Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

مری کا اجلاس، سیاسی صف بندی، معیشت اور طاقت کے ایوانوں کے اشارے

سیاسی تجزیہ ( آصف اقبال )سیاست میں بعض ملاقاتیں محض ملاقاتیں نہیں ہوتیں۔ بعض اجلاس بظاہر ایک محدود ایجنڈے کے لیے بلائے جاتے ہیں، مگر ان کے پسِ پردہ کئی بڑے سیاسی سوالات زیرِ بحث ہوتے ہیں۔ مری میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا حالیہ اجلاس بھی اسی نوعیت کی سیاسی سرگرمی محسوس ہوتا ہے۔میاں محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور جماعت کی دیگر اہم قیادت کی شرکت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ گفتگو کا دائرہ محض آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم کے انتخاب تک محدود نہیں تھا۔ آزاد کشمیر کا معاملہ یقیناً اہم تھا، لیکن مسلم لیگ (ن) جیسی بڑی جماعت جب اپنی مرکزی قیادت کو ایک مقام پر جمع کرتی ہے تو وہاں آنے والے دنوں کی سیاست، جماعتی حکمتِ عملی، مرکز اور صوبوں کے تعلقات، سیاسی مخالفین سے معاملات اور مستقبل کی سیاسی صف بندی جیسے سوالات بھی لازماً زیرِ غور ائے ہوں گے ۔آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے بھی صورتِ حال کوئی ایسا معمہ نہیں جس کا جواب تلاش کرنا مشکل ہو۔ شاہ غلام قادر یا چودری طارق فاروق کا نام پہلے ہی مضبوط امیدوار کے طور پر زیرِ گردش رہا ہے، جبکہ دیگر اہم رہنماؤں کے نام بھی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ اس لیے اصل سوال شاید یہ نہیں کہ آزاد کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) آنے والے سیاسی منظرنامے میں خود کو کس انداز میں منظم، مضبوط اور عوامی سطح پر مؤثر بنائے گی۔مری کا اجلاس اسی بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔سیاسی طاقت اور اس کے سہارےمحسن نقوی کے حالیہ بیانات اور ان کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی بحث کے تناظر میں بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی یہ ملاقات اہم دکھائی دیتی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے یہ سوچنا خطرناک ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست میں اسے طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہے، اس لیے اس کی سیاسی بنیاد بھی مضبوط ہے۔اقتدار اور سیاسی طاقت دو مختلف چیزیں ہیں۔سیاسی جماعتیں اگر صرف اقتدار کے سہارے زندہ رہیں تو اقتدار ختم ہوتے ہی ان کی عوامی قوت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ حکومتی طاقت کے ساتھ اپنی سیاسی بنیاد، عوامی رابطے اور مستقبل کی حکمتِ عملی کو بھی مضبوط کرے۔اسی تناظر میں نئے صوبوں کی بحث، پنجاب کی سیاست، مرکز اور صوبوں کے اختیارات، حکومتی معاملات اور مستقبل کی ممکنہ سیاسی صف بندی جیسے موضوعات بھی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔لیکن پاکستانی سیاست کے ہر راستے کا اختتام بالآخر ایک ہی مقام پر ہوتا ہے: معیشت۔سیاست کے ہر راستے کا اختتام معیشت پرپاکستان اس وقت صرف سیاسی استحکام کا نہیں بلکہ معاشی استحکام کا بھی محتاج ہے۔گزشتہ کئی برسوں کے معاشی بحران نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ سیاسی غیر یقینی اور معاشی کمزوری ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ سرمایہ کار کو سیاسی استحکام چاہیے، صنعت کار کو پالیسی کا تسلسل، کاروباری طبقے کو ٹیکس اور توانائی کے نظام میں پیش بینی، نوجوان کو روزگار اور عام آدمی کو اپنی آمدن کے مقابلے میں قابلِ برداشت مہنگائی درکار ہے۔اگر سیاسی جماعتیں ہر چند ماہ بعد ایک دوسرے کو گرانے، بچانے یا دباؤ میں رکھنے کی سیاست میں مصروف رہیں گی تو معاشی پالیسی کا تسلسل کیسے قائم ہوگا؟پاکستان کی معیشت میں کچھ استحکام ضرور آیا ہے، تاہم یہ استحکام ابھی اس سطح پر نہیں پہنچا جہاں اسے مطمئن کن قرار دیا جا سکے۔ IMF کے تازہ تخمینوں میں 2026 کے لیے پاکستان کی حقیقی GDP شرحِ نمو تقریباً 3.6 فیصد اور اوسط مہنگائی تقریباً 7.2 فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔یہ اعداد و شمار بحران سے نکلنے کی کوشش کی عکاسی ضرور کرتے ہیں، لیکن پاکستان جیسے ملک کے لیے تین سے ساڑھے تین فیصد کی معاشی نمو کافی نہیں۔ تیزی سے بڑھتی آبادی، نوجوانوں کی بڑی تعداد اور روزگار کی بڑھتی ہوئی ضرورت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ معیشت کو کہیں زیادہ تیز رفتار اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔دوسری طرف مالیاتی دباؤ، قرضوں کی ادائیگیاں، توانائی کے مسائل، محدود ٹیکس بیس، سرکاری اداروں کا بوجھ اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔یہ وہ مسائل ہیں جو کسی ایک حکومت کے جانے سے ختم نہیں ہوں گے۔اسی لیے معیشت کو سیاسی جنگ کا ایندھن بنانے کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کا موضوع بنانا ہوگا۔معاشی پالیسی میں تسلسل کیوں ضروری ہے؟پاکستان کی معیشت کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ پالیسی کا تسلسل ہے۔حکومت کوئی معاشی اصلاح شروع کرے تو اگلی حکومت اسے صرف اس بنیاد پر ختم نہ کرے کہ وہ پچھلی حکومت کا منصوبہ تھا۔ ٹیکس اصلاحات ہوں، توانائی کا شعبہ، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، برآمدات کا فروغ یا سرمایہ کاری کی پالیسی—ہر شعبے میں سیاسی حکومتوں کو وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا۔حالیہ عرصے میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور سیاسی استحکام کو ایک دوسرے سے الگ نہیں دیکھتے۔سیاسی عدم استحکام کا اثر صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہتا۔ اس کی لہریں اسٹاک مارکیٹ، سرمایہ کاری، روپے کی قدر، صنعت، روزگار اور بالآخر عام آدمی کی جیب تک پہنچتی ہیں۔تحریک انصاف کے لیے پیشکشیں یا محض سیاسی افواہیں؟دوسری جانب تحریک انصاف کے حوالے سے بھی ایک عرصے سے مختلف نوعیت کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔ کبھی عمران خان کے لیے بنی گالہ میں ہاؤس اریسٹ کی بات سامنے آتی ہے، کبھی ملاقاتوں میں آسانی، علاج یا اہلِ خانہ سے رابطے کی سہولت کا ذکر ہوتا ہے اور کبھی اس سے بڑی سیاسی پیشکشوں کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔حالیہ سیاسی بحث میں یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ آئینی ترمیم کے معاملے میں تحریک انصاف سے تعاون طلب کیا جا سکتا ہے اور اس کے بدلے عمران خان یا پارٹی کو بعض سیاسی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔لیکن یہاں احتیاط ضروری ہے۔فی الحال یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کوئی باقاعدہ، سنجیدہ اور قابلِ عمل سیاسی پیشکش واقعی موجود ہے یا یہ محض سیاسی قیاس آرائیاں ہیں۔ ایسے معاملات میں افواہ اور حقیقت کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ایک طرف وہ حلقے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو کسی مرحلے پر سیاسی ریلیف دے کر پارلیمانی معاملات میں تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کی سیاست کا موجودہ بیانیہ مزاحمت اور اسٹیبلشمنٹ مخالف مؤقف کے گرد کھڑا ہے۔اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے بنیادی بیانیے کے برخلاف وقتی سہولت قبول کرتی ہے تو اسے اپنے کارکنوں اور حامیوں کے سامنے اس فیصلے کا جواز بھی دینا پڑتا ہے۔اسی لیے ملاقات کی اجازت، طبی سہولت یا اہلِ خانہ سے رابطے جیسے اقدامات اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، مگر ان کی قیمت کسی بڑے سیاسی سمجھوتے کی صورت میں کیا ہوگی، یہ ایک الگ سوال ہے۔تاہم یہاں ایک بنیادی حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: پاکستان کی معیشت طویل سیاسی تعطل برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔اگر سیاسی محاذ مسلسل محاذ آرائی کا شکار رہے، پارلیمنٹ قانون سازی کے بجائے سیاسی صف بندی کا میدان بن جائے اور حکومت کی توانائی سیاسی بحرانوں میں صرف ہوتی رہے تو معاشی اصلاحات کا ایجنڈا پیچھے چلا جائے گا۔اسی لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت کو صرف اس سوال سے نہیں پرکھنا چاہیے کہ کس کو کیا ریلیف ملا۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس مفاہمت سے ملک کے سیاسی استحکام، معاشی پالیسی، سرمایہ کاری، روزگار اور حکمرانی میں کیا بہتری آئے گی۔اصل مسئلہ شخصیات نہیں، نظام ہےپاکستانی سیاست کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ شخصیات اور اداروں کے درمیان اختلافات کو اکثر پورے سیاسی نظام کی کشمکش بنا دیا جاتا ہے۔آج عمران خان کو ملک کا سب سے بڑا اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہنما قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے حامی ماضی کی سیاسی مداخلتوں کو بنیاد بنا کر موجودہ نظام پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ لیکن پاکستانی سیاست کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد طاقتور اداروں کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔اصل جمہوری امتحان یہی ہے کہ سیاسی جماعت اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، کیا اس کے اصول تبدیل نہیں ہوتے؟اگر اقتدار میں پارلیمانی بالادستی قابلِ قبول ہو اور اپوزیشن میں وہی پارلیمنٹ بے معنی قرار پائے، اگر حکومت میں اداروں کے کردار کو قبول کیا جائے اور اقتدار سے باہر آکر اسی کردار پر اعتراض کیا جائے تو پھر مسئلہ صرف کسی ایک جماعت یا شخصیت کا نہیں رہتا۔