پنجاب میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری، سیکیورٹی میں کوئی خلا برداشت نہیں کیا جائے گا مریم نواز

لاہور ( آصف اقبال ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی امور اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر اور منظم اشتراکِ کار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز میں کامیابیوں پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشن میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعلیٰ نے آپریشن ضربِ للہ الحق میں شہید کیپٹن ابوذر فاروق، لیفٹیننٹ شیراز بابر اور دیگر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اجلاس میں شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔ کمانڈر لاہور کور بھی اجلاس میں موجود تھے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچے کے علاقے میں سوشل انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے 93 منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسمارٹ پولیس اسٹیشنز اور پولیس چیک پوسٹس بھی قائم کی جائیں گی۔ کچے کے علاقے میں 62 کروڑ روپے کی لاگت سے اسٹیل برج تعمیر کیا جائے گا، جبکہ صحت، تعلیم اور امن و امان کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی پیکیج دیا جا رہا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ کچے کے عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے اسکل ڈویلپمنٹ منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، جبکہ علاقے میں مسلسل مانیٹرنگ اور ویجی لینس جاری ہے۔ انہوں نے کچے میں امن و امان کے لیے کام کرنے والے تمام اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں تمام ادارے باہمی اشتراکِ کار کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور پیفٹاک کے ذریعے بروقت معلومات کا تبادلہ ممکن ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق پیفٹاک میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب کا قیام اداروں کے درمیان بروقت معلومات کے تبادلے کے لیے اہم اقدام ہے، جسے پاک فوج اور دیگر اداروں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ امن و امان کے لیے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا پڑتا ہے، سیکیورٹی کے معاملے میں کوئی گیپ نہیں آنا چاہیے اور پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔ مؤثر اور پیشگی پولیسنگ کے باعث پنجاب میں جرائم کا گراف مسلسل نیچے آ رہا ہے جبکہ سٹریٹ کرائم میں کمی سے عوام میں احساسِ تحفظ پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں غنڈہ گردی، قبضہ مافیا اور مافیاز کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ کرپشن میں ملوث ہونے پر پولیس کے 718 ملازمین کو ملازمت سے نکالا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی سمیت تمام ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے پولیس اہلکاروں کو باڈی ورن ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے جبکہ سیف سٹی کا دائرہ کار پورے پنجاب تک پھیلا دیا گیا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے اخراج کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر صوبے میں امن و امان کی صورتحال حوصلہ افزا ہے تاہم مختلف آپریشنز جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ جوان بیٹوں کو محاذ پر بھیجنے والے والدین ہم سے بہتر اور اعلیٰ ترین لوگ ہیں۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب اور پنجاب کے عوام کی جانب سے مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کی قیادت کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ادارے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑ رہے ہیں اور آپریشن بنیان مرصوص سے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں بلند ہوا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ مختلف چیلنجز کے باوجود عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر عوام کو مہنگائی اور معاشی مشکلات سے بچانے پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ ایک ٹیم بن کر یکساں سمت میں کام کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔



