
میئرنیویارک ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ ہم 5 میونسپل گروسری اسٹورز کم قیمتوں کے ساتھ شروع کر رہے ہیں، شہر خود، نہ کہ کوئی نجی چین، عمارتوں کا مالک ہوگا اور اخراجات برداشت کرے گا۔ چند شہروں نے اس پیمانے پر ایسا کچھ آزمایا ہے۔اس منصوبے کا نام NYC Groceries ہے اور اس کا ہدف واضح ہے۔نیویارک سٹی اکنامک ڈیوپمنٹ کارپوریشن کے زیر انتظام یہ اقدام شہر کے پانچوں بورو میں ایک ایک اسٹور کھولے گا، جن میں سے پہلے مقامات میئر ممدانی کے موجودہ دورِ اقتدار کے اختتام سے پہلے کھلیں گے۔شہر نے پانچوں مقامات پر تعمیر کے لیے 70 ملین ڈالر کی کیپٹل فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔ یہ وہ عوامی رقم ہے جو نجی سپر مارکیٹس ہمیشہ سے خود اکیلے سنبھالتے آئے ہیں۔اس رقم کے پیچھے ایک بہت بڑا ساختاتی سوال ہے۔ نیویارک صرف سستی دودھ اور روٹی پر سبسڈی نہیں دے رہا بلکہ یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کا مالک کون ہوگا، خطرہ کون برداشت کرے گا، اور شیلف پر منصفانہ قیمت کیا شمار ہوگی۔حامی اسے ایک ٹوٹے ہوئے نظام میں دیر سے ہونے والی مداخلت کہتے ہیں۔ ناقدین اسے حکومت کا ان چھوٹے کاروباروں کے ساتھ براہ راست مقابلہ سمجھتے ہیں جن کی حمایت کرنا حکومت کا فرض ہے۔NYC Groceries روایتی شہری سپر مارکیٹ چین نہیں ہے۔ شہر ہر اسٹور کے نیچے زمین کا مالک ہوگا اور تعمیر، کرایہ جیسے بڑے اخراجات برداشت کرے گا۔ روزمرہ آپریشنز، بھرتی اور مال اسٹاک کرنے کا کام نجی آپریٹرز کے ذمے ہوگا جو عوامی ٹینڈر کے ذریعے منتخب کیے جائیں گے۔اس انتظام سے دو بڑی لاگتیں ختم ہو جائیں گی جو زیادہ تر چھوٹے گروسروں کو کچل دیتی ہیں ۔ یہ پروگرام سستی، اعلیٰ معیار کی گروسری مہیا کرے گا جو نیویارکرز کو حقیقی بچت دے گا۔



