Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

مسئلہ انا کا ہے !

انا تو اس کائنات کی ابتدا سے ہی انسان اور انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے !انا کا سب سے پہلا مظاہرہ ابلیس کی طرف سے ہوا تھا جب اس نے اللہ کا حکم ماننے سے انکار کیا اور یہ کہا کہ میں اس کو کیوں سجدہ کروں جسے تو نے خاک سے بنایا ہے جبکہ میں آگ سے بنا ہوں!اس کا یہ عمل اس کے باوجود تھا کہ اس نے ہزاروں برس اللہ کی عبادت کی تھی اور اس حد تک کی تھی کہ جن ہوتے ہوئے اس کا شمار فرشتوں میں کیا جاتاتھا!لیکن اس نے اپنی تخلیق کو آدم کی تخلیق سے سوا اور برتر سمجھا اور یہی اسکے قیامت تک راندہءدرگاہ ہونے کا سبب بن گیا!اس دن سے انا ابلیس کی سنت اور روایت بن گئی۔ اس نے اپنے آپ کوآدمِ خاکی سے برتر جانا اور یہی برتری کا احساس ہی انا کی جڑ بنی ہوئی ہے، ازل سے آج تک اور آج سے ابد تک یہی انسان کا سب سے بڑا مسئلہ بنی رہے گی جیسے ابتک بنی رہی ہے !ابلیس کی انا ہی تو تھی جس نے اسے اپنے پیدا کرنے والے کا حکم ماننے سے سرتابی کی جسارت عطا کی!برتری صرف اور صرف خدا کی ہے، ازل سے ابد تک۔ اور جو انسان بھی ابلیس کی سنت پہ عمل کرتا ہے گویا اپنی کبریائی کا دعویٰ کرتا ہے اور کبریائی صرف اور صرف مالکِ کائنات کا حق ہے !لیکن ارضی خدا ہیں کہ کبریائی اور اپنی برتری کو جتانے کی رٹ نہیں ترک کرتے !اور اپنی برتری کا زندہ و تابندہ دیکھنے کیلئے ہمارے دور میں جینے والے انسان کو نہ تاریخ کا سبق یاد رکھنے کی ضرورت ہے نہ قصے کہانیوں کی کتابیں کھنگالنے کی احتیاج ہے ! اسے تو صرف ان حکمرانوں کا رویہ دیکھنے کی حاجت ہے جو دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں میں اپنے دور کے فراعین، ہامان اور شداد بنے ہوئے ہیں!دو ہی مثالیں اپنی بات کو قارئین کے ذہن نشین کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ایک دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کے سربراہِ مملکت کی جنہیں میں سامراجی گرو گھنٹال تصور کرتا ہوں اور دوسری مثال اپنے وطنِ عزیز، جو اپنی تنزلی کی بنیاد پر وطنِ مرحوم کہلائے جانے کا اصل حقدار بن چکا ہے!سامراجی گرو گھنٹال خود کو اسی رنگ اور آئینہ میں دیکھتے ہیں جس میں اپنی شبیہ دیکھنےکے بعد ابلیس نے اپنی برتری کا اعلان کرتے ہوئے آدمِ خاکی کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا!موصوف اپنے سحر میں، اپنی ذات کی برتری کے جنون میں اس بری طرح سے گرفتار ہیں کہ ان کا ہر جملہ اپنی ذات کی بڑائی سے شروع ہوتا ہے اور اپنے فیصلہ، اپنی رائے کی برتری پر ختم ہوتا ہے !موصوف نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اقتدار سنبھالتے ہی اس معاہدہ کو ختم کردیا تھا، بڑی نخوت اور تمکنت کے ساتھ جسے امریکہ اور عالمی امن کے مفاد میں ان کے پیشرو، صدر بارک اوباما نے دو برس کی انتھک محنت اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد تشکیل دیا تھا!ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدہ کو سوچے سمجھے بغیر کہ اس عمل سے نتائج کیا پیدا ہونگے یوں منسوخ کیا تھا کہ انہیں بارک اوباما سے چڑ تھی، عناد تھا، دشمنی تھی اور اس کی وجہ ان کا اوباما سے برتر ہونے کا واہمہ تھا۔ٹرمپ کے خمیر میں سفید فاموں کی رنگدار انسانوں کے مقابلہ پر برتری کا وہ جنون ہے جسے وہ لیکر پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے والدِ بزرگوار ، جو پیشہ کے اعتبار سے تعمیراتی کام سے منسلک ایک ٹھیکیدار تھے، جسے جدید اصطلاح میں رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کہا جاتا ہے اور اس پیشہ کی توقیر یوں بڑھائی جاتی ہے، وہ بھی اپنی سفید رنگت کی برتری میں اس حد تک جنونی تھے کہ جو اپارٹمنٹ عمارتیں وہ بناتے تھے ان میں سیاہ فاموں کو کوئی فلیٹ فروخت نہیں کیا جاتا تھا!والدِ بزرگوار سے جو خمیر جنیاتی طور پہ ٹرمپ کے حصہ میں آیا تھااس کے جنون کی کیفیت یہاں تک تھی کہ موصوف نے برسوں تک، کئی ملین ڈالر خرچ کرکے اس مہم پہ کام کیا تھا کہ اوباما امریکہ میں پیدا ہوئے تھے یا ، بقول ان کے، کینیا میں !اوباما کو پیدائشی طور پہ صدارت کیلئے نا اہل قرار دینے میں تو موصوف بری طرح ناکام ہوئے لیکن کھسیانی بلی کھمبا نوچےکے مصداق انہوں نے اقتدادر سنبھالنے کے فوری بعد اس معاہدہ کو ختم کردیا جو اوباما انتظامیہ نے عرق ریزی کے بعد تشکیل دیا تھا اور جس کے ذریعہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کیلئے ہر قسم کی بین الاقوامی پابندیاں قبول کرلی تھیں جن کے مطابق وہ یورینیم کو صرف اس حد تک افزودہ کرسکتا تھا جہاں تک ایٹم برائے امن کی مقرر کردہ حد تھی!
موصوف کا تاحال، اپنے دوسرے دورِ صدارت میں، سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے سوا سال میں دو بار ایران کے خلاف جارحیت کی ہے جب مذاکرات کا سلسلہ چل رہا تھا!موصوف کے احساسِ برتری اور خود کو عقلِ کل سمجھنے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر بین الاقوامی قانون اور ضابطہ سے بالا تر گردانتے ہیں جو جدید عالمی نظام کی تہذیب کی اساس سمجھے جاتے ہیں! اب وہ ایران کے خلاف اس جنگ سے جسے انہوں نے اپنی رعونت کے تحت مسلط کیا تھا نکلنا چاہ رہے ہیں لیکن انہیں کوئی راہِ فرار نہیں مل رہی۔ بقول شخصے، ایران ان کے جنگی جنون کے حلق میں وہ ہڈی بن گیا ہے جسے نہ اگلتے بن رہی ہے نہ نگلتے !اس کشاکش اور مشکل میں ان کا سب سے بڑا مدد گار جو ملک بنا ہے وہ ہمارا وطنِ مرحوم پاکستان ہے !پاکستان ٹرمپ کا سہولت کار، جسے ثالث کے معزز نام سے شہرت دی جارہی ہے، یوں بنا ہے کہ ہمارے مقہور و مجبور دیس پر پھر سے ایک عسکری آمر مسلط ہے جو اپنی ذات کے سحر میں من و عن ویسے ہی مبتلا ہے جیسے اس آمر کا آقائے نامدار سامراجی گرو ٹرمپ !پاکستان کی بدقسمت تاریخ میں ملک کے سیاسی اور ریاستی نظام پر چار بار تو عسکری طالع آزماؤں نے کھل کے ڈاکہ مارا اور پاکستان کی آزادی سے لیکر آج تک 78 برس میں عسکری طالع آزماؤں نےملک کو کم از کم 32 برس تک اپنی ہوسِ حکمرانی کا اسیر بنائے رکھا لیکن عسکری قبضہ دیکھا جائے تو78 میں سے 74 برس تک پاکستان کو اور پاکستانی قوم کو یرغمالی بنائے ہوئے ہے !مشرف کی عسکری طالع آزمائی کے بعد ہمارےجرنیل زیادہ شاطر ہوگئے اور انہوں نے اپنی سہولت کیلئے وہ مخلوط یا بقول ماہرینِ سیاست کے، وہ ہائبرڈ نظام وضع کیا جس میں چت بھی ان کی اور پٹ بھی!