Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

مریم نواز شریف کا بگ ڈیٹا ایکسپو سے خطاب، پنجاب کو ڈیجیٹل جدت کا مرکز بنانے کا عزم

لاھور( آصف اقبال ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چین کے شہر گوئی یانگ میں منعقدہ چائنا انٹرنیشنل بگ ڈیٹا ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی اور مشترکہ جدت کے نئے محاذ تک لے جانے کا وقت آگیا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ گوئی یانگ، چین کے ’’بگ ڈیٹا کیپٹل‘‘ میں شرکت ان کے لیے انتہائی اعزاز اور باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے صوبہ گوئی ژو کی عوامی حکومت اور چائنا انٹرنیشنل بگ ڈیٹا ایکسپو کے منتظمین کو تاریخی اور عالمی اجتماع کے انعقاد پر مبارکباد بھی پیش کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بگ ڈیٹا ہمیں ایسے مستقبل کی جانب لے جا رہا ہے جہاں ڈیٹا کو صرف محفوظ نہیں بلکہ قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق اور قابلِ تبادلہ بنایا جائے گا اور اسے معاشی و عوامی قدر میں تبدیل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی محض دو ممالک یا حکومتوں کے درمیان تعلق نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ یقین پر قائم مضبوط رشتہ ہے۔ صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت، محمد نواز شریف کی دیرینہ و تاریخی خدمات اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے مسلسل عزم سے پاک چین دوستی آگے بڑھ رہی ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ پاک چین دوستی کے عظیم ورثے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری لے کر آئی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک چین دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی اور مشترکہ جدت کے نئے میدان میں وسعت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے جب ڈیٹا کی حقیقی اہمیت کو مکمل طور پر تسلیم بھی نہیں کیا تھا، اس وقت وی جیائو نے سمجھ لیا تھا کہ ڈیٹا محض انتظامی امور کا تکنیکی ضمنی نتیجہ نہیں بلکہ بنیادی اور اہم انفراسٹرکچر ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ مصنوعی ذہانت سے مستفید ہونے والا صوبہ ہے اور پنجاب حکومت مصنوعی ذہانت کے ذریعے شاندار تبدیلی کے عمل کا حصہ بننے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مریم نواز شریف کے مطابق پنجاب حکومت ایسا ڈیجیٹل گورننس نظام تشکیل دے رہی ہے جہاں قابلِ اعتماد ڈیٹا، شناخت، عوامی خدمات، انفراسٹرکچر، توانائی، مالیاتی نظام اور معاشی مواقع ایک دوسرے سے منسلک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 12 کروڑ 80 لاکھ آبادی والے پنجاب کی حکمرانی نے یہ بنیادی اصول سکھایا ہے کہ ڈیٹا کو صرف جمع نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے عملی اقدامات میں تبدیل ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے پنجاب ایک خودمختار، محفوظ اور ذہین ڈیجیٹل بنیاد تشکیل دے رہا ہے۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ اس نظام کے مرکز میں ریاستی سطح کا مشترکہ ڈیٹا انجن OneMap موجود ہے، جس کے ذریعے 31 محکموں سے حاصل ہونے والا 12 ٹیرا بائٹس سے زائد جغرافیائی ڈیٹا اور 6 ہزار سے زائد ڈیٹا سیٹس کو مربوط نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ OneMap منصوبہ بندی، زمین سے متعلق تنازعات کے حل اور زیادہ دانشمندانہ شہری ترقی میں مدد دے گا، جبکہ پنجاب حکومت اسے پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری کے ساتھ بھی منسلک کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مربوط ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حکومت شہریوں کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکے گی، وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں ہدف بنا سکے گی اور درست افراد تک درست خدمات پہنچا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دیگر جدید نظاموں کے ساتھ Punjab Data Lake بھی تیار کر رہی ہے جبکہ پنجاب میں پہلا مخصوص ڈیٹا سینٹر صوبے کی خودمختار ڈیجیٹل صلاحیت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اس کے ذریعے ڈیٹا کو محفوظ، ذخیرہ اور پراسیس کرنے کے ساتھ اس کی حقیقی قدر سے استفادہ کیا جا سکے گا۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ پنجاب حکومت خودمختار کلاؤڈ، ڈیجیٹل شناخت، باہمی طور پر مربوط حکومتی نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی عمل درآمد کا نظام بھی تشکیل دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے اپنا مخصوص AI Office قائم کیا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو حکمرانی کے مرکز میں لایا جا سکے۔ اے آئی آفس کا مقصد بہتر فیصلے، تیز تر عوامی خدمات، زیادہ شفافیت اور حکومت کو عوام کے لیے زیادہ مؤثر اور جواب دہ بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب کے سیف سٹی منصوبے سے واضح ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو حقیقی عوامی فائدے میں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مربوط نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیوں کے ذریعے شہروں کو زیادہ محفوظ بنایا جا رہا ہے، ہنگامی حالات میں ردعمل بہتر اور پولیسنگ کو زیادہ فعال، پیشگی اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ اگر ڈیٹا کسی کاروباری شخص کو روایتی ضمانت کے بغیر اپنی مالی ساکھ ثابت کرنے میں مدد دے، تو یہ حقیقی تبدیلی ہے۔ اگر ڈیٹا حکومت کو کمزور اور مستحق خاندانوں کی درست نشاندہی کرکے انہیں مؤثر امداد فراہم کرنے میں مدد دے تو یہ حقیقی عوامی قدر ہے، جبکہ کسانوں کو بروقت معلومات اور ہدفی معاونت فراہم کرنا بھی ڈیٹا کے حقیقی استعمال کی مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا تعلیم کو ہر طالب علم کی ضرورت کے مطابق بنانے، صحت کے نظام کو مضبوط کرنے اور ماحولیاتی اداروں کو اندازوں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہر الگورتھم، ہر ڈیٹا بیس کے اندراج اور ہر ٹوکن کے پیچھے محض سرد اور بے جان اعدادوشمار نہیں بلکہ انسانوں کی ضروریات اور زندگیوں سے جڑے فیصلے موجود ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کا اگلا مرحلہ صرف زیادہ سے زیادہ ڈیٹا جمع کرنا نہیں بلکہ اسے عملی طور پر استعمال کرنا ہے۔ گوئی ژو نے یہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور پنجاب کو بھی اسی سمت میں آگے بڑھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنی ہر موسم میں قائم رہنے والی دوستی کو مزید گہرا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کو زمینی و جسمانی رابطوں کے ساتھ ساتھ ڈیٹا، جدت اور مشترکہ نظریات کی ایک نئی راہداری بھی تعمیر کرنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور انفراسٹرکچر کے قائدین کو پنجاب میں شراکت داری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں چینی کمپنیوں کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی، کمپیوٹنگ، کلاؤڈ، کنیکٹیویٹی اور ٹوکنائزیشن کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں جو پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو طاقت فراہم کریں گے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب صرف ٹیکنالوجی کا صارف بننا نہیں چاہتا بلکہ ٹیکنالوجی کی تخلیق اور جدت میں برابر کا شراکت دار بننے کا خواہاں ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ تصور کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کو جدت، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک طاقت بننا چاہیے۔ پاکستان اور چین مل کر اس وژن کو باہمی تعاون کے ایک نئے باب میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
مریم نواز شریف نے بگ ڈیٹا ایکسپو سے خطاب کے اختتام پر پاک چین تعاون کو ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ جدت کے ذریعے نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button