ہفتہ وار کالمز
نفرتوں کے اہداف

ذاتی انا کے سیلاب میں سوچ و سمجھ چونکہ کسی گرداب میںجب ڈوب چکی ہوتی ہے تو ایسے میں نفرتوں کے بھوت محبتوں کے ہر گلشن کو ویران کرنے میں دیر نہیں کرتے یوں وہ اپنی نفرتوں کے اہداف کو مکمل کرنے میںانسانیت کا وجود کرہ ارض سے مٹانے میں سارے وسائل بروئے کار لاتے ہیں صدیاں گزر گئی ہیں مگر نفرتوں کے یہ معمار آج بھی کسی دوسرے کو اپنی برابری میں دیکھنے کا تحمل نہیں رکھتے تو پھر بھائی چارگی کی بجائے کشیدگیوں کا جنم ہو جاتا ہے دنیا جہنم کا اک نمونہبن جاتی ہے، ہر کمزور کو گناہ گار اور بے بس لاچار کو بوجھ گردانے لگتی ہے موجودہ دنیا میں پھیلی کشیدگیاں انسانی عدم برداشت کی وجہ سے پنپتے ہوئے انسانیت کا چہرہ سیاہ کر رہی ہیں ۔دنیا میں پھیلی حالیہ کشیدگی جو امریکہ ،اسرائیل اور ایران کے مابین جاری اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ تیسری عالمی جنگ کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں سفارتی وفاداریاں بھی ایسے اوپر نیچے ہو رہی ہیں کہ گماں ہی نہیں ہوتا کہ کون کس کے ساتھ ہے اُمت ِ مسلمہ کے ممالک تو حسب ِ سابقہ غزہ والی صورت حال پر جیسے ماتم کناں تھے لیکن عملی مدد یا کوئی جامع اقدام کرنے سے گریزاں رہے ان کی وہی پالیسی اس موجودہ کشیدگی پر بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جس سے اُمت مسلمہ کا شیرازہ (اللہ نہ کرے )بکھرتا محسوس ہو رہا ہے بعض ممالک فرقہ واریت کے جال میں تو پھنستے ہیں مگر کلمہ طیبہ کی تسبیح میں خود کو نہیں ڈھالتے، تو یکجہتی کا نہ ہونا مسلم دشمن قوتوں کے لئے ایک کھلا دروازہ بن جاتا ہے وہ جب چاہیں ان میں دڑاریں ڈال دیتے ہیں ۔ ایران کی جوابی کاروائیوں میں قطر ،دوبئی کے اطراف پر حملہ آور ہونا اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا دراصل امریکی و عرب امارات کے سفارتی تعلق پر ناراضگی کا اظہار بھی ہے اور ایران ان مسلم ممالک کی اسرائیل و امریکہ کی غیر ضروری محبت میں گرفتاری بھی ہے گو کہ عرب امارات ،سعودی عرب و دیگر منسلک عرب ممالک اپنی خیر خواہی کی غرض سے ایران کے مدمقابل نہیں آرہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دیتا ہے تو ان کے جینے کے راستے دوبھر ہو سکتے ہیں ایران ابھی آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،قطر ، کویت اور بحرین متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان ممالک کے لئے غذائی اجناس کی فراہمی ،ادویات کی ہسپتالوں میں دستیابی وغیرہ بھی سمندری راستے سے آنا معمول ہے حالانکہ اس کشیدگی کا اصل ذمہ دار اسرائیل ہے جو امریکی ایماء پر غزہ میں بیگناہ مسلمانوں کا خون بہانے کے بعد اب ایران کے دستیاب وسائل گیس ،پٹرول ،معدینات وغیرہ پر قابض ہو کراُسے ایٹمی طاقت بننے روکنا ہے باالفاط سادہ ایران کو کمزور کر کے اُسے کمزور بے بس کرنا مقصد ہے یوں خطے میں اپنا رسوخ بڑھانے کے سوااور کچھ نہیں جسے دورس نتائج کا حامل نہیں قرار دیا جا سکے البتہ ایران کی موجودہ قیادت کو ہٹاکر دوسری قیادت کو اپنی مرضی کے ایجنڈے پر عمل پیرا کروانا جمہوری روایات کی بیخ کنی کے علاوہ غیر ضروری مداخلت ہے جسے ہٹلر کی پیروی کہنا بے جا نہیں لگتا۔ حکومت پاکستان کو ایسے خیالات سے لدی بڑی طاقتوں کا حصہ بننے کی بجائے آنے والے وقتوں میں اپنے دفاعی حصار کو مزید مضبوط کرنا انتہائی ناگزیر ہے افغانستان کے دہشت گرد جو بھارت کی ایماء پر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے بیتاب ہیں لیکن ہماری پاک فوج کی مضبوط دفاعی کاروائیوں کی وجہ سے انھیں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے نفرتوں کے ان اہداف کو مٹانا اور کسی ملک کے داخلی نظام میں بڑی طاقتوں کا حائل ہونا انسانیت کا معیار نہیں یہ درندگی ہے جو نہ جانے کیوں اقوام متحدہ کے اکابرین کو نظر نہیں آرہی ہیں پھر امریکہ کا اس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے دستیاب وسائل پر قابض ہونا فتح نہیں رہزنی ہو گی جس سے نفرتوں کے اہداف مزید پھیل کر امن کو تاراج کر دیں گے امریکہ کسی کے لئے نہیں انسانیت کی بقاء کے لئے ہی سوچ لے۔