اس مخلوط نظام کو چیلنج کرنے والے حریت پرست عمران خان کی جسارت کی جرنیلوں نے اس طرح سے پذیرائی کی کہ پاکستانی تاریخ کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کو نمونہءعبرت بنادیا!عسکری طالع آزما عاصم منیر پاکستانی تاریخ کا سب سےبڑا شاطر ثابت ہورہا ہے !اس نے اپنی سہولت کیلئے8 فروری 2024ء کے عام انتخابات پر شبخون مارا اور عمران کی تحریکِ انصاف کی واضح کامیابی کو ناکام بنادیا اور عمران خان کی جگہ اس نے ان سیاسی گماشتوں کو ملک کی بساط حکومت پر مسلط کردیا جنہیں پاکستان کے عوام بھاری اکثریت سے رد کرچکے تھے، جن عسکری طالع آزماؤں کےمہروں کووہ پسند نہ کرنے کا واشگاف اعلان کرچکے تھے !عاصم منیر کی شاطرانہ سیاست ایک طرف پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں اکھیڑ رہی ہے تو دوسری طرف یہ آمر پاکستانی جرنیلوں کی ابلیسی سنت پہ عمل کرتے ہوئے امریکی سامراج کی سہولت کاری کی تاریخ بھی دہرا رہا ہے!امریکہ کے سیاست داںاور پاکستان-امریکہ تعلقات کے مبصرین اکثریہ کہتے پائے گئے ہیں، اور یہ تاریخ ہے، کہ سامراجی امریکہ کو جب پاکستان سے کوئی کام لینا ہوتا ہے تو وہ پاکستانی جرنیلوں کو خرید لیتے ہیں، ان کی ہوسِ مال و زر کا منہ ڈالروں سے بھر دیتے ہیں اور پھر پاکستان، جو دنیا کی واحد مسلم جوہری طاقت ہے، ایک کلینکس کے طور پہ استعمال ہوتا ہے !آج بھی عسکری آمر، عاصم منیر، وہی سہولت کاری سامراجی امریکہ کی کر رہا ہے جو پاکستانی جرنیلوں کا ستر برس سے وطیرہ رہا ہے !تو بلا وجہ تو نہیں ہے کہ سامراجی گرو گھنٹال پاکستانی عسکری طالع آزما کی تعریف کرتے نہیں تھکتا اس لئےکہ عاصم منیر ملت فروشی کی وہی تاریخ دہرا رہا ہے جو پاکستانی عسکری طالع آزماؤں کا طرہء امتیاز بنا ہوا ہے !عاصم منیر کی سامراجی سہولت کاری کی پاکستان کیا قیمت ادا کرے گا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے !جو بھاری قیمت ملک ادا کرے گا اس کی ایک مثال وہ ہے جو چند گھنٹےپہلے بلوچ لبریشن فرنٹ کے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے آنے والی ٹرین کو خود کش دھماکے سے تباہ کرکے دنیا کے سامنے پیش کی!بلوچ لبریشن فرنٹ وہ دہشت گرد تنظیم ہے جسے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی بھرپور مدد حاصل ہے۔ مودی سرکار کیلئے اس سے بڑی کیا بات ہوسکتی ہے کہ پاکستان کو زک پہنچائی جائے!ملک جل رہا ہے، لوگ بیگناہ دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہورہے ہیں۔ کوئٹہ ٹرین کے حادثے میں بھی کم از کم تیس بیگناہ شہری، جن میں فوج کے جوان بھی شامل ہیں، مارے گئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد سو سے زائد بتائی جارہی ہے۔لیکن اپنےآپ کو ملک کا مالک و مختار سمجھنے والے بدمست ملت فروش جرنیل اپنے سامراجی آقا کی سہولت کاری کو اپنے لئے وسیلہء ظفر گردان رہے ہیں۔ ان کی بلا سے ملک جلتا ہے تو جلے، بیگناہ شہری اور فوج کے جوان ہلاک ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں ان کا حلوہ مانڈا چلنا چاہئے جو ملت فروشی سے منسلک اور وابستہ ہے!
قومے فروختن وچہ ارزاں فروختن !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button