Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

پاکستان میں نئی حکومت کے کارنامے

پاکستان میں ایسی آفتیں تو آتی ہی ہیں جن پر انسانون کا کوئی بس نہیں ہوتا جیسے زلزے، طوفان، اور بڑے پیمانے کے سیلاب۔ یہ تقریباً سب ملکوں میں آتے ہیں۔ جو بڑا مسئلہ ہے ان آفتوں کا جو انسانی غفلت، لا پرواہی اور کوتاہ نظری سے آتی ہیں، اور بار بار آتی ہیں۔ ان میں جو انتہائی تکلیف دہ ہے وہ آتش زدگی جس سے کئی معصوم اور بے گناہ جانیںچلی جاتی ہیں۔ یہ ایک دفعہ نہپیں، بار بار ہوتا ہے۔ہر بار حکومت نوٹس لیتی ہے اور پھر بھول جاتی ہے۔اورکاروبار زندگی ویسے ہی رواں دواں رہتا ہے۔یہ مسئلہ گھمبیر تب ہوتا ہے جب حکومتی ادارے ان حادثات میں ملوث پائے جاتے ہیں۔اب تازہ ترین مثال اسلام آبادکے سرکاری ہسپتال پمز میں ہوا ۔نوزائدہ بچوں کے وارڈ میں آگ لگ گئی اور14 نو زائیدہ بچے اس میں جل کر مر گئے۔ کئیوں کو دیوار توڑ کر نکالا گیا۔ کیونکہ وارڈ کے دروازوں پر تالے پڑے تھے۔وارڈ کی سٹاف نرسیں اپنی جان بچا کر بھاگیں اور یہ نہ کیا کہ ایک دو بچے بھی اٹھا کر لے جاتیں۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی چھوٹا ٹرانسفارمر اُڑا اور اس سے آگ پھیل گئی۔ کہتے ہیں کہ وارڈ کے اندر ایسے ٹرانسفارمر کو ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ آہستہ آہستہ پتہ چلے گا کہ لا تعداد انسانی غفلتیں ہوئیں۔ اور در حقیقت کتنے بچے مارے گئے؟ ان کا نوٹس لیا گیا اور حکومت نے حسب معمول کوئی مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے، پھر کسی اور جگہ ایسا ہی واقعہ ہونے کے امکان کو نظر انداز کر دیا۔اس لیے کہ ماشل لاء اور سول مشترکہ حکومت کو دوسرے اہم اور فوری حل طلب مسائل حل کرنے ہیں۔ مثلاًامریکہ اور ایران کی جنگ بند کروانا۔بیرونی قرضوں کی واپسی اور مزید قرضوں کا حصول ۔ اورپھر بیرونی دورے جن میں سٹاف اور ارکان فیملی بھی لے جانے ہوتے ہیں۔ ہر تھوڑے دنوں کے بعد عمرے کی سعادت ، پاکستان میں وہ کام کئے جاتے ہیں جن سے حکومت کو بھاری کمیشن ملنا ہوتا ہے۔ اسپتالوں کی حالت کو بہتر بنانے میں تو کوئی زیادہ کمیشن نہیں ملتا، صرف درد سر ملتا ہے۔باقی رہے عوام تو وہ گئے بھاڑ میں۔ ان کی اہمیت چار سال میں ایک دفعہ ہوتی ہے ایک دن کے لیے۔جس دن انہوں نے ووٹ ڈالنا ہوتا ہے۔آئے دن آتشزدگی کی خبریں آتی رہتی ہیں اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ کیا کوئی موجودہ قوانین پر عمل درآمد کروایا جا تا ہے؟ابھی یہ زیادہ دیر کی بات نہیں کہ کراچی میں ایک فیکٹری میں آگ لگی اور دو سو کارکن اس میں جھلس کر مر گئے تھے۔ وہ اس لیے کہ باہر نکلنے کے دروازوں پر تالے پڑے تھے۔ لیکن اس سے کوئی سبق سیکھا گیا؟ نہیں۔ یہ آگ لگوائی گئی تھی کیونکہ مالک نے بھتہ خوروں کو بھتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ کیا ان کو کوئی سزا ملی؟ معلوم نہیں۔ اگر ان کا تعلق حکومت وقت سے تھا تو شاید ہی ملی ہو؟مجھے یاد ہے کہ پاکستانی سنیمامیں ، ہال کے دروازوں پر لال رنگ کے EXIT کے نشان لگے ہوتے تھے۔ اسی لیے کہ آگ لگنے کی صورت میں ناظرین ان سائینز کی طرف جائیں جہاں دروازے تھے۔یہ غالباً انگریز بہادر کا کارنامہ تھا۔کیا اب بھی ایسی بلڈنگز کے مالکان بتاتے ہیں کہ آتشزدگی کی صورت میں کیا کرنا ہے؟ کیا اس کی ریہر سل کرواتے ہیں؟ لگدا تے نئیں پر شیت؟کچھ ایسی ہی صورت حال حادثات کی ہے۔گزشتہ سال اخباری اطلاع کے مطابق تقریباً 14.800موات صرف پنجاب میں ٹریفک کے حادثات میں ہوئیں۔زیادہ تر اموات موٹر سائیکلسٹ کی تھیں (جو غالباً سر پر ہیلمٹ نہیں باندھتے تھے)۔ یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ تھی۔کل حادثات کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ تھی۔ اور پانچ لاکھ ستر ہزار لوگ زخمی ہوئے تھے۔اس لیے کہ اکثر موٹر سائیکلسٹ کے ساتھ سواریاں ہوتی ہیں۔ اور اگر ڈرائیور نے ہیلمٹ پہنی بھی ہو تو سواریاں اپنے آپ کو اس حکم سے مبرا سمجھتی ہیں۔ اور ایک موٹر سائیکل پر ڈرائیور کے ساتھ بیوی اور تین چار بچے بھی اکثر دیکھے جاتے ہیں۔لیکن زندہ دلان پنجاب اپنی موٹر سائیکل پر زیادہ سے زیادہ سواریاں بٹھانے پر مجبور بھی ہوتے ہیں کیونکہ ساری فیملی کو کہیں نہ کہیں ضرور پہنچنا ہوتا ہے۔کیا اگر قوانین کے ذریعے ہر سوار کو ہیلمٹ پہننے پر مجبور کر دیا جائے تو کوئی حادثات میں نقصانات کم ہو سکتے ہیں؟ آزمائش شرط ہے۔آئے دن بسوں اورٹرکوں کے حادثات بھی ہوتے ہیں جن میں کتنی ہی قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں۔ لیکن حکومت ان کی روک تھام کے لیے کیوں موثر اقدامات نہیں لیتی؟ تعجب ہے؟ٹریفک کے حادثات کی ایک بڑی وجہ جو ہمیں سمجھ آتی ہے وہ پولیس میں کورپشن۔ لوگ یہ سوچ کر اگر پکڑے گئے تو چند روپے دیکر بچ جائیں گے، ٹریفک کے قوانین کی پرواہ نہیں کرتے اور اس طرح حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ٹوٹے ہوئے ٹریفک کے سگنل، بورڈوں پر لکھی ہوئی ہدایات کی کمی، بغیر تربیت کے ڈرائیور اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، سب حادثات کا باعث بنتی ہیں۔لیکن حکومت کی ترجیحات کسی اور طرف ہیں، اسلئے یہ سلسلہ ایسے ہی رہے گا۔اب ہم کس حد تک جعلی حکومت کو مورد الزام ٹھہرائیں، اور کس حد تک فوجی حکمرانوں کو، یہ کہنا غیر ذمہ وارانہ ہو گا۔ البتہ جب سے یہ جعلی حکومت ظہور پذیر ہوئی ہے، اور مارشل لاء لگا ہے، پاکستان نے تقریباً ہر شعبہ میں ترقی معکوس ہی کی ہے۔ اس کی وجہ کہہ سکتے ہیں کہ مقتدرہ کو ملک کی اقتصادی ترقی کا راستہ نہیں آتا۔اس کی تربیت ہی نہیں ہے ملکی نظام چلانے کی۔ شہباز شریف کوئی زیادہ پڑھے ہوئے نہیں ہیں اور نہ ہی ماہرین اقتصادیات کے مشورے پر چلتے ہیں۔ زیادہ فیصلے اس بات پر ہوتے ہیں کہ انہیں ذاتی طور پر کہاں زیادہ فائدہ ہو گا۔اب کسی نیک شخص نے قومی ذرائع سے کچھ اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں، جو کسی بھی ہوشمند پاکستانی کے لیے کافی ہو نگے۔ ملاحظہ ہو:
پاکستان میں 2022میں عمران خان کی حکومت گرنے کے بعد سے جون 2026تک ملک میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں؟ ملاحظہ ہو:
