پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اہداف پر اتفاقِ رائے ہونے کا امکان

اسلام آباد:آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ 27-2026 کے سلسلے میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آج آخری روز ہے، دونوں فریقین کے درمیان بجٹ اہداف پر اتفاقِ رائے ہونے کا امکان ہے۔وفاقی حکومت نے 2026 سے 2031 تک کی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کا مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دیا، پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کو ترجیح دی گئی ہے۔آئی ایم ایف نے الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ حکومت نے اس کے برعکس صرف ایک فیصد ٹیکس لگانے کی سفارش کی ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ نئی انرجی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کم شرح ٹیکس ناگزیر ہے۔ذرائع کے مطابق فور اور تھری ویلر الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، الیکٹرک بسوں، ٹرکوں، پِک اَپ، ڈبل کیبن اور ٹریکٹرز سمیت دیگر گاڑیوں پر بھی کم شرح ٹیکس کی تجویز زیر غور ہے۔حکومت نے آٹو سیکٹر پر ٹیرف کی شرح 2030 تک کم کرکے 6 فیصد تک لانے کی تجویز بھی دی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت مقامی صنعت، برآمدات اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔



