مصنوعی ذہانت کی مدد سے پہلی بار نئے وائرس تیار کیے جانے کا دعویٰ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے پہلی بار نئے وائرس تیار کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس پر ماہرین نے بائیو سیفٹی اور بائیو سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کے ایک نظام کو استعمال کرتے ہوئے ایسے بیکٹیریوفیجز تیار کیے، جو بیکٹیریا کو متاثر اور ختم کرتے ہیں۔محققین کے مطابق تیار کیے گئے نئے وائرس ایسے ای کولی بیکٹیریا کو بھی ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کے خلاف قدرتی طور پر پائے جانے والے وائرس مؤثر نہیں تھے۔تاہم، جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی سے وابستہ ماہرین ٹام انگلزبی اور مورٹز ہانکے نے خبردار کیا ہے کہ یہ پیش رفت بائیو سیفٹی کے لیے ایک اہم اور خطرناک موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق جنریٹو اے آئی کے ذریعے وائرل جینوم تیار کرنے کی صلاحیت اب موجود ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کو محفوظ انداز میں استعمال کرنے کے لیے ضروری گورننس اور حفاظتی نظام ابھی اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکے۔تحقیق میں شامل سائنس دانوں نے بھی ممکنہ خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ مستقبل میں ایسی تحقیق کرنے والے ماہرین منصوبے کے دوران سیفٹی اور سیکیورٹی کے ماہرین سے مسلسل مشاورت کریں۔



