
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ایک امریکی شہری کی رہائی کو خیرسگالی کا اشارہ قرار دیتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، جبکہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل پانچویں رات بھی جاری ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایک امریکی شہری، جسے ان کے بقول 2024 میں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں غلط طور پر حراست میں لیا گیا تھا اب ایران سے بحفاظت باہر آ چکا ہے۔ ٹرمپ نے لکھا کہ متعلقہ امریکی شہری محفوظ مقام پر پہنچ چکا ہے اور اس کی صحت بھی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس اقدام کو ایران کی جانب سے ایک مثبت اور خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دیکھتا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اگرچہ خطے میں موجودہ سکیورٹی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور آبنائے ہرمز، خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی شہری کی رہائی ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی تنازع کے باعث مستقبل کی صورتحال کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔



