ایران کی بحری ناکہ بندی کے باوجود 40 سے زائد امدادی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، سینٹ کام

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود 40 سے زائد ایسے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے جو انسانی امداد لے کر جارہے تھے۔سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ جولائی کے وسط میں ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد سے امریکی افواج نے مجموعی طور پر 71 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا، 3 جہازوں کو ناکارہ بنایا اور 2 جہازوں پر سوار ہوکر کارروائی کی تاکہ ناکہ بندی سے متعلق پابندیوں کی تعمیل یقینی بنائی جاسکے۔امریکی کمانڈ کے مطابق انسانی امداد لے جانے والے جہازوں کو اس کارروائی سے الگ رکھا گیا اور انہیں ایران کی بندرگاہوں تک پہنچنے یا وہاں سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔سینٹکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا مقصد ایران کی بندرگاہوں کے ذریعے ہونے والی ان سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے جنہیں امریکا موجودہ جنگ اور کشیدگی کے دوران ایران کی حمایت سے متعلق سمجھتا ہے۔امریکی بحری کارروائیوں کے دوران تجارتی جہازوں کی نگرانی اور ان کے راستوں میں تبدیلی نے خطے میں پہلے سے موجود سمندری کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے ہیں، اس لیے ان علاقوں میں کسی بھی بحری رکاوٹ کے عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فوری طور پر اس بحری دباؤ کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔دوسری جانب امدادی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کا امریکی اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اپنی ناکہ بندی کے دوران انسانی امداد کی ترسیل کو الگ رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔



