Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

شرمناک!

ہماری کرکٹ ٹیم، جو اس وقت انگلستان کے دورہ پر ہے، قوم کو باقاعدہ شرمندہ کروارہی ہے !وہ کرکٹ ٹیم جو عمران کی قیادت میں دنیا میں ممتاز درجہ رکھتی تھی، جس نے اپنے کپتان کی ولولہ انگیز کپتانی میں 1992ء میں کرکٹ کا ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا، اس کی حالتِ زار اب یہ ہے دو ٹیسٹ میچوں کی چار اننگز میں اب تک دو سو رنز بنانے سے بھی قاصر رہی ہے!آج، جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں، یعنی 30 اگست کو، تو پاکستان کرکٹ کے مکہ یعنی لارڈز کرکٹ کے میدان پر اپنا دوسرا ٹیسٹ بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ ہار گیا، جیسے لیڈز میں پہلا ٹیسٹ ہارا تھا!کرکٹ کے زوال پر ہمیں حیرت نہیں ہے اور نہ ہی شاید کسی سوچنے سمجھنے والے پاکستانی کو ہوگی!حیرت اسلئے نہیں ہے کہ کرکٹ کی قیادت، بلکہ اجارہ داری کہنا زیادہ بہتر ہوگا، انہیں نحس ہاتھوں میں ہے جو پورے ملک کو گھن کی طرح کھائے جارہی ہے۔محسن نقوی، یزیدِ وقت عاصم منیر کا ابنِ زیاد یعنی دستِ راست ہے، اور یہ دونوں اسی طرح پاکستان پر ستم ڈھارہے ہیں جیسے یزید اور ابنِ زیاد نے اپنی حاکمیت میں امتِ محمدیﷺ پر توڑے تھے!لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز، یعنی جمعرات 27 اگست کو، اسکائی ٹیلیویژن نے کھانے کے وقفے کے دوران عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان کے ساتھ اپنے تازہ ترین انٹرویو کو نشر کیا تھا جو ایسے وقت ریکارڈ ہوا جب پاکستان پر مسلط عسکری آمریت نے عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان کیلئے ان کی ویزا کی درخواست کو لٹکایا ہوا ہے، ویسے ہی جیسے پوری قوم کو سولی پہ لٹکایا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ اسکائی ٹی وی برطانیہ کا مشہور نشریاتی ادارہ ہے جس کی رائے اور تجزیوں کو برطانیہ کیا پوری مغربی دنیا میں مؤقر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی خبروں میں وزن ہوتا ہے اوران کو وہی مرتبہ دیا جاتا ہے جن کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔اسکائی ٹی وی کے انٹرویو پر پاکستانی ٹیم نے یہ دھمکی دی کہ اگر وہ انٹرویو نشر کیا گیا تو وہ لنچ کے بعد میدان میں نہیں اترے گی !ظاہر ہے کہ یہ دھمکی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے بیٹ سے تو نہیں نکلی ہوگی۔ دھمکی کا فیصلہ اوپر سے ٹیم پر تھوپا گیا ہوگا جیسے عاصم منیر اور محسن نقوی کے آمرانہ فیصلے بے حس پاکستانی قوم پر گذشتہ تین برس سے تھوپے جاتے رہے ہیں!دھمکی دینے والوں نے یہ نہیں سوچا (سوچنے کیلئے تو عقل ضروری ہوتی ہے جو پاکستان کے عسکری آمر میں ہے نہ ان سیاسی کٹھ پتلیوں میں جن کو پاکستانی ریاست کے اسٹیج پر پردہ کے پیچھےسے نچایا جاتا ہے تاکہ غلط فیصلوں کا الزام ان مہروں پرآئے اور ان مہروں کو ریاست کی شطرنج پر اٹھانے اور بٹھانے والے ہاتھ ہر الزام سے بری رہیں) کہ برطانیہ ایک آزاد ملک ہے اور وہاں کے ذرائع ابلاغ پر ریاست یا ریاستی اداروں کو کوئی زور نہیں چلتا!تو دھمکی سے اسکائی ٹی وی مرعوب نہیں ہوا اور اس نے اپنے مطابق اس انٹرویو کو لنچ کےوقفہ کے دوران ہی نشرکردیا اور پاکستان پر مسلط آمریت کے بے تاج بادشاہ اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جلتے رہے !لیکن دھمکی آخرِ کار گیدڑ بھبھکی ہی ثابت ہوئی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ لنچ کے وقفہ کے بعد ٹیم کے میدان میں اترنے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔ لیکن جس کسی نے بھی یہ مشورہ دیا ہو اس نے پاکستان کرکٹ پر اور پورے ملک پر احسان کیا!سوچئے کہ اگر اس دھمکی پر کاربند رہنے کی حماقت سرزد ہوجاتی تو پاکستان کی کس کس طرح جگ ہنسائی ہوتی!پاکستان ویسے ہی ملک پر مسلط عسکری آمریت کے سبب بین الاقوامی برادری میں اچھوت بنا ہوا ہے۔ دنیا کا واحد مسلمان ملک جس کے پاس ایٹمی قوت ہے اس کی فسطائیت اور اس میں جمہوریت کا ناپید ہونا ویسے ہی جگ ہنسائی کا عنوان بنا ہوا ہے اور مرے پہ سو درے کے مصداق اگر کرکٹ کی دنیا میں بھی پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگ جاتا تو کیا حال ہوتا۔ کس کس سے منہ چھپاتے پھرتے، کس کس کو اپنے احمقانہ فیصلہ اور رویہ کی وضاحت پیش کرتے؟ اللہ نے پاکستانی قوم کی بےحسی کے باوجود ترس کھایا اس مملکت پر جو نام نہاداسلامی جمہوریہ ہے لیکن نہ اس میں دینِ اسلام کہیں دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی جمہوریت!اسکائی انٹرویو سے پوری دنیا کو معلوم ہوا کہ پاکستان میں موجودہ عسکری یزید اس درجہ ظلم کر رہا ہے کہ عمران خان کے جگر گوشوں کی آخری ٹیلیفونک بات چیت اپنے مقید اور محبوس باپ کے ساتھ تقریبا” چھہ مہینے قبل مارچ کے مہینے میں ہوئی تھی۔عمران کے بیٹوں کو اپنے باپ کے ساتھ ملاقات کیلئے ویزا جاری کرنے کا فیصلہ تو دور کا رہا۔جو آمریت ایسی ناپائیدار بنیادوں پر قائم ہو کہ پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈر کو بدترین حالات میں قید ِ تنہائی میں رکھنے کے باوجود اس سے اتنی خائف ہو کہ اس کا نام لینا بھی یزیدِ وقت کی دانست میں بڑا جرم ہو اس کے رویہ کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اصل میں تو یزید اپنے ہی نظامِ جبر کی قید میں ہےاور پاکستان میں سب سے آزاد وہ عمران ہے جسے بدترین قیدِ تنہائی میں رکھنے کے باوجود اس کا نام اور اس کی شخصیت پاکستانی عوام کے ذہنوں سے مٹانے میں یا اسے قصہء پارینہ بنانے میں یزید عاصم منیر بری طرح ناکام رہا ہے !یزیدِ عصر کی کامیابی اس میں ہے کہ پاکستان کے عوام بے حس ہیں اور احسان فراموش بھی اور انہیں جڑواں نقائص سے پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے کے ذمہ دار عسکری طالع آزماء، ایوب خان سے لیکر عاصم منیر تک، بھرپور فائدہ اٹھاتے آئے ہیں!بے حسی کا یہ عالم ہے کہ پاکستانی عوام اپنے پر ہر ظلم و جبر کو خندہ پیشانی کے ساتھ نہ سہی اپنی خامشی سے گواراہ کے مجرم ہیں۔ ان کے قرب و جوار میں پرانی نہیں بلکہ اسی دور کی زندہ اور تابندہ مثالیں ہیں جن سے وہ کوئی سبق لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ تیار ہوتے تو بنگلہ دیش کے غیور عوام، خاص طور پہ نوجوانوں نے اپنے استقلال اور ثابت قدمی سے حسینہ واجد کی جمہور دشمن حکومت کو تار و پود سے جس طرح اکھیڑ پھینکا اسی ثابت قدمی اور استقلال و عزم سے پاکستان کے عوام بھی اپنے یزیدی ٹولہ اور سیاسی کٹھ پتلیوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں لیکن ان کی بے حسی کا وہ عالم ہے کہ کان پر جوں نہیں رینگ رہی!اور احسان فراموشی کی تازہ ترین مثال تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ہیں!لارڈز کے متعلق یہ کہاوت عام ہے کہ وہ کرکٹ کی دنیا کا مکہ ہے اور اس کے پویلین میں کرکٹ کی دو سو سالہ تاریخ کی یادگاریں اور تصاویر جمع ہیں!انہیں تاریخی یادگاروں کے ذخیرہ میں وہ تصاویر بھی شامل ہیں جو لارڈز کی گیلری میں ان کرکٹ ہیروز کی ہیں جنہوں نے کرکٹ میں نام کمایا ور تاریخ مرتب کرنے میں جن کا حصہ رہا!انہیں تصاویر میں عمران خان کی تصویر بھی ہے اورانضمام الحق کی بھی ہے جسے ہیرو بنانے کا کام بھی عمران خان نے ادا کیا تھا جس نے انضمام الحق کو اور اس کے جوہر کو دریافت کیا، اسے باقاعدہ پروموٹ کیا اور کرکٹ کی دنیا کا وہ ستارہ بنادیا جس کی روشنی تاریخ کے صفحات کو ہمیشہ روشن کرتی رہےگی !پاکستان کی موجودہ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے لیکن عمران کی تصویر کے ساتھ اپنی کوئی تصویر نہیں اتروائی۔ یہ ہے احسان فراموشی کی مثال!انضمام الحق کی تصویر کے ساتھ بڑے فخر سے تصاویر اتروائیں لیکن عمران خان کی تصویر کے ساتھ کسی نے اپنی تصویر بنانے کی جرأت نہیں کی!اسی لئے ہم اس خوف و ہراس کی شدید مذمت کرتے ہیں جس نے پاکستان کے عوام اور خواص کو اپنے جان لیوا حصار میں قید کیا ہوا ہے!نہ صرف کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے احسان فراموشی اور حد درجہ بزدلی کا مظاہرہ کیا بلکہ انتظامیہ، یعنی ٹیم کی مینجمینٹ نے بھی اسی بے حسی اور احسان فراموشی دنیا کے سامنے اپنی بزدلی سے ثابت کی!عمران نے اپنے دورِ اقتدار میں کرکٹ کے انتظامی امور تمام تراس معروف کرکٹ کمینٹیٹر کو سونپ دئیے تھے جس کا نام رمیض راجہ ہے۔ رمیض نے عمران کی کپتانی میں کرکٹ میں نام پیدا کیا۔ وہ اس ٹیم میں شامل تھا جس نے 1992ء میں عمران کی قیادت میں ورلڈ کپ جیتا تھا۔ لیکن آج رمیض عمران کا نام تک اپنے منہ سے ادا نہیں کرتا۔ کیوں؟ رمیض کو یہ خوف ہے کہ پاکستان کا نظامِ جبر اسے کمینٹری سے فارغ کردے گا!
خوف اور غرض کا دوہرا اور سریع الاثر زہر پاکستانی قوم کو بے حس بنا رہا ہے۔ یہ وہ دور ہے، یزید عاصم منیر کے مظالم کا ، جس میں بقولِ فیض احمد فیض
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد!
تویہ کہ عمران قید میں نہیں ہے۔ وہ تو قید میں ہونے کے باوجود پاکستان کا سب سے آزاد شہری ہے۔ قید میں تو وہ ہیں جن کا خوف اور جن کی غرض انہیں انسانیت کے جوہر سے محروم کئے ہوئے ہے!تو ہم اپنی ان معروضات کو ان چار مصرعوں کے ساتھ ختم کرتے ہوئے آپ سب قارئین سے اجازت چاہتے ہیں:
مصلحت کے پہرے ہیں احتجاج کے لب پر
بھوت منفعت کا ہے یوں سوار ہم سب پر
طالع آزماؤں کا احتساب ہے ناپید
کرگسوں کی ہے بہتات مسند اور منصب پر !

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button