غلام اپنے سامراجی آقا کیلئے بچھے جارہے ہیں !

کم ظرف کی پہچان یہ ہے کہ اسے تھوڑی سی پھونک دی جائے تو وہ غبارہ کی طرح پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوا جاتا ہے !یہی حال، بلکہ اس سے کہیں بدتر حال ، اس غاصب طاغوتی ٹولہ کا ہے جو یزیدِ وقت عاصم منیرکے پرچم تلے گذشتہ تین چار برس سے ، جب سے اس نے اپنے سامراجی آقا کی سازش سے عمران خان کی منتخب حکومت کا تحتہ الٹا ہے، پاکستان پر مسلط ہے۔گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں مظلوم ایران اور ظالم طاغوتی طاقت امریکہ کے درمیان مذاکرات کا جو دور ہوا تھا پاکستان اس میں ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا۔ دیکھا جائے تو پاکستان کو ثالثی کہنا بہت بڑی رعایت ہوگی۔ اصل میں پاکستان کا کردار ایک سہولت کار سے زیادہ نہیں تھا لیکن بہر حال پاکستان کے اس کردار کو دنیا نے سراہا اور ایک غاصب حکومت کو وہ خراجِ تحسین مل گیا جس کی وہ اپنی بدافعالی کی بنیاد پر کسی طرح مستحق نہیں تھی۔مستحق یوں نہیں تھی کہ پاکستان کے تمام سابقہ طالع آزماؤں ، جنہیں میں بونا پارٹ کہتا ہوں، کے مقابلہ میں یہ یزیدی طالع آزما، خود ساختہ فیلڈ مارشل، عاصم منیر، اپنے افعال و کردار کی بنا سے بد ترین اور ظالم ترین ہے۔ لیکن اپنے پیشروؤں کی مانند یہ بھی امریکی سامراج اور طاغوت کا غلام ہے اور ہرپیشرو غلام سے دو ہاتھ اپنے آقا کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر ہے۔یوں نہ ہوتا تو بھلا کیسے ممکن تھا کہ ٹرمپ جیسا نرگیسیت کا مارا، انا پرست، عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل کہہ کے اُسے کھمبے پہ چڑھا دیتا۔ لیکن جہاندیدہ جانتے ہیں کہ ٹرمپ اس ظالم و قاہر کو اتنی ہوا کیوں دے رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ امریکہ ایران کے ساتھ معرکہ میں اپنا اُلو سیدھا کر رہا ہے۔امریکی سامراجی زعما تو بار بار یہ کہتے آئے ہیں کہ انہیں پاکستان سے کوئی کام لینا ہوتا ہے،دیگر معنوں میں انہیں پاکستان کو جب بھی استعمال کرنا ہوتا ہے تو وہ پاکستان میں اپنے مہرے، یعنی پاکستانی جرنیل استعمال کرتے ہیں، ان کا پیٹ بھرتے ہیں، کشکول میں ڈالر ڈالتے ہیں اور اپنی من مانی ان سے کرواتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی کام ختم تو پیسہ ہضم ہوجاتا ہے اور پاکستان کی وہی دو ٹکے کی اوقات سامراج کی نظر میں رہ جاتی ہے اور پاکستان، جسے فخر ہے کہ وہ مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت ہے، کو استعمال شدہ ٹوائلٹ پیپر کی طرح کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے !لیکن بےغیرت عسکری طالع آزماؤں کو اس بے غیرتی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان کی رسوائی ہوتی ہے لیکن ان کی تجوریاں تو بھر جاتی ہیں نا۔یہی وجہ ہے جو سامراجی آقا کی خدمت کیلئے یزیدی جرنیل ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اپنے عوام اور سیاسی مخالفین کو آنکھیں دکھاتے ہیں لیکن آقا کیلئے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے رہتے ہیں۔یہی اس بار بھی ہو رہا ہے!
ایرن- امریکہ مذاکرات کا پہلا دور یوں تشنہ اور لاحاصل رہا تھا کہ امریکی سامراج کی نیت میں فتور تھا اور ہے۔ فتور نہ ہوتا تو ایران پر بلا جواز حملہ کیوں ہوتا ؟ اور اگر امن کی طلب ہوتی تو پھر جارحیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی!طاغوت کی لغت میں صلح کرنا نہیں ہے اور سامراجی گروگھنٹال ۔ٹرمپ، کی روزو شب ہرزہ سرائی اس کا ثبوت ہے!پہلے دورِ مذاکرات کی تشنگی کاغذ پر لکھی نہیں گئی تھی کہ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کردیا اور امریکی بحریہ کہ جہازوں نے ایران کو آمد و رفت کے آبی راستے بند کردئیے۔گن بوٹ ڈپلومیسی سامراج کا پرانا حربہ ہے۔ برطانیہ نے پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی کی بحری ناکہ بندی کرکے سات آٹھ لاکھ بےگناہ شہریوں کو فاقہ کی نذر کردیا تھا لیکن اس کی طاغوتی پیشانی پر شرمندگی کی ایک شکن بھی نمودار نہیں ہوئی۔امریکی سامراج نے کیوبا کو 1960ء سےاپنے بحری حصار اور نرغہ میں رکھا ہوا ہے اور آج بھی ٹرمپ کا نعرہء مستانہ یہ ہے کہ وہ ایران سے فارغ ہوکے کیوبا کو اپنا شکار بنائے گا!ظاہر ہے کہ سامراجی گرو گھنٹال کی نہ امن کی نیت ہے اور نہ ہی اس کے افعال اس کی کوئی آس بندھاتے ہیں۔ایران ایک غیرتمند قوم ہے اور اس نے جس جرأت اور جذبہ سے کام لیکر طاغوت کا ہر وار ناکام بنایا ہے تو وہ اس بحری ناکہ بندی کے ساتھ کیسے طاغوتی امریکہ کے ساتھ پھر سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتا ہے!لیکن جیسے دیوانے کی بڑ ہوتی ہے ویسے ہی ٹرمپ کا ہر چند گھنٹے بعد کوئی نہ کوئی پیغام ان کے "ٹرتھ سوشل” پر نمودار ہوجاتا ہے (یہ بھی مضحکہ خیز ہے کہ ٹرمپ جیسے عالمی شہرت کے دروغ گو نے اپنے ایکس اکاؤنٹ کا نام سچ رکھا ہوا ہے، اس سے زیادہ بھیانک مذاق کا تصور بھی محال ہے !) اب وہ ایک طرف ایران کو ویسی ہی دھمکیاں دے رہے ہیں جیسے روزِ اول، 28 فروری، سے دیتے آئے ہیں کہ ایران کا ہر بجلی گھر تباہ کردیا جائے گا اور ہر پل مسمار ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ! لیکن ایرانی ان گیدڑ بھبکیوں کے عادی ہوچکے ہیں لہٰذا وہ ان پر تو کوئی کان نہیں دھر رہے لیکن بحری ناکہ بندی تو ایک حقیقت ہے جو ایران کو معاشی طور پہ مفلوج کرنے کیلئے لگائی گئی ہے۔تو ان حالات میں، اس کھلی اور ننگی جارحیت کی موجودگی میں ان کا امن مذاکرات میں شرکت کرنا بہت دشوار لگ رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے غاصب حکمرانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہوتے ہیں یا نہیں۔ غلاموں کو تو صرف اور صرف اپنے سامراجی آقا کی فکر ہے کہ انہیں اسلام آباد میں کوئی خطرہ نہ لاحق ہو۔سو دارالحکومت کو پوری طرح سے مہر بند، یعنی سیل ، کردیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے اعلان کے بموجب ان کا امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد میں وارد ہوگا لیکن غلاموں نے اپنے سامراجی آقا کی "حفاظت اور سلامتی” کیلئے پورے شہر کو دو دن پہلے سے ہی بند کردیا ہے !کنٹینر ہمارے غاصب حکمرانوں کو بہت پسند ہیں تو شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر شہریوں کی گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے بند کردیا گیا ہے۔اسلام آباد میں دس ہزار پولیس والے تعینات کردئیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ فوجی دستے بھی تعینات کئے جائنگے۔ہر بڑے ہوٹل کو خالی کروالیا گیا ہے۔ اسکول اور کالج بند کردئیے گئے ہیں۔ سرکاری دفتر کی بھی یہی صورت حال ہے اور ملازمین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ گھر سے ہی کام کرینگے۔حد یہ ہے کہ عدالتیں بھی بند ہیں۔ ان کو تو اگر مستقل بند کردیا جائے اور عدالتوں پہ تالے ڈال دئیے جائیں تو کوئی مضائقہ نہ ہوگا اسلئے کہ وہ وہ کام تو کر نہیں رہیں جو ان کا فرض ہے۔ ہر عدالت، چھوٹی یا بڑی، جرنیلوں کے بوٹ تلے ہے اور لعنت ہے ان ججوں پر جو مسندِ انصاف پر بیٹھے جرنیلوں کے تلوے چاٹتے ہیں۔غرض یہ کہ اسلام آباد میں ہر شہری حق سلب یا معطل کردیا گیا ہے اور یہ کوئی حیرت کی بات بھی نہیں اسلئے کہ جب سے یہ یزیدی جرنیلی ٹولہ ملک پر مسلط ہوا ہے اس نے ہر شہری آزادی پامال اور سلب کردی ہے !شہری بیچارے ویسے بھی کس گنتی شمار میں ہیں، کس کھیت کی مولی ہیں۔ یزیدیوں کو معلوم ہے کہ جب تک ان کے سروں پر استعمار اور طاغوت کا دستِ شفقت ہے ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا اور پھر پاکستان کے عوام کی بے حسی تو ضرب المثل بن چکی ہے۔عاصم منیر اور سیاسی کٹھ پتلیوں کو اگر فکر کوئی ہے تو یہ کہ امریکی آقا ان سے راضی رہیں۔ اسی سے ان کی بقاء ہے، اسی سے اقتدار کی ضمانت ہے۔ سو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ بھی طے نہیں ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد آرہے ہیں یا نہیں!کوئی بھی امریکی سماراج کا نمائندہ ہو وہ پاکستان پر مسلط یزیدی ٹولہ کیلئے معزز و محترم ہے اور اس کی جان کی حفاظت سب سے پہلے ہے۔ باقی رہے پاکستان کے عوام یا اسلام آباد کے شہری تو وہ جائیں بھاڑ چولہے میں۔ ویسے بھی طاغوتی ٹولہ کی نظر میں پاکستان کے شہری کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں کسی بھی وقت پاؤں تلے مَسلا جاسکتا ہے۔تو پاکستانی غلام بڑے طمطراق سے اپنے آقا کے نمائندوں کیلئے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے ہوئے ہیں۔ عاصم منیر ویسے تو نپٹ جاہل ہے لیکن وہ بھی مرزا غالب کا یہ شعر گنگنا رہا ہے، ذرا سے تصرف کے ساتھ:
دیکھئے پاتے ہیں خدام (پاکستانی عشاقِ امریکہ) بتوں سے کیا فیض
اِک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے !



