Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

امریکہ اسرائیل کشمکش!

سترہ جون کو امریکہ اور ایران نے جس مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے تھے وہ پس منظر میں جا چکی ہے اور اب دونوں ممالک بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی ایک طویل اور خطرناک جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے جلد یا بدیر انہیں مذاکرات کی میز پر واپس آنا پڑے گا۔ اس معاہدے کے چودہ نکات ظاہر کرتے ہیں کہ اس نے ایران کو اتنے فوائد دیئے ہیں کہ وہ بہت جلد اربوں ڈالر حاصل کر کے نہ صرف اپنے تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کو بحال کر سکتا ہے بلکہ اپنی معیشت کو بھی مضبوط کر سکتا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے امریکہ تین سو ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کرے گا جو ایران کوتعمیر نو کے لیے دیا جائیگا۔ اسکے دیگر نکات کے مطابق ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے اسے واپس کر دئے جائیں گے۔اسکی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔ اس معاہدے کا ایران کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اسکی تیل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی جائیں گی جس کے بعد ایران عالمی منڈی میں دوسرے خلیجی ممالک کی قیمتوں کے مطابق اپنا تیل بیچ سکے گا۔ اس معاہدے کا ایک حیران کن پہلو یہ بھی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے تنازعے کو جنگ بندی کے بعد ہونیولے مذاکرات کے دوسرے دور تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ان چودہ نکات میں ایران کے بیلسٹک میزائل کا ذکر بھی نہیں اور یہ حزب اللہ‘ حماس اور حوثی قبائل کے بارے میں بھی خاموش ہے۔امریکہ میں صدر ٹرمپ کے ناقدین نے اس معاہدے کی شدید مذمت کرتے ہوے کہا ہے کہ کوئی فائدہ حاصل کئے بغیر ایران کو کھربوں ڈالر دے دیئے گئے ہیں۔
اس مفاہمتی یاداشت کی اسرائیل میں جو مخالفت ہوئی ہے اس نے واشنگٹن اور یروشلم کے تعلقات کے تنائو اور کشمکش کوظاہر کر دیا ہے۔اس معاہدے کے فو راًبعد وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کی کابینہ کے اراکین اور اسرائیلی میڈیا نے اتنا شور مچایا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اٹھارہ جون کو وائٹ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس کر کے اسرائیل کی سخت مذمت کی تھی۔ اسرائیلی اخبار The Times Of Israel نے اسے Catastrophic Capitulation یعنی تباہ کن اطاعت گذاری قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اس جنگ کے جتنے اہداف طے کئے تھے ان میں سے کوئی بھی حاصل کئے بغیر ایران کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ اخبار نے لکھا تھا کہ نہ تو تہران میں رجیم چینج ہو ئی اور نہ ہی اسکے ایٹمی پروگرام کو ختم کیا گیا۔ وزیر اعظم نتن یاہو کے وزراء نے صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوے کہا تھا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو جتنے بھی خطرات لاحق تھے وہ سب اپنی جگہ موجود ہیں مگر جنگ بندی کر دی گئی ہے۔ اسرائیل میں صدر ٹرمپ پر ہونی والی اس تنقید کے جواب میںجے ڈی وینس نے کہا تھاکہ وہ نتن یاہو کے ان وزراء کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ پر ذاتی حملے کئے ہیں۔ نائب صدر نے اسرائیلی کابینہ کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوے کہا تھا’’ اس لمحے ڈونلڈ جے ٹرمپ پوری دنیامیں وہ واحد سربراہ مملکت ہے جو اسرائیل کا ہمدرد ہے اور وہ ایک سپر پاور کا سربراہ بھی ہے‘‘ جے ڈی وینس نے کہا تھا’’ میں اگر اسرائیلی حکومت کی کابینہ میں ہوتا تو کبھی بھی ایک ایسے طاقتور دوست کی مخالفت نہ کرتا جو یکہ و تنہا میرے ملک کی حمایت کر رہا ہے۔ ‘‘ نائب صدر نے کہا کہ وہ اسرائیلیوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ گذشتہ دو برسوں میں انہوں نے جتنی جنگیں لڑی ہیں ان میں استعمال ہونے والے اسلحے کا دو تہائی حصہ امریکہ نے دیا تھااور یہ اسلحہ امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدا گیا تھا۔‘‘ نائب صدر کا یہ تندو تیز جواب امریکہ اسرائیل کشمکش کے صرف ایک پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ اسرائیل جس بیتابی اور شدت سے امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ لبنان کے جنوبی حصے میں اسرائیلی فوج کی موجودگی اور اس پر آئے روز ہونیوالے اسرائیل کے فضائی حملے امریکہ کے لیے مشکلات کا باعث بنے ہوے ہیں۔ ایران ان حملوں کے جاری رہتے ہوے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرنا چاہتا تھا اور اسرائیل حزب اللہ کو شکست دئے بغیر حملے بند کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ واشنگٹن کے سفارتکاروں نے بمشکل تمام اسرائیل اور حز ب اللہ کے درمیان معاہدہ کراکے ایران کی اس شرط کو پورا کیا تھا۔ اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوے بنجا من نتن یاہو نے کہا تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں۔
ان تمام اختلافات کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کوئی گہری دراڑ پڑگئی ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ دونوں ایک اہم سنگ میل تک آ پہنچے ہیں۔ اسرائیل کا امریکی سیاست اور فیصلہ سازی میں ایک اہم کردار‘ مشرق وسطیٰ میں اسکی طویل عسکری مداخلت اور واشنگٹن میں اسرائیل لابی کا بے پناہ اثر رسوخ ‘ ایسے معاملات ہیں جن پر اب امریکہ میں کھلم کھلا بحث ہو رہی ہے۔تئیس جون کو نیویارک میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے پرائمری انتخا بات میں تین ایسے امیدوار کامیاب ہوئے تھے جنہوں نے اپنی انتخابی مہم میں اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوے فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ نیویارک کو یروشلم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا یہودی شہر کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک مسلمان میئر ظہران ممدانی کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ امریکہ میں بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ اسرائیل کو اب امریکی کانگرس کے علاوہ دونوں سیاسی جماعتوں میں بھی پہلے جیسی حمایت حاصل نہیں رہی۔ لیکن امریکہ اسرائیل تعلقات کی اس جہت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ صیہونی ریاست کو اسلحے کی ترسیل اب بھی جاری ہے مگر اسکے طرفدار اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ نومبر میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی ہائوس میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو پھر اسرائیل کو امریکی سیاست میں پہلے جیسی اہمیت حاصل نہ رہے گی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button