مولانا فضل الرحمٰن کے متنازعہ بیان پر پنجاب اسمبلی میں قراردادیں جمع، قصور میں بھی شدید ردِعمل

لاہور( آصف اقبال) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاک فوج سے متعلق متنازع بیان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں دو الگ الگ قراردادیں جمع کرا دی گئیں، جبکہ ضلع قصور سمیت مختلف علاقوں میں سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھی شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔آئی پی پی کے رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ قرارداد کے مطابق ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات قومی مفاد کے منافی ہیں اور ایسے بیانیے سے دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔قرارداد میں پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ پوری قوم اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ قومی اداروں کے وقار کو مجروح کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے پاک فوج، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی قرارداد جمع کرائی۔ قرارداد میں شہداء کی قربانیوں کو قومی تاریخ کا روشن باب قرار دیتے ہوئے ان کے ایثار، قربانی اور حب الوطنی کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ نئی نسل کو ان قربانیوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ادھر ضلع قصور میں بھی مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر عوامی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں نے بیان کو مسترد کرتے ہوئے پاک فوج اور دیگر دفاعی اداروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور قومی اداروں کا احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے، جبکہ قومی مفاد کے معاملات پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جانا چاہیے۔قصور میں عوامی حلقوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک کی سلامتی، استحکام اور قومی اداروں کے وقار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر متحد رہیں گے۔ پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قراردادوں کو مزید کارروائی کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔



