جرمنی میں کم عمر بچیوں سے شادی کے 350 سے زائد کیسز ریکارڈ

جرمنی میں کم عمری کی شادی کے 358 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے صرف 8 شادیاں منسوخ ہو سکی ہیں۔جرمنی کی ریاست بیڈن ورٹمبرگ میں 2012 سے اب تک کم عمری کی شادی کے 358 کیسز سرکاری ریکارڈ میں سامنے آئے ہیں۔ یہ انکشاف ریاستی وزارتِ داخلہ کی جانب سے پارلیمانی سوال کے جواب میں ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان 358 کیسز میں سے صرف 8 شادیوں کو قانونی طور پر منسوخ کیا گیا، جبکہ تقریباً 350 معاملات دیگر وجوہات کی بنا پر ختم ہوئے یا منسوخی کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔ان وجوہات میں کم عمر فریق کا کارروائی مکمل ہونے سے پہلے بالغ ہوجانا یا شریکِ حیات کا انتقال بھی شامل ہے۔ایک انتہائی کم عمر کیس میں عراق سے تعلق رکھنے والی صرف 11 سالہ لڑکی کی شادی 17 سالہ لڑکے سے ہوئی تھی، جسے 2020 میں منسوخ کیا گیا۔ ریکارڈ میں 12، 13 اور 14 سال کی لڑکیوں کی شادیوں کے کیسز بھی موجود ہیں۔رپورٹ میں پاکستان، شام، عراق اور افغانستان سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے کیسز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ اعداد پورے جرمنی کے نہیں بلکہ بیڈن ورٹمبرگ ریاست کے ریکارڈ سے متعلق ہیں۔



