معاہدہ

ہم پچھلے چند ہفتوں سے امریکہ ایران جنگ پر لکھ رہے ہیںیہ جنگ دنیا کے سب سے طاقت ور ملک امریکہ اور ایک معاشی طور پر پسے ہوئے ملک ایران کے درمیان ہے،اس جنگ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران بہت نقصان اٹھانے کے باوجود ہار نہیں مان رہااور یہی بات امریکہ سمیت دُنیا کو حیران کئے ہوئے ہے،ایران کی یہ بھی کامیابی ہے کہ وہ دنیا کی سپر پاور کو مذاکرات کی میز پر لے آیا ہے ایران کی بھی دس شرائط ہیں اور امریکہ کی پندرہ شرائط،ایران مسلسل امریکہ کے دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے،اور امریکہ کی خواہش ہے کہ بہت کمزور ایران ہماری طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دے اور ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا،ایران کی یہی مضبوطی امریکہ کو پریشان کئے ہوئے ہے امریکہ کے پاس اس کے سوا اور کوئی حل نہیں کہ وہ ایران پر دوبارہ حملہ کر دے مگر شومئی قسمت سے امریکہ کے اپنے اندرونی مسائل ہیں اور ٹرمپ ان مسائل سے نظریں نہیں چرا سکتے،No Kingsکی تحریک چل چکی ہے،اور یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ٹرمپ عالمی قوانین کو روند رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہی قانون ہے اور وہی خود کو روک سکتے ہیں،یہ طرزِ عمل ہمیں تاریخ میںدو چار صدی پہلے ملتا ہے ہزار سال پیچھے چلے جائیں تب بھی یہی طرزِ عمل نظر آتا ہے کہیں دوسرے ملکوں کو مطیع کرنے کی خاطر جنگیں ہوئیں تو کہیں دولت کے حصول کے لئے حملےکئے گئے یوں بھی ہوا کہ کسی شہزادی کا حصول بھی جنگ کی وجہ بنا یہ مضحکہ خیز لگتا ہے کہ ایک عورت کی خاطر ہزاروں سپاہیوں کو جان دینی پڑ جائے کہ یہ ظلِ الہی کا حکم ہے،بہت سی جنگوں کا جواز ملتا ہے اسباب مل جاتے ہیں مگر بہت سی جنگوں کا کوئی جواز نہیں ملتا مگر مورخ جوا زتلاش کر لیتے ہیں سکندرِ اعظم کا فتوحات کرتے ہوئے جہلم تک چلے آنا حیران کن تو ہے مگر کوئی جواز نظر نہیں آتا،اسی طرح چنگیز خاں،ہلاکو خان، احمد شاہ ابدالی ،محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کے حملوں کی کوئی وجہ نہ تھی،یہ ایک رویہ ہے جو حکمرانوں میں پایا جاتا ہے اور جس کو طاقت نصیب ہو وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ ضرور کرتا ہے،ٹرمپ کا بھی شائد یہی رویہ ہو،ہر چند کہ کہا جا رہا ہے اسرائیل کے کہنے پر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کر دیا،یہ تو تیسری دنیا کے ملکوں کے محلوں میں ہوتا ہو کہ کسی کے اکسانے پر محلے کے بد معاش نے کسی پر چھری کاوار کر دیا ہو یا کسی سیاست دان کے کہنے پر کسی غنڈے نے سیاست دان کے مخالف کو قتل کر دیا ہو،کہتے ہیں کہ نیتن یاہو ایران پر حملہ کرنے کا پلان اوباما، بش، اور بائیڈن کے پاس لے گئے تھے مگر ان سب نے انکار کر دیا،مذکورہ بالاسارے صدور سیاست دان تھے اور ان کا طویل سیاسی تجربہ تھا،ٹرمپ کو ایک outsider کہا جاتا ہے،جن کا تعلق شو بز سے رہا ہے ان کاتعلق سیاست سے نہیں رہا اور شائد وہ Political Wisdom سے آشنا نہ ہوں،اس کا خمیازہ نہ صرف ایران،خود امریکہ اور ساری دنیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے،ٹرمپ شائد امریکہ کے واحد صدر گنے جائینگے جن کو تاریخ میں زندہ رہنے کا شوق نہیں،وہ لمحۂ موجود میں طاقت کا مظاہرہ کریں گے،امریکیوں کے ٹیکس