لاہور میں بھارتی آلودہ ہواؤں سے اے کیو آئی میں عارضی اضافہ، ہواؤں کی رفتار بڑھنے سے فضائی معیار بہتر ہونے کا امکان

لاہور ( آصف اقبال ) لاہور میں بھارتی شہروں امرتسر اور اٹاری سے آنے والی آلودہ ہواؤں اور ہوا کی کم رفتار کے باعث ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں عارضی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم مقامی سطح پر آلودگی کے خلاف انفورسمنٹ اور کڑی نگرانی کے باعث صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق لاہور میں اس وقت ہوا مشرقی سمت سے 5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے، جبکہ صبح 11 بجے سے ہواؤں کی رفتار میں اضافے کے باعث فضائی معیار میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ دوپہر 2 بجے تک ہوا کی رفتار 10 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر لاہور کے زیادہ اے کیو آئی والے علاقوں میں سموگ گنز کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ جاری ہے، جبکہ فضائی آلودگی میں کمی کے لیے مانیٹرنگ، روک تھام اور فیلڈ انفورسمنٹ کی کارروائیاں بیک وقت تیز کر دی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پنجاب بھر میں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 35 صنعتی یونٹس کی انسپیکشن کی گئی، خلاف ورزیوں پر 6 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹس کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں اسی دوران پنجاب بھر میں 66 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا گیا، ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر ایک بھٹے کو سیل کر دیا گیا۔ غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف کارروائیوں میں 24 مقامات کی انسپیکشن کے دوران 18 کلوگرام غیر معیاری پلاسٹک ضبط کیا گیا۔
حکومتی ہدایات پر ڈرون اسکواڈ، نائٹ اسکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ اسکواڈ کے ذریعے بھی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14 باربی کیو اور کمرشل ککنگ پوائنٹس کی چیکنگ کی گئی، جہاں تمام 14 مقامات پر سکشن ہڈز نصب پائے گئے تاکہ دھوئیں کے اخراج کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسان فصلوں کی باقیات کو آگ نہ لگائیں، شہری گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال کم کریں، کارپولنگ اپنائیں اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑیاں سڑکوں پر نہ لائیں۔
مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سموگ کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوام کو بھی اپنے ماحولیاتی رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ صاف ماحول اور بہتر فضا کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ اور قومی ذمہ داری ہے۔








