Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

اسلام آباد: پمز ہسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق

اسلام آباد(آصف اقبال) اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 15نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے خواتین سمیت 19 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ افسوسناک واقعے پر ملک بھر میں گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ کی ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی۔ آتشزدگی کے وقت نرسری میں 16نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے ایک بچے کو ایک لیڈی ڈاکٹر نے بچا لیا، تاہم 15بچے جانبر نہ ہوسکے۔ریسکیو حکام کے مطابق فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں نے کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا، جس کے بعد کولنگ کا عمل مکمل کیا گیا۔ آگ لگنے کی فوری وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔ہسپتال دستاویزات کے مطابق آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ جاں بحق بچوں میں بہادر نامی شہری کے جڑواں بچے بھی شامل ہیں۔ والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔8 رکنی انکوائری کمیٹی قائمواقعے کی تحقیقات کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی، ایس پی سٹی، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن، ڈی جی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز ہسپتال کے متعلقہ افسران شامل ہیں۔کمیٹی کو واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرکے 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے بھی پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔سانحے کے بعد جاں بحق بچوں کے والدین غم سے نڈھال ہیں۔ عینی شاہدین نے ریسکیو کارروائی میں مبینہ تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آگ لگنے کے بعد صورتحال انتہائی خوفناک تھی اور بعض والدین اپنے بچوں کو لے کر ہسپتال سے باہر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔والدین نے ہسپتال انتظامیہ سے بھی جواب طلبی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعض والدین کا کہنا تھا کہ نرسری میں مناسب طبی عملہ موجود نہیں تھا جبکہ این آئی سی یو کا دروازہ بھی لاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی کے وقت ہسپتال میں عملہ موجود تھا۔ ان کے مطابق دو ڈاکٹرز اور چار نرسز ڈیوٹی پر موجود تھیں اور ایک ڈاکٹر نے ایک بچے کی جان بچائی۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں فائر سیفٹی سسٹم موجود ہے اور آتشزدگی کے وقت 24 آکسیجن سلنڈرز بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔صدر مملکت نے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی پر زور دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کی ہدایت کی اور کہا کہ واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لے کر ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے پر سخت کارروائی کی جائے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی جاں بحق بچوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ واقعہ غفلت کے باعث پیش آیا یا ڈیوٹی پر موجود عملے کی جانب سے کسی کوتاہی کا مظاہرہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو صوبے کے تمام ہسپتالوں میں آگ بجھانے والے آلات کی موجودگی اور ان کی فعالیت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔واقعے کی حتمی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button