برف پگھلنے کا موسم ،پاکستانی سیاست کی خاموش صف بندی

سیاست کبھی بلند آواز میں نہیں بولتی۔ وہ سرگوشیوں میں بولتی ہے، مسکراہٹوں کے تبادلے میں بولتی ہے، ایک نظر کے دورانیے میں بولتی ہے جو کیمرے کی آنکھ سے بچ نہیں سکتی مگر عام آنکھ اسے پکڑ نہیں پاتی۔ اور جب کوئی صدرِ مملکت کسی فیلڈ مارشل کو “ہمارا” کہہ کر پکارے، اور اسی جملے کے بعد کیمرہ ایک وزیراعظم کے فیس اور انکے ساتھ بیٹھے فیلڈ مارشل کی مسکراہٹ کے درمیان جھولتا رہے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ محض ایک تقریب نہیں، ایک پورا پیغام ہے جو الفاظ کے بغیر ترسیل ہو رہا ہے۔یومِ آزادی کے گرد لپٹی اس مبارکباد میں، اسلام آباد کی یادگارِ فتح کے سائے میں، جو کچھ کہا گیا اس سے کہیں زیادہ اہم وہ تھا جو نہیں کہا گیا، مگر محسوس کروا دیا گیا۔ زرداری صاحب کی سیاست ہمیشہ سے ہی الفاظ سے زیادہ توقف کی سیاست رہی ہے۔ وہ بولتے کم ہیں، ٹھہرتے زیادہ ہیں، اور جب بولتے ہیں تو ہر لفظ کسی خاص سمت کا اشارہ ہوتا ہے۔’’وہ ہمارے فیلڈ مارشل ہیں‘‘ کہنا محض مروت نہیں تھا، یہ ایک اعلانِ اتحاد تھا، ایک ایسا اعلان جو ہفتوں کی خاموش کشیدگی کے بعد آیا، جس سے پہلے وہی اینٹ سے اینٹ بجانے کے خدشات تھے، جس سے پہلے آسمان ٹوٹنے کی سرگوشیاں بھی ہورہی تھیں۔ اور ٹک ٹاک پر بھی عوام کی نظریں تھیں۔اور پھر کیا ہوا اینٹ سے کوئی اینٹ نہیں بجی اور نہ ہی الٹی گنتی کی ٹک ٹاک سنائی دی اچانک، دستخط ہو گئے۔ ججز نے حلف اٹھا لیا۔ اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی بلا لیے گئے اور سیاست کے دریا میں رکا ہوا پانی پھرسے چلنے لگا۔یہ محض اتفاق نہیں، یہ زرداری صاحب کی وہ پرانی حکمتِ عملی ہے جسے برسوں سے دیکھنے والے پہچانتے ہیں: ہارڈ لائن لینا، دباؤ برقرار رکھنا، اور پھر عین اس لمحے جب سب کچھ ٹوٹتا محسوس ہو، ایک قدم پیچھے ہٹ کر اپنے لیئے کچھ رعایتیں لے لینا۔ یہ ہار نہیں، یہ سیاسی گیم ہے، اور اس گیم میں پیپلز پارٹی نے ثابت کیا ہے کہ وہ ابھی بھی سیاسی بازی کھیلنے والا کھلاڑی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اس خاموش صف بندی کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے؟ اٹھائیسویں ترمیم۔ ایک ایسی ترمیم جو محض قانونی نہیں بلکہ ساختیاتی نوعیت کی ہے، جو صوبوں کے اختیارات، این ایف سی ایوارڈ، اور مقامی حکومتوں کے پورے ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دینے جا رہی ہے۔ اور جب کوئی ریاست اپنے ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے نکلتی ہے، تو وہ اکیلے نہیں نکل سکتی۔ اسے ہر سیاسی پارٹی کے انگوٹھے کی ضرورت ہوتی ہے، ہر پارٹی کی رضامندی کی، کیونکہ ایک نامکمل اتفاقِ رائے، آنے والے برسوں میں سیاسی عدم استحکام کا بیج بھی بن سکتا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں تحریکِ انصاف کی کہانی پیپلز پارٹی کی کہانی سے جا ملتی ہے۔عمران خان کوئی عام قیدی نہیں، وہ ایک ایسی سیاسی طاقت کے مرکز میں بیٹھا ہے جس کے بغیر کوئی بھی وسیع تر آئینی ترمیم ادھوری رہ جائے گی۔ اسی لیے سہیل آفریدی صاحب کی متوقع ملاقات، بشریٰ بی بی کے ذریعے بہنے والے خاموش پیغامات، اور بیرسٹر گوہر کی وہ ملاقاتیں جن کا کبھی باضابطہ اعتراف نہیں کیا جائے گا، یہ سب اسی برف پگھلنے کے عمل کے مختلف دھارے ہیں جو بالآخر مستقبل میں ایک ہی دریا میں جا ملیں گے۔ انکی اگر خفیہ ملاقاتیں، اگر ہوئی ہیں، تو وہ اپنی خفیہ نوعیت میں ہی اپنا جواب چھپائے ہوئے ہیں: جو چیز چھپائی جاتی ہے، وہ عام طور پر اہم پیغام لے کر آتی ہے، اور وہ پیغام شاید وہیں سے آتا ہے جہاں سے تمام بڑے فیصلے بالآخر جنم لیتے ہیں۔مگر یہاں ایک گہرا تضاد بھی پوشیدہ ہے، ایک ایسا تضاد جو تحریکِ انصاف کے مستقبل کا سب سے بڑا امتحان بننے جا رہا ہے۔ اکبر ایس بابر جیسے پرانے ساتھی، جنہوں نے کبھی اصولوں پر پارٹی چھوڑی تھی، جب اچانک “پرانے گارڈ” سے رابطے کی بات کرتے ہیں، تو یہ محض ایک سیاسی خبر نہیں، یہ ایک بڑی چال کا ٹکڑا بھی ہے۔ یہ راستہ کبھی کھلے گا کہ نہیں، مگر اس کا اعلان کرنا ہی کافی ہے، کیونکہ اصل مقصد میل ملاپ نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی تقسیم ہے۔اسوقت پی ٹی آئی میں علیمہ خان کا گروہ، بیرسٹر صاحب کا حلقہ، فواد چوہدری اینڈ کمپنی، اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان بڑھتا فاصلہ، یہ سب کوئی حادثاتی دراڑیں نہیں۔ یہ بھی اسی گیم پلان کا حصہ ہے جس کے تحت پارٹی کو بکھیرنا ہے تاکہ وہ کبھی بھی اجتماعی طاقت اکٹھی نہیں کر پائے اور کبھی بھی سڑکوں پر وہ زلزلہ برپا کر نہ سکے۔ اسکو اسٹیبلشمنٹ کبھی ختم بھی نہیں ہونے دے گی، کیونکہ ایک منظم پارٹی قابو میں رہتی ہے، ایک بے قابو تحریک ہمیشہ خطرہ رہتی ہے۔تو سوال یہ ہے کہ اب سیاسی مستقبل کیا کہتا ہے؟سترہ اگست کو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں جو کچھ ہوگا، اور اٹھارہ اگست کو سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت میں جو فیصلہ سنایا جائے گا، وہی وہ دو دروازے ہیں جن سے آنے والے مہینوں کی سیاست کا سبکو پتہ چل جائیگا۔ پیپلز پارٹی نے اپنی چال چل دی ہے، ایک قدم پیچھے ہٹ کر بھی شاید وہ اصل مقصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تحریکِ انصاف کا رویہ پارلیمنٹ میں نرم ہونے کی توقع ہے، تحریک انصاف کی کمیٹیوں میں واپسی بھی ممکن ہے، اور مستقبل میں عدالتوں سے انصاف پسند بینچ کی موجودگی ایک ایسا تاثر قائم کرے گی کہ فیصلے سیاسی نہیں بلکہ آئینی بنیادوں پر ہو رہے ہیں، چاہے پردے کے پیچھے کچھ اور ہی طے ہو چکا ہو۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو مستقبل میں رعایت ملے گی، مگر وہ رعایت اتنی بڑی نہیں ہوگی کہ پوری بساط ہی الٹ کردی جائے۔ یہ قدم بہ قدم چلنے والا کھیل ہے، جہاں میڈیا تک رسائی، ملاقاتوں کی اجازت، اور شاید بنی گالا منتقلی جیسے اقدامات آہستہ آہستہ سامنے بھی آئیں، مگر سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو مکمل کھلی چھٹی کبھی نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ جس دن عمران خان کو مکمل آزادی مل گئی، اسی دن وہ پھر فیصلے بھی کریں گے اور جو شاید کسی اور کے حساب کتاب سے میل نہ کھائیں، اس سے پارٹی میں اُکھاڑ پچھاڑ بھی ہو۔یہی وہ اصل حقیقت ہے جو اس ساری سیاسی گیم پلان کے پیچھے چھپی ہوئی ہے: پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحاد کو عمران خان کی مکمل واپسی نہیں چاہیے، انہیں صرف اتنا تعاون چاہیے جتنا ایک آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے درکار ہے۔ اور تحریکِ انصاف کو، اپنی تمام تر داخلی ٹوٹ پھوٹ کے باوجود، یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست میں مکمل فتح شاذ و نادر ہی ملتی ہے، اکثر اسے قدم بہ قدم، سمجھوتوں کی صورت میں، اور کبھی کبھار خاموش رعایتوں کی شکل میں وصول کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں سیاسی طور پر منجمد برف واقعی پگھل رہی ہے۔ مگر برف کے پگھلنے کا مطلب ہمیشہ بہار نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ صرف اس بات کی نشانی ہوتا ہے کہ موسم بدلنے والا ہے، اور بدلتے موسم میں ہر کھلاڑی اپنی جگہ نئے سرے سے تلاش کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پاکستانی سیاست کا اگلا باب اسی جگہ کی تلاش کی کہانی ہوگا: ایک ایسی کہانی جس میں طاقت کے مراکز اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتے ہیں، اور جن پر یہ گرفت ہے وہ بھی جانتے ہیں کہ اس گیم میں مکمل ہار یا مکمل جیت شاید کبھی نہیں آتی، صرف اگلی چال آتی ہے۔



