Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ٹیکنالوجی

سائنس دانوں کا چاند کے سُکڑنے سے متعلق حیران کن انکشاف!

ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل سائنس دانوں کو پہلی بار اس بات کے ٹھوس شواہد ملے تھے کہ چاند سکڑ رہا ہے، لیکن حال ہی میں محققین کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ چاند کس حد تک سکڑ چکا ہے۔14 اکتوبر 2026 کو سائنسی جرنل دی پلینیٹیری سائنس جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق نے چاند کے سکڑنے کے عمل پر روشنی ڈالی ہے اور اب تک کا سب سے مفصل اندازہ پیش کیا ہے کہ حالیہ ارضیاتی تاریخ کے دوران ہمارے قدرتی سیارچے کا حجم کس قدر کم ہوا ہے۔تحقیق میں چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زیادہ نسبتاً نئی فالٹ لائنز (دراڑوں) کی نشاندہی کی گئی۔ محققین کے اندازے کے مطابق گزشتہ 40 کروڑ سے 80 کروڑ سال کے دوران چاند کے نصف قطر میں تقریباً 45 میٹر کی کمی واقع ہوئی ہے۔اپنے مشاہدات کی بنیاد پر محققین نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ اگر چاند کے سکڑنے کی رفتار کو وقت کے ساتھ یکساں تصور کیا جائے تو اس کا نصف قطر ہر 10 لاکھ سال میں تقریباً 6 سے 11 سینٹی میٹر کم ہو رہا ہے۔یہ پیمائشیں کرنے کے لیے محققین کی ایک ٹیم (جس کی قیادت تھامس آر واٹرز کر رہے تھے) نے ناسا کے لُونر رِیکونائسنس آربیٹر (ایل آر او) پر نصب کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر اور مشاہدات کا استعمال کیا۔ تھامس واٹرز کا تعلق اسمتھ سونین کے نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے مرکز برائے ارضیاتی و سیاروی مطالعات سے ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button