سولر فیول بنانے والا مصنوعی ضیائی تالیف کا نظام تیار

محققین نے مصنوعی فوٹوسنتھیسز پر مبنی ایک جدید نظام تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے براہِ راست قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کر سکتا ہے اور اس کے لیے نہ بیٹریوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی پیچیدہ الیکٹرانک کنٹرول سسٹمز کی۔یہ پیش رفت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے شمسی ایندھن کی پیداوار نہ صرف سادہ ہو سکتی ہے بلکہ اس کی مجموعی لاگت میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔مصنوعی فوٹوسنتھیسز کا بنیادی مقصد قدرتی عمل کی نقل کرنا ہے جس میں پودے سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ سائنس دان اسی عمل کو استعمال کرتے ہوئے ایسا نظام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک ساتھ ایندھن پیدا کرے اور ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرے۔اس نئی ایجاد میں سب سے بڑا مسئلہ یعنی دن بھر سورج کی روشنی کی شدت میں تبدیلی کو حل کر لیا گیا ہے۔ عام طور پر ایسے سسٹمز کو بیٹریوں اور بیرونی کنٹرول یونٹس کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس نئے الیکٹرولائزر نے یہ ضرورت ختم کر دی ہے۔ یہ آلہ خود بخود روشنی کی شدت کے مطابق اپنی برقی کارکردگی کو ایڈجسٹ کرتا ہے، جس سے ایندھن کی پیداوار زیادہ مستحکم ہو جاتی ہے۔



