پنجاب کا 5903 ارب روپے کا بجٹ ترقی، کفایت شعاری اور عوامی فلاح کا عکاس قرار

لاہور (آصف اقبال) پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 5903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کرتے ہوئے 752 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام متعارف کرا دیا۔ سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے بجٹ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اسے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ترقیاتی وژن کا مظہر قرار دیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب میں یکساں ترقی کا عمل جاری ہے اور صوبے کے تمام علاقوں کو ترقیاتی ثمرات پہنچائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے جبکہ پی ڈی ایم حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر سفارتی محاذ پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور عالمی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب اور دیگر غیر معمولی حالات کے باوجود پنجاب حکومت نے مؤثر حکمت عملی اپنائی۔ صوبے نے تیل کی قیمتوں کے بحران کے اثرات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب نے اپنے وسائل سے آمدنی 412 ارب روپے سے بڑھا کر 824 ارب روپے تک پہنچائی جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی ٹیکس وصولیوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔سینئر وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے جاری اخراجات میں 3.2 فیصد کمی کی، غیر ضروری آسامیوں کے خاتمے اور محکموں کی "سمارٹ سائزنگ” کے ذریعے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں 12 ہزار 786 غیر فعال منصوبے ختم کرکے 3857 ارب روپے کی بچت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں 2000 الیکٹرک بسوں اور 1100 ای ٹیکسیوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ "اپنا گھر، اپنی چھت” پروگرام عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ صنعتوں کی مالی معاونت کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور صنعتی زونز میں زمین رعایتی نرخوں پر لیز پر دی جائے گی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 30 فیصد حصہ برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی گئی۔ نواز شریف کینسر ریسرچ اسپتال کا پہلا مرحلہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور سیف سٹی منصوبے کو یونین کونسل کی سطح تک توسیع دی جائے گی۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے اور بجٹ میں کیے گئے وعدوں کو پورا کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے طرز پر ایک مربوط ریونیو ادارہ قائم کیا جائے گا تاکہ تمام ٹیکسوں کی وصولی ایک ہی پلیٹ فارم سے ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کسی نئے ٹیکس کا نفاذ نہیں کیا گیا، تاہم ٹیکس نیٹ میں توسیع کے ذریعے محصولات بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال میں ٹیکس آمدنی میں 46 فیصد اضافے جبکہ نان ٹیکس آمدنی میں 461 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق زرعی انکم ٹیکس نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے ساڑھے بارہ ایکڑ سے زائد اراضی رکھنے والے کاشتکاروں کے لیے ایک ہزار روپے فی ایکڑ فکس ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی میں مزید محصولات اکٹھی کرنے کی گنجائش موجود ہے۔کم از کم اجرت اور پنشن کے حوالے سے سینیئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز جلد حتمی فیصلہ کریں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ طے شدہ فارمولے کے مطابق کیا جاتا ہے، جس کے تحت پنشن میں اضافہ تنخواہوں میں اضافے کے نصف کے برابر ہوتا ہے۔