ڈالرز پر ،ناکام ہوئے بھی تو واپس ٹرمپ ٹاور میں آرام کریں گے اس بات سے بے نیاز کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کے درجنوں ملکوں اور خود امریکی عوام کو کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑاوہ کتاب پڑھتے بھی نہیں وہ کوئی کتاب لکھیں بھی نہیں ،کبھی کبھی ان کو خود اپنے اوپر اختیار نہیں رہتا اور وہ بیہودہ زبان بھی استعمال بھی کر لیتے ہیں،وہ میڈیا پر بھی برس پڑتے ہیں،ان کا معیار اب یہ ہے کہ وہ دوسرے درجے کے اخبارات NEW YORK POST سے بات کرنا پسند کرتے ہیں،وہ WALL STREET JOURNAL,NEW YORK TIMES,اور CNNسے نالاں رہتے ہیںکبھی WASHINGTO POSTحکومتوں کا پسندیدہ اخبار تھا اب اس کو دھتکار دیا گیاٹرمپ کا خیال ہے کہ یہ سب منفی صحافت کرتے ہیں ۔امریکہ ایران جنگ کو پچاس دن ہو گئے،اس دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ہزاروں ٹن بارود برسایامگر ایران کی Resilienceبھی دیدنی تھی اس نے اسرائیل کا ناقابل تسخیر ہونے کا گمان بھی چکنا چور کر دیااور امریکہ کو بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ امریکہ کے ابراہام لنکن اور جیرالڈ فورڈ جیسے بہت بڑے بحری بیڑے کو نقصان پہنچایا اور انہیں پیچھے جانے پر مجبور کر دیااور آخرِ کار امریکہ کو مذاکرات کی میز پر آنا پرا،ایرانی وفد باقر قالیباف کی قیادت میں اپنے ستر ماہرین کے ساتھ اسلام آباد آیا امریکی وفد کی تیاری مکمل نہ تھی مذاکرات ہوئے اور یہ امریکہ تھا جو مذاکرات مکمل نہ کر سکااور جے ڈی وینس کو واپس بلا لیا گیا،یہ امریکہ کی سیاسی پسپائی تھی،ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا ،ہر چند کہ اس سے امریکہ کو نقصان نہ ہوا مگر امریکہ کے اندر مہنگائی کا طوفان آگیاٹرمپ اچھے بزنس مین ہیں انہوں نے اپنے بیانات کے ذریعہ تیل کی قیمتوں پر سٹہ کھیلنے والوں کے وارے نیارے کرا دئے تیل کمپنیاں بھی منافع کماتی رہیں،امریکہ نے کہا کہ دنیا ان سے تیل خرید لے مگر کامیابی نہ ہوئی،ایران جھک جائیگا،آبنائے ہرمز بند نہیں ہوگی،خلیجی امارات محفوظ رہیں گی،اسرائیل محفوظ رہے گا،امریکہ کی فوجی طاقت کا سحر نہیں ٹوٹے گا،ٹرمپ ان گمانوں میں رہے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے وجہ صرف یہ ہے کہ ٹرمپ ناتجربہ کار ہیں اور ان کو سیاست کا علم نہیں، وٹکاف بھی Realtor ہیں اور سیاست سے نا بلد،جیرالڈ کشنر جوان ہیں ان کی صلاحیت صرف یہ کہ وہ ٹرمپ کے داماد ہیں اور اسرائیل کے خدمت گزار،مذاکرات کے پہلے دور میں امریکہ کےیہ حضرات ایران کو کسی بات پر قائل نہ کر سکے اور مذاکرات ختم کرنے پڑے،اب کچھ مشیروں نے ٹرمپ کومشورہ دیا کہ آبنائے ہرمز کا بلاکیڈ کرکے ایران کو نقصان پہنچایا جائے اور ایسا ہو گیا اب دنیا بھر کے اخبارات ٹرمپ کومورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ عالمی معیشت کو برباد کر نے کا ذمہ دار ٹرمپ ہے۔ ناکہ بندی تو کردی اور اس بات پرخوش بھی ہیں کہ ایران کو نقصان ہو رہا ہے مگر عالمی معیشت کا کیا ہوگا یہ بھی نہیں سوچا کہ ناکہ بندی کب تک؟اب ایران نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے شرکت سے انکار کر دیا ہے امریکہ نے ایران کے دو تجارتی جہاز پرقبضہ کر لیا ہے تو ایران نے بھی پانامہ اور لائیبیریاکے جہازوں کو پکڑ لیا،ایران کی شرط ہے کہ ناکہ بندی ختم ہوگی تو مذاکرات ہونگے،اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے نے کہا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کر دے گاامریکہ نے اس کی تردید نہیں کیاور ٹرمپ نے چھتیس سے بہتر گھنٹوں کے اندر مذاکرات دوبارہ ہونے کی نوید سنائی ہے ،مذاکرات اب ایران کی شرائط پر ہی ہونگے اور ٹرمپ کے چین کے دورے سے قبل ہی ہونگے اور یہ بھی ضروری ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں کچھ تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ عبوری معاہدہ ہو سکتا ہے شائد ایران عبوری معاہدہ قبول نہ کرے اور ضمانتیں مانگے،اگر ضمانتیں نہ دی جا سکیں تو کیا معاہدہ نہیں ہوگا اور ٹرمپ چین خالی ہاتھ جائیں گےبیک ڈور چینل مذاکرات جاری ہیںپاکستان بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے مگر تاحال بات نہیں بن رہی ،دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکانات نہیں ہیں معاہدہ دونوں چاہتے ہیںایران کپڑے جھاڑ کر کھڑا ہو گیا ہے مگر امریکہ کی کمر میں درد ضرور ہے ایک سابق سفیر کہہ رہے تھے کہ اس بار ایران امریکہ کو بھاگنے نہیں دے گا ایک اور سابق سفیر کا کہنا تھاکہ ایران امن چاہتا ہے کیونکہ ایران کی معاشی حالت بہتر نہیں ٹاک شوز میں سابق سفیروں کی رائے لی جاتی ہے مگر میرے خیال سابق سفیر ریٹائر ہو کر سفارتی کاوشوں سے دور ہو جاتے ہیں ان کا تجزیہ سطحی سا ہوتا ہے ان کے مقابلے میں ریٹارڈ سکریٹری خارجہ کا نکتہ نظر زیادہ قابل قبول ہوتا ہے اور وہ سفارتی پیچیدگیوں سے واقف ہوتے ہیںآج عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں سابق سکریٹری خارجہ جلیل عباس مبینہ طور پر اپنا تجزیہ پیش کر رہے تھے ان کی نظر ایران اور امریکہ جنگ پر بہت گہری ہے وہ کہہ رہے تھے کہ ٹرمپ دنیا کی معیشت کو تباہ کرکے امریکہ کے لئے آسانیاں پیدا کرناچاہتا ہے یورپ جتنا کمزور ہوگا وہ امریکہ پر dependentہوگا یہ سارے مقاصد ایران جنگ سے حاصل ہو رہے ہیںاور اسرائیل کو اس کے فوائد حاصل ہو رہے ہیں ،کم از کم میں ان کے تجزیہ سے یہی سمجھ پایا،بہر حال ایران معاشی طور پر کمزور ہونے کے باوجود اپنا Upper Handرکھتا ہے اخلاقی طور پر ایران کے دلائل مضبوط ہیں ،امریکہ اگر ایران کے دس کے دس نکات مسترد بھی کر دے تب بھی مشرق وسطی کی سیاست بدل چکی۔ شنید یہ بھی ہے کہ قطر بھی پاکستان کے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ چاہتا ہے،یہ اگر خواہش بھی ہو یا یہ افواہ بھی ہو تب بھی یہ Feelers کام کر رہے ہیں،مشرق وسطی پر ایران کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیںایران کا اگر امریکہ سے معاہدہ ہو گیا تو ان اثرات میں اضافہ ہوگا اور خلیجی ریاستیں چاہیں گی کہ ایران سے پر امن تعلقات رکھیں جائیں اور سفارتی تعلقات میں بھی اضافہ ہو،اور یہ بات فطری سی ہے ہم اپنے پڑوسی نہیں بدل سکتے ایران سے خلیجی ممالک کی دوستی ہو جاتی ہے سفارتی تعلقات قائم ہو جاتے ہیں تو شائد امارات اور قطر اور سعودیہ کو بھی اپنے دفاع پر اتنا خرچ نہ کرنا پڑے جتنا وہ اب کرتے ہیں اور امریکہ اسی پیش منظر سے ڈرتا ہے گزشتہ چالیس سالوں سے مشرق وسطی میںامریکہ کسی نہ کسی لولے لنگڑے بہانوں سے بارود برساتا ہے اور چلا جاتا ہے اس حماقت کو اب بند ہونا چاہیئے اس کا احساس خلیجی ممالک کو جس قدر جلد ہو جائے بہتر ہے۔