یہ پوری سیاسی ثقافت کا سوال بن جاتا ہے۔طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہےاسی تناظر میں صدر آصف علی زرداری کی حالیہ تقریر بھی قابلِ توجہ ہے۔ طاقت اور دفاع کے ساتھ ذمہ داری کو جوڑتے ہوئے ان کا مؤقف اس وسیع تر سوال کو جنم دیتا ہے کہ ریاستی طاقت کا استعمال کس مقصد اور کس اصول کے تحت ہونا چاہیے۔یہ بات صرف دفاعی طاقت تک محدود نہیں۔ریاستی طاقت کا اصل امتحان صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔ اس کا ایک اہم امتحان داخلی سیاست میں بھی ہوتا ہے—خصوصاً اس وقت جب ریاست کو اپنے شہریوں، سیاسی جماعتوں اور اختلاف رکھنے والوں سے معاملہ کرنا ہو۔اگر قومی طاقت کا مقصد ریاست کا تحفظ، امن اور استحکام ہے تو داخلی سطح پر بھی طاقت کے استعمال میں قانون، آئین اور سیاسی ذمہ داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔اور یہاں ایک بار پھر معیشت درمیان میں آجاتی ہے۔کمزور معیشت میں سیاسی کشمکش زیادہ خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کرتا، کاروباری اعتماد کو کم کرتا اور حکومت کی توجہ طویل المدتی اصلاحات سے ہٹا دیتا ہے۔پاکستان کو سیاسی جنگ نہیں، معاشی سمت چاہیےپاکستان اس وقت ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی جماعتوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آنے والے برس ایک دوسرے کو شکست دینے میں گزاریں گی یا ملک کو معاشی طور پر آگے لے جانے کے لیے کم از کم چند بنیادی نکات پر اتفاق بھی کریں گی۔یہ اتفاق کسی ایک جماعت کی فتح نہیں ہوگا۔یہ پاکستان کی فتح ہوگی۔مسلم لیگ (ن) کو اپنی سیاسی طاقت کے ساتھ معاشی کارکردگی بھی دکھانا ہوگی۔ تحریک انصاف کو اپنی مزاحمتی سیاست کے ساتھ یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اقتدار میں آکر وہ معیشت کو کس سمت لے جائے گی۔ پیپلز پارٹی کو وفاقی سیاست میں اپنے کردار کے ساتھ معاشی اصلاحات کے بارے میں واضح مؤقف دینا ہوگا۔اور تمام سیاسی جماعتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان ہمیشہ قرض، بیل آؤٹ اور وقتی انتظامات کے ذریعے نہیں چل سکتا۔ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، توانائی کے شعبے کی اصلاح، سرکاری اداروں کے بوجھ میں کمی، نوجوانوں کے لیے روزگار اور سرمایہ کار کو پالیسی کے تسلسل کی ضمانت—یہ سب اب سیاسی نعروں کے بجائے قومی ترجیحات بننے چاہئیں۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی درجہ حرارت کسی نہ کسی سطح پر کم کیا جائے۔مری سے آگے کا منظرنامہمری کا اجلاس ہو، تحریک انصاف کے ساتھ ممکنہ رابطے ہوں، آئینی ترامیم کا معاملہ ہو یا صدر مملکت کی طاقت اور ذمہ داری کے حوالے سے گفتگو—ان تمام واقعات کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک بڑے سیاسی منظرنامے کے حصے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔اس منظرنامے میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس کے قریب ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں طاقت کس کے پاس ہے، اس طاقت کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ کا کردار کیا ہے، سیاسی جماعتیں اپنے اصولوں پر کتنی قائم ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پورے سیاسی بندوبست کا نتیجہ پاکستانی معیشت اور عام آدمی کی زندگی میں کیا نکل رہا ہے۔اقتدار عارضی ہے۔ سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن ریاست اور معیشت مستقل رہتی ہیں۔اس لیے پاکستان کو ایسی سیاست درکار ہے جو صرف یہ نہ بتائے کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ یہ بھی بتائے کہ ملک نے کیا حاصل کیا۔حکومت کی کامیابی کا پیمانہ صرف پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں۔ بہتر معیشت، زیادہ روزگار، مستحکم کرنسی، قابلِ برداشت مہنگائی، مضبوط ادارے، پالیسی کا تسلسل اور عوام کا بڑھتا ہوا اعتماد بھی حکمرانی کی کامیابی کے بنیادی پیمانے ہیں۔شاید اب وقت آ گیا ہے کہ مری کے اجلاسوں، پارلیمانی ایوانوں اور طاقت کے مراکز میں ہونے والی بحث کا رخ بھی اسی بنیادی سوال کی طرف موڑا جائے۔پاکستان کو اس وقت صرف اقتدار کی نہیں، اقتدار کے ذمہ دار استعمال کی ضرورت ہے۔اور سیاسی استحکام کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہونی چاہیے کہ پاکستان اپنی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر سکے اور عام آدمی کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ ریاست کی سیاست کا مرکز اقتدار نہیں، عوام اور ان کا مستقبل ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button