مریخ سے متعلق نئی تحقیق میں سائنس دانوں کا اہم انکشاف

مریخ اگرچہ ماضی میں کسی حد تک زمین سے مشابہ دکھائی دیتا تھا لیکن آج یہ سرخ سیارہ زندگی کے لیے انتہائی غیر موزوں نظر آتا ہے۔اس کے باوجود مریخ پر موجود برف سائنس دانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ اس میں سیارے کے ماضی کے موسم اور آب و ہوا کے اہم ریکارڈ محفوظ ہو سکتے ہیں، جو یہ جاننے میں مدد دے سکتے ہیں کہ مریخ پر کبھی زندگی موجود تھی یا نہیں۔سائنس دانوں کے مطابق مریخ کے قطبی علاقوں کے علاوہ زیادہ تر برف گرد و غبار کی تہہ کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ یہ گرد و غبار مریخ کی آب و ہوا پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، کیونکہ برف کی سطح کو سیاہ کرنے سے سورج کی روشنی کے خلا میں واپس منعکس ہونے کی مقدار تبدیل ہو جاتی ہے۔یونیورسٹی آف واشنگٹن کی ایک نئی تحقیق (جو جرنل این پی جے اسپیس ایکسپلوریشن میں شائع ہوئی ہے) میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مریخ کے شمالی قطب پر سائنس دانوں کے اندازے سے کم گرد و غبار موجود ہے۔



