پمزنرسری سانحہ 14 معصوم جانیں! ذمہ دار کون؟؟؟

ایک سانحہ صرف تب ضائع ہو جاتا ہے جب اس سے کوئی سبق نہ سیکھا جائے۔ایسی ہی صورتحال میں کہاجاتا ہے’’ ٹھوکر کھا کر سنبھل جانا چاہئے ‘‘پاکستان میں آگ لگنے سے جانی اور مالی نقصان کوئی نئی یا تعجب کی بات نہیں ہے۔اصل بات پچھلے سانحات سے سبق نہ لینے کی ہے۔ ماضی کے آتش زدگی کے واقعات کا جائزہ لیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگ صرف شعلوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عمارتوں، معیشت اور معاشرتی نظام کے لیے بھی بڑا خطرہ ہیں۔کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائزز کی گارمنٹس فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو لگنے والی آگ پاکستان کے بدترین صنعتی سانحات میں شمار ہوتی ہے۔ اس واقعے میں عدالتی و تحقیقاتی ریکارڈ کے مطابق 255 سے زائد مزدور جاں بحق اور 55 زخمی ہوئے تھے۔ یہ بات بھی دیکھی گئی کہ مختلف بڑے آتش زدگی کے واقعات میں ایک جیسے مسائل بار بار دہرائے گئے، مثلاً ناقص انخلاء کے راستے، کمزور مواصلاتی نظام، حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزیاں اور ہنگامی منصوبہ بندی کی کمی۔اگر کسی حادثے کی وجوہات معلوم ہونے کے باوجود ان کا تدارک نہ کیا جائے تو وہی غلطی دوبارہ ہو سکتی ہے۔
26 اگست2026 کوپاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں آگ لگی۔ 14 نومولود جاں بحق ہوئے اور صرف ایک بچہ بچایا گیا۔ ابتدائی طور پر آگ کی وجہ کبھی اے سی، کبھی آکسیجن ،کبھی نیبولائزر اور کبھی بجلی کی خرابی بتائی گئی، مگر تحقیقاتی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ آگ شروع کرنے والا مخصوص آلہ یا خرابی ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی ہے۔ تا حال ابھی کسی ایک بھی شخص کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں آگ کی وجہ کے بارے میں بھی تضاد ہیںایک رپورٹ میں نیبولائزر پھٹنے کا ذکر ہے، جبکہ دیگر ابتدائی بیانات میں مختلف وجوہات سامنے آئیں۔ البتہ تحقیقات میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی اخراج، ڈیوٹی اسٹاف کی موجودگی اور ہسپتال انتظامیہ کی ممکنہ غفلت جیسے سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بھی ذمہ داروں کے تعین اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اصل سوال صرف آگ کس وجہ سے لگی؟ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اگر حفاظتی نظام ناکافی تھا اور اس کےذمہ دار انتظامیہ کے افسران تھے توانھوں نے پہلے سے موجود خطرات دور کیوں نہیں کئے؟
پمز نرسری سانحے کی تازہ ترین عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ CCTV کے مطابق تقریباً 6 بجکر38منٹ پر ہنگامی صورتحال ظاہر ہوئی اور تقریباً دو منٹ کے اندر، اندر نرسری دھوئیں سے شدید متاثر ہوگئی۔ ایک نرس نے جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہوکر ایک بچے کو زندہ نکال لیا۔ اصل مسئلہ صرف آگ نہیں، حفاظتی نظام کی ناکامی ہے۔یہاں سب سے اہم نکتہ یہی ہے جوپہلے کی نسبت کافی واضح ہوگیا ہے، لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ ،صرف عبوری رپورٹ سامنے آئی ہے۔
عبوری رپورٹ میں یہ کہاگیا کہ نرسری میں ایسا واضح اور باقاعدہ فائر الارم، انخلا ءکا نظام، ہنگامی SOPs ، تربیت یافتہ ردعمل اور نومولود بچوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کا عملی منصوبہ موجود ہی نہیں تھا، جس سے ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جاسکتا تھا۔ مزید سنگین بات یہ ہے کہ ایمرجنسی راستوں،دروازوں کے بند ہونے سے رکاوٹ کا شکار ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ فائر فائٹرز کو بعض مقامات پر دروازے زبردستی کھولنے پڑے۔کمیٹی ابھی تک یہ حتمی طور پر طے کر رہی ہے کہ کون سا دروازہ یمرجنسی ایگزٹ تھا، اس کا ذمہ دار کون تھا اور اس کی حالت نے ریسکیو میں کتنا نقصان کیا بلکہ رپورٹ میں یہ بھی ہےکہ اس وقت ڈیوٹی پر مطلوبہ تعداد سے کم عملہ موجود تھا۔
اس حادثے سے پہلے بھی 6جولائی کو پمز ہی کے نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگی تھی۔ اس واقعے کی تحقیقات میں پہلے ہی فائر ڈیٹیکشن، الارم، انخلاء، بجلی کے معائنے، سیکیورٹی اور فائر سیفٹی میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ان سفارشات میں اسموک ڈیٹیکٹرز، الارم، ایمرجنسی لائٹس، واضح باہر نکلنے کے راستے، بجلی کا معائنہ اور ہنگامی SOPs شامل تھے۔ لیکن 26 اگست کے سانحے تک بھی ان خامیوں کا مؤثر ازالہ نہیں کیا گیا تھاجو انتظامیہ کی سنگین غلطی ہے۔6 جولائی کے واقعے کے بعد پمز انتظامیہ کو فائر سیفٹی ڈرلز، فائر فائٹنگ آلات کی دستیابی، تفصیلی SOPs اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا نظام بہتر کرنا چاہیے تھا، مگر ضروری اقدامات نہیں کئےگئے۔ اسی بنیاد پر انتظامی قیادت سمیت متعدد افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ ذمہ داری کو صرف آگ کس چیز سے لگی؟ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ اگر ایک ہسپتال میں آگ لگ جائے تو کیا الارم بجتا ہے؟کیا دروازے فوراً کھلتے ہیں؟کیا فائر فائٹرز اندر پہنچ سکتے ہیں؟کیا عملے کو معلوم ہے کہ نومولود بچوں کو کیسے نکالنا ہے؟ کیا اس کی باقاعدہ مشق ہوئی ہے؟تحقیقاتی رپورٹ میں ان سوالات کے حوالے سے سنگین انتظامی خامیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ کمپنی کے بعض اہلکاروں نے ریسکیو اور آگ بجھانے میں حصہ لیااس لئے کمپنی کو پورے سانحے کا واحد ذمہ دار کہنا بھی درست نہیں ۔ رپورٹ کے مطابق 14 بچے بچائے کیوں نہ جا سکے؟ منٹ بہ منٹ کیا ہوتا رہا، دروازے کہاں تھے، عملہ کہاں تھا، اور کس مقام پر غفلت نے اموات کو بڑھایا۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ 14 نومولود صرف آگ لگنے سے نہیں مرے۔تحقیقاتی رپورٹ سے یہ سوال بہت مضبوط ہوتا ہے کہ ایک چھوٹی جگہ میں آگ کے بعد حفاظتی اور ہنگامی نظام نے بچوں کو بروقت نکالنے کا موقع کیوں نہیں دیا۔ آگ لگنے کی تکنیکی وجہ ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوئی۔ پھر سب سے بڑا سوال 14 بچے کیوں نہ نکل سکے؟یہی یہ سوال ہے جہاں معاملہ صرف آگ لگنےکا نہیں رہتا۔اگر عمارت میں مناسب فائر سیفٹی، مکمل نہیں تھا تو یہ انتظامی ناکامی ہے۔ عبوری تحقیقات میں نرسری میں فائر الارم اور sprinkler system کی عدم موجودگی بھی سامنے آئی۔جبکہ ہسپتالوں ،بڑی عمارتوں بڑے ریسٹورانٹس ،سنیما ہالوں اور شادی ہالوں میں sprinkler systemاور فائر الارمز لازمی ہونے چاہئیں۔پمزنرسری میں نومولود بچوں کے انخلاء کے لیے مناسب، واضح، تربیت یافتہ اور عملی طور پر مشق شدہ مخصوص SOPs موجود نہیں تھے۔کیونکہ نومولود عام مریض نہیں ہوتے۔ وہ خود اُٹھ نہیں سکتے، اکثر incubator، oxygen یا دوسرے آلات سے منسلک ہوتے ہیں۔ اس لیے آگ لگنے کی صورت میں عملے کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کس بچے کو کون اٹھائے گا؟کس راستے سے نکالا جائے گا؟ایک توہسپتال کے فائر اور لائف سیفٹی انتظامات ناکافی تھے۔ نرسری کے لیے ایسا مؤثر، مخصوص اور تربیت یافتہ انخلاء کا نظام موجود نہیں تھا جس پر عملہ فوری طور پر عمل کرسکے۔ اس سانحے کو صرف یہ کہہ کر ختم نہیں کیا جاسکتا کہAC خراب تھا، آگ لگ گئی اوربچے مر گئے۔اگر AC یا بجلی کا نظام فیل بھی ہوجائے تو کیا ایک بڑے سرکاری ہسپتال کی نرسری میں 15 نومولود بچوں میں سے 14 کو مرنا چاہیے تھا؟اب حتمی رپورٹ کو یہ طے کرنا ہے کہ کس افسر کو کس خامی کا پہلے سے علم تھا، اسے درست کرنے کا اختیار اور ذمہ داری حاصل تھی یا نہیں، اس نے کیا اقدام نہیں کیا، اور اس عدم اقدام کا بچوں کی اموات سے کیا تعلق تھا۔ 14معصوم جانوں کی ذمہ داری کا دائرہ پمز کی کلینیکل و انتظامی قیادت، فائر سیفٹی ،سیکیورٹی نظام، متعلقہ بیرونی اداروں اور ممکنہ طور پر کنٹریکٹر تک پھیلتا ہے۔ماضی کے سانحات دراصل مستقبل کے لیے ایک مفت تجربہ اور تنبیہ ہوتے ہیںاور پچھلی آتش زدگی سے حاصل ہونے والے اسباق جدید فائر سیفٹی قوانین اور طریقۂ کار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مگر یہاں جیسا ہے چلاؤ،اور چلتے چلے جاؤوالا معاملہ ہے!!!



