا۔‎دوسرے دوست تھے لعل چند، جن کا تعلق طب کے شعبے سے تھا۔ ان کے ساتھ بچپن اور جوانی کی اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ یہاں سب کو سمیٹنا ممکن نہیں۔ طویل گفتگو، اچانک ملاقاتیں، اور تقریبات جن میں ہم شانہ بشانہ شریک ہوتے۔ ہمارے درمیان عقیدے کا اختلاف تھا، مگر انسانیت میں کوئی فرق نہیں تھا۔ جب ان کے مقدس دن آتے تو ان کی خوشی ہمارے دلوں تک بھی پہنچتی۔ ہم نے ان کی روایات سیکھیں، ان کی محفلوں میں گئے، اور ان کے گھر کی خوشیوں کو اپنی مشترکہ زندگی کا حصہ سمجھا۔‎یادوں کے اسی دریچے سے ایک اور چہرہ ابھرتا ہے۔ مالک یوسفانی آج حیدرآباد جیم خانہ کے روحِ رواں ہیں۔ اُن برسوں میں وہ ہمارے حلقۂ احباب کا حصہ تھے اور دیوی داس کے گہرے دوست تھے۔ ان کے بڑے بھائی صدیق یوسفانی بھی مجھے بہت عزیز تھے۔‎اس خاندان کے بارے میں جو بات مجھے سب سے زیادہ یاد ہے، وہ ان کے والد کا ایک عمل ہے۔ 1947 کی تقسیم کے بعد جب ہندوستان سے اجڑے ہوئے خاندان پاکستان پہنچے تو وہ اپنے گھر، اپنی گلیاں، اپنے رشتے اور نسلوں کی جمع شدہ یادیں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ایسے میں انہوں نے اپنے گھر کے دروازے ان کے لیے کھول دئیے۔ انہیں کھانا دیا، چھت دی، سہارا دیا۔ اپنے عمل کی سادہ سچائی سے انہوں نے ثابت کیا کہ انسان اور انسان کا رشتہ قوم، زبان یا عقیدے کی اجازت کا محتاج نہیں ہوتا۔‎ذرا سوچیے۔ ایک طرف تقسیم کے زخم تھے، جلے ہوئے گھر تھے، بکھرے ہوئے خاندان تھے۔ دوسری طرف ایک شخص اپنا دروازہ کھول کر ان زخموں پر محبت کا مرہم رکھ رہا تھا۔ سرحد زمین کو تقسیم کر سکتی ہے، مگر انسان کے دل میں بسنے والی محبت کو بانٹنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔‎یہ سب لوگ ایک ہی کہانی کے کردار ہیں۔ اُس سندھ کی کہانی جہاں عقیدے الگ تھے مگر دلوں کے درمیان دیواریں نہیں تھیں، اور جہاں آدمی اپنے مذہب سے نہیں، اپنے کردار اور اپنی محبت سے پہچانا جاتا تھا۔‎جب محرم آتا تو میں اُن مجالس میں جاتا جہاں شیعہ عزادار شہدائے کربلا کے نوحے پڑھتے تھے۔ ان کی مجلسیں، ان کا غم اور ان کی رسمیں ہمارے لیے اجنبی نہیں تھیں۔ ہم عقیدے کی ہر بات پر متفق ہوئے بغیر بھی ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا جانتے تھے۔‎اُن دنوں کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ تم شیعہ ہو یا سنی۔ کسی نے یہ جواب طلب نہیں کیا کہ ایک مسلمان لڑکا ہندو تہوار کی خوشی میں کیوں شریک ہے۔ شاید ہم وہ زبان ہی نہیں بولتے تھے جس میں ایسے سوال کئے جاتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی تھی جو انسان کو اس کے کردار، اس کی محبت اور دوسروں سے اس کے برتاؤ سے پرکھتا تھا۔ اس معاشرے میں یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا کہ کسی دوسرے کے مذہب کا احترام کرنے کے لیے اپنا مذہب چھوڑ دیا جائے۔‎آج امریکہ میں نوراتری کو دیکھتے ہوئے مجھے ٹنڈوالہیار کے وہ ہندو دوست یاد آتے ہیں جو ان راتوں کا کتنے اہتمام سے احترام کرتے تھے۔ بہت سے عقیدت مند روزہ رکھتے ہیں، گوشت اور بعض دوسری غذاؤں سے پرہیز کرتے ہیں، اور ہر ایک اپنی روایت کے مطابق جسم اور روح کی پاکیزگی کی جستجو کرتا ہے۔ یہ رسمیں ہر خاندان اور ہر علاقے میں مختلف ہیں، مگر ان کی تہہ میں وہی ضبط، وہی عقیدت اور وہی تڑپ موجود ہے۔‎پھر دسہرہ آتا ہے، جب بعض روایات میں راون کا قد آور پتلا نذرِ آتش کیا جاتا ہے، نیکی کی بدی پر فتح کی علامت کے طور پر۔ وہ جلتا ہوا پتلا محض ایک رسم نہیں، ہم سب کے لیے ایک پکار ہے کہ اپنے اندر بسنے والے غرور، ظلم اور نفرت کو شکست دیں۔‎مجھے اس میں ایک ہولناک گہرائی دکھائی دیتی ہے۔ اگر مقصد بدی کو جلانا ہے تو ہم اپنی نفرت کو کیوں نہیں جلاتے؟ ہم اپنے تعصب کو آگ کے حوالے کیوں نہیں کرتے، اور اُن دیواروں کو کیوں نہیں جو ہم نے خدا کے نام پر انسانوں کے درمیان کھڑی کر دی ہیں؟ آخر انسان کب تک باہر کے راون کو جلاتا رہے گا، جبکہ اپنے اندر کے راون کو زندہ رکھے اور خوب پالتا رہے؟‎اور پھر دیوالی آتی ہے، روشنیوں کا تہوار۔ ہر گھر میں دئیے جلتے ہیں، مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں، خاندان اور دوست اکٹھے ہوتے ہیں، اور روشنی کو اندھیرے پر فاتح قرار دیا جاتا ہے۔‎مگر مجھے اب یوں لگتا ہے کہ دیوالی کے دئیے صرف دہلیزوں پر نہیں جلنے چاہئیں، کچھ دئیے دل میں بھی روشن ہونے چاہئیں۔ ایک دیا برداشت کا، ایک محبت کا، ایک عقیدے کی آزادی کا۔ اور ایک اُس انسانیت کا جسے ہم اپنی سیاسی اور سماجی جنگوں میں کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔‎یوں ایک سوال بار بار میرے پاس لوٹ آتا ہے اور مجھے چھوڑتا نہیں: ہمیں ہوا کیا؟ وہ لوگ کہاں گئے جو ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھے؟ وہ محفلیں کہاں گئیں جن میں عقیدے الگ تھے مگر دل جدا نہیں تھے؟‎شاید یہ سوال صرف ٹنڈوالہیار کا نہیں۔ یہ ہمارے پورے خطے کا سوال ہے، اور سب سے بڑھ کر سندھ کا، جس کی تہذیب صوفیوں، فقیروں، درویشوں اور مختلف مذاہب کے اُن انسانوں نے سنواری تھی جنہوں نے ایک ساتھ رہنے کا مشکل ہنر سیکھ لیا تھا۔‎یہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی دھرتی ہے، سچل سرمست کی زمین ہے، سامی کی شاعری کا دیس ہے۔ یہاں محبت کو کبھی کسی ایک مذہب کی ذاتی جاگیر نہیں سمجھا گیا۔ یہاں صوفیانہ روایت نے انسان کے باطن کو اس کے نام اور اس پر لگے لیبل سے کہیں زیادہ اہمیت دی۔ اس سندھ میں جب کسی ہندو کے گھر خوشی آتی تو مسلمان دوست مبارکباد دینے پہنچ جاتے، اور جب کسی مسلمان کے گھر مصیبت آتی تو ہندو پڑوسی اس کے ساتھ کھڑے ہوتے۔‎یہ میں نے کسی کتاب میں نہیں پڑھا۔ یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‎مجھے آج بھی دیوی داس کی وہ مسکراہٹ دکھائی دیتی ہے جب وہ پریس ریلیز میرے سامنے رکھ کر اسے اپنا تعویذ کہتے تھے۔ مجھے آج بھی لعل چند کی رفاقت محسوس ہوتی ہے،وہ بے تکلف باتیں، وہ لمبی شامیں، وہ چائے اور تلتے پکوڑوں کی خوشبو جس میں کسی عقیدے کی تلخی شامل نہیں تھی۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ وہ سب آج کہاں ہوں گے، زندگی انہیں کن راستوں پر لے گئی ہوگی، اور وقت نے ان کے چہروں پر کتنی لکیریں کھینچ دی ہوں گی۔ مگر یادوں میں وہ ذرا بھی نہیں بدلے۔ وقت انسان کو بوڑھا کر سکتا ہے، دوستی کی یاد کو نہیں۔‎پردیس نے مجھے ایک اور بات بھی سکھائی ہے۔ انسان اپنے وطن سے ہزاروں میل دور جا سکتا ہے، مگر اپنا بچپن اپنے ساتھ لئے پھرتا ہے۔ آپ ملک بدل سکتے ہیں، شہر بدل سکتے ہیں، حتیٰ کہ زبان بھی بدل سکتے ہیں۔ لیکن اُن گلیوں کو اپنے اندر سے نہیں نکال سکتے جہاں آپ نے پہلی بار دوستی، محبت اور انسانیت کے معنی سیکھے تھے۔‎سو آج، جب امریکہ میں نوراتری منائی جا رہی ہے اور دیوالی چند ہفتوں کے فاصلے پر ہے، میں ٹنڈوالہیار کے اُن دوستوں کو یاد کر رہا ہوں جنہوں نے پہلی بار اپنے تہواروں اور رسموں کے دروازے مجھ پر کھولے تھے۔ انہوں نے مجھے وہ سبق دیا جو شاید کوئی کتاب اتنی سادگی سے نہ دے پاتی،کسی دوسرے انسان کی خوشی میں شریک ہونے کے لیے اس کا ہم مذہب ہونا ضروری نہیں، انسان ہونا کافی ہے۔‎آج جب دنیا کو دیکھتا ہوں، جہاں عقیدے کے نام پر تقسیم ہر روز گہری ہوتی جا رہی ہے، تو میرے اندر کچھ دکھنے لگتا ہے۔ کاش ہم اپنے بچوں کو نفرت کے بجائے دوستی کا ورثہ سونپ سکیں۔ کاش وہ پھر ایسے محلوں میں پروان چڑھیں جہاں اذان سن کر کوئی مندر سے نفرت کرنا نہ سیکھے، اور مندر کی گھنٹی سن کر کسی مسلمان کو اپنا ایمان خطرے میں محسوس نہ ہو۔ کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ کسی دوسرے کے حقِ عبادت کا احترام ہمارے اپنے عقیدے سے غداری نہیں، بلکہ ہماری اخلاقی بلندی کا پیمانہ ہے۔‎ہم نے ایک خوبصورت زمانہ دیکھا، اور مجھے یقین نہیں کہ ہمیں اس کا ادراک تھا۔ اختلافات تھے، مگر ہر اختلاف دشمنی نہیں بنتا تھا۔ عقیدے الگ تھے، مگر بیٹھک مشترک تھی۔ کسی کو اپنی خوشی میں شریک کرنے سے پہلے اس کا مذہب نہیں پوچھا جاتا تھا۔‎سو ڈیلس سے میں ہر اُس ہندو دوست کو محبت، احترام اور نیک تمنائیں بھیجتا ہوں جو اس وقت نوراتری منا رہا ہے اور جلد دیوالی کے دئیے جلائے گا، پاکستان میں، بھارت میں، امریکا میں اور دنیا کے ہر گوشے میں۔‎میری دعا ہے کہ یہ روشنیاں گھروں اور مندروں تک محدود نہ رہیں بلکہ انسان کے دل میں محبت اور رواداری کی لو جگائیں۔ کیونکہ اندھیرا ہمیشہ رات سے نہیں آتا،کبھی کبھی نفرت انسان کے اندر ایسا اندھیرا پیدا کر دیتی ہے جسے ہزار چراغ مل کر بھی دور نہیں کر پاتے۔ اور روشنی ہمیشہ دئیے سے نہیں آتی ،کبھی ایک دوست کی مسکراہٹ سے آتی ہے، کبھی چائے کی ایک پیالی سے، کبھی پکوڑوں کی ایک پلیٹ سے، یا بس کسی کے دکھ میں اس کے ساتھ کھڑے ہو جانے سے۔‎ٹنڈوالہیار کی وہ شامیں شاید کبھی لوٹ کر نہ آئیں، مگر ان کی روشنی آج بھی میرے اندر زندہ ہے۔ شاید اسی لیے امریکا میں جلتا ہر دیا مجھے سندھ کی کسی پرانی گلی میں لے جاتا ہے۔ دیوی داس پرمانی وہاں مسکرا رہے ہیں، ہاتھ میں پریس ریلیز لیے۔ لعل چند دوستوں کے بیچ بیٹھے ہیں۔ چائے تیار ہے اور فضا پکوڑوں کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔ کسی کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان۔‎وہاں، کچھ اور ہونے سے پہلے، ہم انسان تھے۔‎کاش، ہم پھر سے انسان ہونا سیکھ جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button