Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

تیسری جنگِ عظیم کے آثار

چین تائیوان کی طرف بڑھتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ صدر شی جن پنگ اکتوبر میں امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ واشنگٹن میں انکا پر تپاک استقبال کیا جائے گا۔ ایران‘ یوکرین اور غزہ کی جنگوں کے علاوہ کچھ باتیں عالمی معیشت اور امن قائم کرنے کے بارے میں ہوں گی۔ امریکہ اور روس کے تعلقات بھی کشیدہ نہیں۔ یکم ستمبر کو نارتھ کیرو لائنا کے شہر Ashville میں G-20 ممالک کے وزرائے خزانہ کی دو روزہ میٹنگ ختم ہوئی۔ اس میں روس کے وزیر خزانہ Anton Siluanov نے بھی شرکت کی۔ یورپی ممالک نے یوکرین جنگ کی وجہ سے ا حتجاج بھی کیا مگر امریکہ نے ا سپر توجہ نہ دی۔ جب تین بڑی طاقتیں دوستانہ تعلقات رکھتی ہیں تو پھر تیسری جنگ عظیم کے خدشات کا اظہار کیوں کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ صدی کی دو بڑی جنگوں کے آغاز میں بڑی طاقتوں نے ایک دوسرے کو للکارا نہیں تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور برطانیہ اچانک ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے نہیں ہوے تھے۔ یہ جنگ بہت سے علاقائی تنازعات کے اکٹھا ہو جانے کی وجہ سے یکم ستمبر 1939کو شروع ہوئی تھی۔ ان تنازعات کا آغاز 1931 میں جاپان کے منچوریا پر حملے سے ہو اتھا۔ اسکے بعد مطلق العنان حکمرانوں نے جارحانہ طرز عمل اختیار کر لیا تھا۔ اسوقت جمہوری ممالک اپنے اختلافات میں الجھے ہوئے تھے۔ جنگی صنعت ترقی کر رہی تھی اور نت نیا اسلحہ ایجاد ہو رہا تھا۔ جرمنی‘ اٹلی اور جاپان کے سخت گیر حکمران اپنے جدید اسلحے کے بل بوتے پر دوسرے ممالک پر قبضے کی تیاریاں کر رہے تھے۔
آجکل چین‘ روس ‘ شمالی کوریا اور ایران کے اتحاد کو امریکہ میں شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے اور اس جنگ میں چین اور شمالی کوریا کے کھل کر روس کو مالی اور فوجی تعاون فراہم کرنے پر امریکہ کو سخت تشویش ہے۔ اس جنگ کے شروع ہونے سے چند روز پہلے روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے چین کا دورہ کیا تھا وہاں دونوں ممالک کے درمیان غیر محدود دوستی اور تعاون کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس سے چھ ماہ پہلے اگست 2021 میںنیٹو افواج نے افغانستان سے انخلا کیا تھا۔ امریکی دانشور چین اور روس کی دوستی کو اس انخلا کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ نے 2022 میں یوکرین کو روس کے خلاف بھرپور امداد دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ امریکہ افغانستان سے واپس آ چکا ہے مگر وہ ایک کمزور ملک نہیں ہے بلکہ اس میں اتنی سکت ہے کہ وہ یورپ میں روس کے جارحانہ عزائم کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ یوکرین نے بھی نت نئی سستی جنگی ٹیکنالوجی ایجاد کر کے اور بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی سالمیت کا تحفظ کر سکتا ہے۔ دوسری طرف روس اس جنگ میں لاکھوں کی تعداد میںاپنے فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود مذاکرات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق روس نے پولینڈ‘ جرمنی اور مالدووا پر چند خفیہ حملے بھی کئے ہیں۔ یورپ میں روس کے طرفدار ممالک اس سے یوکرین کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں اکتوبر 2023 کواسرائیل پر حماس کے حملے نے ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی ہولناک جنگ کا دائرہ اتنا وسیع کر دیا ہے کہ اب اس کی لپیٹ میں امریکہ‘ ایران ‘ خلیجی ممالک‘ لبنان‘ عراق‘ اُردن ‘ شام اور یمن بھی آگئے ہیں۔امریکی میڈیا اس جنگ میں ایران کی طویل مزاحمت کی وجہ یہ بتا رہا ہے کہ چین اور روس درپردہ اسکی عسکری امداد کر رہے ہیں۔ امریکی پریس کا کہنا ہے کہ روس کی انٹیلی جینس ایجنسیوں نے خلیج فارس میں امریکہ کے دفاعی نظام کے اہم اہداف کی نشاندہی کر کے ایران کی مدد کی۔بحرالکاہل کے علاقے میں اسوقت روس کا ایک طاقتور بحری بیڑہ موجود ہے۔ آسٹریلیا کے Strategic Policy Institute کی ایک حالیہ دستاویز کے مطابق چین نے اگر تائیوان پر حملہ کیا تو روس کا بحری بیڑہ اسکی مدد کریگا۔
آجکل کے بین الاقوامی منظر نامے اور دوسری جنگ عظیم کے آغاز سے پہلے کے حالات میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ ان دونوں ادوار میں مغربی ممالک اندرونی طور پر سخت خلفشار کا شکار تھے۔ آجکل ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری دنیا کو ہیجان میں مبتلا کیا ہوا ہے تو دوسری طرف یورپی ممالک اپنی معاشی مشکلات کی وجہ سے روس کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ صدر ٹرمپ یورپ کو اس کمزوری کے طعنے دے رہے ہیںاور یورپی ممالک ٹرمپ پردھمکیاں دینے اور طعن و تشنیع کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ چند روز پہلے صدر ٹرمپ نے کینیڈا کی برآمدات پر پچاس فیصد ٹیرف لگا کر اپنے ہمسائے اور دیرینہ اتحادی کے خلاف ایک نئی معاشی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ حقیقت بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ کے پاس ایران پر حملہ کرنے کے لیے وافرتعداد میں اسلحہ موجود نہیں ہے۔ اسلحے کے جو ذخائر رہ گئے ہیں وہ چین اور روس کے خلاف کسی جنگ میں صرف دفاعی طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے بڑے جنگی بیڑے ابراہام لنکن کی خلیج فارس سے مخدوش حالات میں واپسی نے اسے ایک قومی سکینڈل بنا دیا ہے۔ ۔ اس پر مستزاد یہ کہ امریکہ پر واجب الادا قرض چالیس کھرب ڈالر ہو چکا ہے۔ امریکہ کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اسکے دشمن اسکی ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر کسی بھی وقت ایک بڑا حملہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے بھی جمہوری ممالک کی کمزوریوں اور مطلق العنان حکمرانوں کے جارحانہ عزائم نے ایک عالمی جنگ کی صورت اختیار کر لی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button