عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹ مسترد کرنے سے زمینی حقائق نہیں بدلیں گے، چودھری سرور

لاہور ( آصف اقبال ) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس مسترد کرنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے اور نہ ہی مشکلات کا شکار عوام کو ریلیف ملے گا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے بعد آٹا اور روٹی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ مہنگی توانائی، سیاسی عدم استحکام، کرپشن، دہشت گردی اور سرخ فیتہ کلچر معاشی مسائل میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔چودھری محمد سرور نے کہا کہ کورونا وبا، سیلاب اور جنگوں کو ناقص طرزِ حکمرانی کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مالیاتی انتظام بہتر بنانے اور قابل، باصلاحیت ماہرین کو پالیسی سازی میں شامل کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سیاسی، سماجی اور معاشی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی رپورٹس کو مسترد کرنا کافی نہیں، کیونکہ ایسی رپورٹس عالمی سرمایہ کاروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ محض ایک بیان سے ان رپورٹس کی اہمیت ختم نہیں کی جا سکتی۔سابق گورنر پنجاب نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے سے صنعتی، زرعی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ جس ملک میں کاروباری طبقے کو اگلے روز کی پیداواری لاگت کا اندازہ نہ ہو، وہاں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور پٹرول کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کے بعد عام شہری کے لیے بچوں کی فیسیں ادا کرنا اور گھر کا کچن چلانا دشوار ہو چکا ہے۔ اربابِ اقتدار و اختیار اگر عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ کریں۔



