گوگل کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے محققین کا کہنا ہے کہ پہلی بار ان کے سامنے ایسے شواہد آئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ہیکرز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) استعمال کر کے سائبر سیکیورٹی کی سب سے خطرناک قسم کی خامی تیار کی۔گوگل تھریٹ انٹیلی جنس گروپ (جی ٹی آئی جی) کی ٹیم کے مطابق سائبر مجرموں نے اے آئی کی مدد سے ایک ایسا ’زیرو-ڈے ایکسپلائٹ‘ دریافت کیا، جو انتہائی تشویشناک نوعیت کا سائبر حملہ سمجھا جاتا ہے۔’زیرو-ڈے‘ خامی وہ ہوتی ہے جس کے بارے میں سافٹ ویئر بنانے والوں کو خود بھی علم نہیں ہوتا، یعنی ان کے پاس اس کے خلاف دفاع تیار کرنے کے لیے ’صفر دن‘ ہوتے ہیں۔پیر کے روز جاری رپورٹ میں محققین نے لکھا کہ پہلی بار جی ٹی آئی جی نے ایک ایسے خطرناک گروہ کی نشاندہی کی ہے جس نے ہماری رائے میں اے آئی کی مدد سے تیار کردہ زیرو-ڈے ایکسپلائٹ استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق یہ مجرم گروہ اس خامی کو بڑے پیمانے پر سائبر حملوں میں استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا، لیکن گوگل کی بروقت کارروائی اور پیشگی کھوج نے ممکنہ طور پر اس خطرناک حملے کو ناکام بنا دیا۔



