Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

بندوق کی حکمرانی، قلم کی بے بسی اور فلسطین کے معصوم بچوں کا لہو عالمی ضمیر کب جاگے گا؟

خصوصی تحریر :آصف اقبال
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب ریاستیں انصاف کے بجائے طاقت، دلیل کے بجائے بندوق اور انسانی حقوق کے بجائے سیاسی مفادات کو اپنی حکمرانی کا اصول بنا لیتی ہیں تو صرف سرحدیں لہولہان نہیں ہوتیں بلکہ انسانی تہذیب کی اخلاقی بنیادیں بھی لرزنے لگتی ہیں۔ اکیسویں صدی کی ترقی یافتہ دنیا آج اسی سنگین تضاد کا شکار ہے۔ انسان چاند کی تسخیر سے آگے مصنوعی ذہانت کے نئے جہان آباد کر رہا ہے، جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن فلسطین کے معصوم بچوں کو موت، بھوک اور تباہی سے بچانے کے لیے عالمی طاقتوں کا سیاسی عزم سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ یہ محض سفارتی ناکامی نہیں بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک ایسا اخلاقی امتحان ہے جس کا جواب آنے والی نسلیں ضرور طلب کریں گی۔سوال یہ نہیں کہ دنیا کی طاقتور ریاستوں کے پاس کتنے میزائل، جنگی جہاز اور تباہ کن ہتھیار موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنی عسکری طاقت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے باوجود غزہ کے معصوم بچوں کو زندہ رہنے کا بنیادی حق کیوں نہیں مل سکا؟ کیا بندوق کی طاقت انسانی زندگی کی حرمت سے زیادہ مقدس ہو چکی ہے؟ کیا عالمی انصاف صرف ان قوموں کے لیے ہے جن کے پاس طاقتور اتحادی، معاشی وسائل اور سیاسی اثرورسوخ موجود ہیں؟غزہ کی تباہ شدہ بستیاں، ملبے میں تبدیل گھر، اجڑے خاندان، بے سہارا بچے اور اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتی مائیں عالمی سیاست کے سامنے ایک ایسی فردِ جرم پیش کر رہی ہیں جسے تاریخ کے صفحات سے مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ غزہ کی وزارتِ صحت سے منسوب 19 اکتوبر 2026 تک کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران 74 ہزار 480 فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 75 ہزار 539 زخمی ہو چکے ہیں۔ ملبے تلے دبے افراد اور ناقابلِ رسائی علاقوں میں موجود متاثرین کے باعث انسانی نقصان کی مکمل تصویر سامنے آنا اب بھی مشکل ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹس بھی ہزاروں بچوں اور خواتین کی ہلاکتوں، مستقل معذوری، غذائی قلت اور بڑے پیمانے پر بے گھری کے المناک حقائق بیان کرتی ہیں یہ محض اعدادوشمار نہیں بلکہ وہ معصوم زندگیاں ہیں جنہوں نے ابھی دنیا کو سمجھنا بھی شروع نہیں کیا تھا۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہییں تھیں، آج ان کے نام قبروں کے کتبوں پر لکھے جا رہے ہیں۔ وہ مائیں جن کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے خواب تھے، آج انہی آنکھوں میں بچھڑنے والوں کا غم اور زندہ بچ جانے والوں کی فکر ہے۔ آخر ان بچوں کا جرم کیا تھا؟ کیا فلسطینی ہونا انسانی حقوق سے محرومی کا جواز بن سکتا ہے؟ اور کیا دنیا کی مہذب اقوام کے پاس ان سوالات کا کوئی قابلِ قبول جواب موجود ہے؟اکتوبر 2025 کی جنگ بندی نے امید پیدا کی تھی کہ شاید غزہ میں موت کا سفر رک جائے گا، لیکن اس کے بعد بھی ہلاکتوں، زخمیوں اور شہریوں کے عدم تحفظ کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔ یہ صورتِ حال ثابت کرتی ہے کہ جنگ بندی کا اعلان اور حقیقی امن کا قیام دو مختلف حقیقتیں ہیں۔ امن صرف سفارتی معاہدوں، مشترکہ اعلامیوں اور عالمی رہنماؤں کی تقریروں سے قائم نہیں ہوتا۔ امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب بچے خوف کے بغیر سو سکیں، مائیں اپنے خاندانوں کو محفوظ سمجھیں اور شہریوں کو خوراک، علاج، تعلیم اور باوقار زندگی کی ضمانت میسر ہو۔غزہ کا المیہ صرف بمباری اور گولیوں تک محدود نہیں۔ بھوک، بیماری، بے گھری، ادویات کی قلت اور تباہ شدہ طبی نظام بھی انسانی زندگی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یونیسیف اور دیگر امدادی اداروں کی تنبیہات واضح کرتی ہیں کہ بچوں میں غذائی قلت اور لاکھوں بے گھر افراد کی غیر محفوظ زندگی آنے والی نسلوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ دنیا کے لیے اس سے بڑی اخلاقی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے کہ طاقتور ترین جنگی جہاز تو چند لمحوں میں ہزاروں میل کا سفر طے کر سکتے ہیں، مگر ایک بھوکے بچے تک روٹی، پانی اور دوا پہنچانا بین الاقوامی سیاست کا پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے؟دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کا قیام اس عزم کے ساتھ عمل میں آیا تھا کہ دنیا کو تباہ کن جنگوں سے محفوظ رکھا جائے گا، لیکن فلسطین کا بحران عالمی نظام کی عملی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں ویٹو کی سیاست، بڑی طاقتوں کے جغرافیائی مفادات اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ میں غیر مساوی رویوں نے عالمی انصاف کی ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قانون کمزور کے لیے پابندی اور طاقتور کے لیے محض ایک قابلِ بحث اصول بن جائے تو پھر عالمی اداروں کی اخلاقی حیثیت کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟سات اکتوبر 2023 کو اسرائیلی شہریوں پر حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے حملے اور یرغمال بنانے کے اقدامات بھی قابلِ مذمت ہیں، لیکن ان جرائم کو بنیاد بنا کر فلسطینی شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے یا غیر قانونی حملوں کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی انسانی قانون تمام فریقوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی اصل عظمت یہی ہے کہ ان کا تحفظ قومیت، مذہب، سیاسی وابستگی اور عسکری طاقت سے بالاتر ہو۔اس پورے المیے میں قلم اور صحافت کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ بندوق کسی علاقے پر عسکری برتری قائم کر سکتی ہے، مگر لوگوں کے دلوں میں اعتماد پیدا نہیں کر سکتی۔ طاقت کسی آواز کو وقتی طور پر خاموش کر سکتی ہے، مگر ناانصافی کے احساس کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کر سکتی۔ صحافت کا بنیادی فریضہ حکمرانوں کے بیانات دہرانا نہیں بلکہ طاقتور سے سوال کرنا، مظلوم کی آواز بننا اور تاریخ کے لیے سچ محفوظ کرنا ہے۔ غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتیں اور آزادانہ رپورٹنگ کو لاحق خطرات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جب سچ بولنا خطرناک ہو جائے تو قلم کی اخلاقی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔فلسطینی عوام کو محض ہمدردی، امدادی سامان یا عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ انصاف، آزادی، حقِ خودارادیت اور محفوظ سیاسی مستقبل چاہیے۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوگا جب فلسطینیوں کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں، تمام شہریوں کی سلامتی یقینی بنائی جائے اور بین الاقوامی قانون کو سیاسی مفادات کے بجائے انصاف کے اصولوں کے مطابق نافذ کیا جائے۔آنے والی نسلیں ضرور پوچھیں گی کہ جب غزہ کے بچے مارے جا رہے تھے، مائیں اپنے خاندان کھو رہی تھیں اور لاکھوں انسان بے گھر تھے تو عالمی طاقتیں کس طرف کھڑی تھیں؟ کیا ان کے فیصلوں میں انسانی زندگی مقدم تھی یا سیاسی مفادات؟ کیا آزاد دنیا کا قلم مظلوموں کی آواز بن سکا یا طاقت کے شور میں سچائی دب کر رہ گئی؟یاد رکھیے، بندوق کسی بستی کو ملبے میں بدل سکتی ہے، مگر انصاف کے سوال کو دفن نہیں کر سکتی۔ طاقت وقتی فتح کا اعلان کر سکتی ہے، مگر تاریخ میں اخلاقی فتح ہمیشہ انسانیت، سچائی اور انصاف کی ہوتی ہے۔ غزہ کے معصوم بچے دنیا سے ہتھیار نہیں مانگ رہے، وہ زندگی، تحفظ، تعلیم اور خوف سے آزاد مستقبل کا حق مانگ رہے ہیں۔آج عالمی ضمیر کے سامنے فیصلہ کن سوال یہی ہے کہ کیا دنیا طاقت کو قانون کے تابع کرے گی یا قانون کو طاقتوروں کی مرضی کا غلام بنائے رکھے گی؟ اگر فلسطین کے معصوم بچوں کا لہو بھی عالمی قیادت کے ضمیر کو بیدار نہ کر سکا تو یہ شکست کسی ایک قوم یا خطے کی نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کی اخلاقی شکست ہوگی۔کیونکہ بندوق وقتی طور پر تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے، مگر تاریخ کا آخری فیصلہ ہمیشہ انصاف، انسانیت اور سچ لکھنے والے قلم کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button