۔ ضروریات زندگی یا مہنگائی کے انڈکس میں 78فیصد اضافہ ہوا۔ یعنی یہ 164.5سے بڑھ کر 293.5 پر پہنچ گیا۔ یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں۔
۔ روپیہ کی قدر میں کمی ہوئی ۔ امریکی ڈالر جو اس وقت 8.60 17روپیہ کا تھا وہ 278.4تک پہنچ گیا۔
۔ بجلی کی قیمتوں میں 162% کا اضافہ ہوا۔
۔ قدرتی گیس کی قیمت میں 228فیصد اضافہ ہوا۔
۔ پٹرول کی قیمت 162.90 روپییہ سے بڑھ کر319.40 پر پہنچ گئی۔ یعنی ایک لیٹر پر96 فیصد اضافہ ہوا۔
۔ کمی کس چیز میں ہوئی؟ کارخانی پیداوار میں کمی ہوئی جو 7.116 سے گر کر 3,116فیصد پرپہنچ گئی۔
۔ سرمایہ کاری کی شرح میں بھی کمی ہوئی۔ جو 2.15 سے گر کر 2.14پر پہنچ گئی۔
۔ البتہ غربت کی شرح میں اضافہ ہوا یہ7فی کس تھا۔ یعنی 9.21 فی کس سے بڑھ کر 9.28فی کس پر چلا گیا۔
۔ اس کے بعد سے تقریباً ہر اعشاریہ گرتا ہی گیا۔ٹیکس کا مالیہ 3.9 سے 5.8پر آ گیا۔
۔ برآمدات میں 1.8 فیصد کمی ہوئی۔ امریکی ڈالروں میں 7.24بلین سے کم ہو کر 7.22بلین پر آ گئی۔
۔ کل قومی پیداوار میں 7.3 فیصد کمی ہوئی۔ جو 1.6سے گر کر 7.3پر آ گئی۔
۔ فی کس آمدن میں بھی کمی ہوئی۔ سن 2022میں امریکی ڈالروں میں فی کس آمدن 1.654 سے گر کر 1.555ڈالر پر آ گئی۔
۔ پریس کی آزادی میں بھی کمی بتائی گئی۔ جس کا انڈکس 1.97سے کم ہو کر 8.80پر آ گیا۔ یعنی16 فیصد کمی واقعہ ہوئی۔
۔ جمہوریت کے انڈکس میں بھی کمی ہوئی، جو پہلے ہی بڑا کم تھا اور بھی کم ہو گیا۔ یعنی 98.2سے کم ہو کر 17.2پر آ گیا۔ کتنی شرم کی بات ہے۔
۔ قانون کی حکمرانی میں بھی کمی ہوئی۔ جو 21.0سے گر کر 35.0 پر چلا گیا۔
۔ شہری آزادی جو 60 میں 31تھی ،وہ کم ہو کر 25ہو گئی یعنی بد تر ہو گئی۔
۔ اقتصادی آزادی کے انڈکس میں بھی 1.8فیصد کمی ہوئی۔جو 2.25سے گر کر 1.44پر آ گئی۔
آخر میں۔ انصاف یا عدالتی نظام کی آزادی کے انڈکس میں پاکستان نے نمایاں کمی دکھائی۔ جو 0.3 سے گھٹ کر 0.31 پر پہنچ گیا۔ در فٹے منہ۔
یہ سب اعداد و شمار فارم 47کا نتیجہ ہیں جس نے ملک کے انتخابات میں کھلی دھاندلی کر کے ان امید واروں کو جتوایا جو ہار گئے تھے۔اس کے پیچھے کون تھا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ پبلک سب جانتی ہے۔اب اگر ہماری پیاری فوج کو یہ جاننا ہو کہ لوگ کیوں اس سے ناراض ہیں، تو ان اعدادوشمار سے کچھ اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ بلوچستان،آزادکشمیر اور کے پی میںہو رہا ہے، وہ بھی وردی کی ،مقبولیت پر اثر انداز ہو رہا ہو گا؟ تازہ ترین واقعہ جس میں خان کو بجائے الشفاء کے پمز میں لے گئے، سونے پر سہاگہ کا کام کیا ہو گا۔کس طرح حکومت اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتی ہے، یہ بھی فوج کی عزت بڑھانے میں ممد و معاون تو ہو گا؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وزیر اعظم تو محض نا م کا ہے۔ اصل حکم توکہیں اور سے آتے ہیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button