Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی
Trending

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی مشرق وسطیٰ تعیناتی کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ آئندہ چند ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوگا، جہاں اس کی کم از کم 7 ماہ تک تعیناتی متوقع ہے۔ امریکی بحریہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق جہاز پر تقریباً 5 ہزار اہلکار موجود ہوں گے۔امریکی میڈیا سی این این کے مطابق امریکی بحریہ کے ماسٹر چیف پیٹی آفیسر جان پیرمین نے بتایا کہ جہاز کے عملے کو 7 ماہ سے زیادہ طویل تعیناتی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق کمانڈنگ افسر نے عملے کو تقریباً 8 ماہ کی تعیناتی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنے کا کہا ہے۔امریکی بحریہ کی جانب سے یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی برقرار ہے اور امریکی بحریہ کو طویل تعیناتیوں کے باعث اپنے اہلکاروں پر پڑنے والے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ ایک بڑے طیارہ بردار بحری جہاز کے طور پر امریکی بحریہ کی اہم جنگی صلاحیتوں میں شامل ہے۔ اس پر تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کے علاوہ جنگی طیارے اور دیگر فضائی و بحری وسائل بھی تعینات کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح یہ جہاز طویل عرصے تک سمندر میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے ایک متحرک بحری اڈے کا کردار ادا کرسکتا ہے۔اس تعیناتی کا ایک اہم پہلو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی حالیہ طویل تعیناتی بھی ہے۔ ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ میں اپنی تعیناتی کے دوران 250 دن سے زیادہ عرصے تک کسی بندرگاہ پر رکے بغیر سمندر میں موجود رہا، جسے امریکی بحریہ کی غیر معمولی طویل سمندری تعیناتیوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے باعث امریکی فوجیوں کے آرام، ذہنی دباؤ اور خاندانوں سے طویل دوری جیسے مسائل بھی زیر بحث آئے ہیں۔ نئی تعیناتی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب امریکی بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں اور عملے کے لیے طویل مدتی تعیناتیوں کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی مشرق وسطیٰ روانگی سے خطے میں امریکی بحری موجودگی مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کو عملے کی مسلسل طویل تعیناتی اور جنگی تیاری برقرار رکھنے کے چیلنجز کا بھی سامنا رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button