Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

حاکمیت کی کرسیوں پر براجمان راج میں فسطائیت !

افلاطون کا یہ کہنا ہے کہ اقتدار اور حاکمیت صرف نجیبوں اور شرفاء کا حق ہونا چاہئیے۔ شرفاء مسندِ اقتدار پہ فائز نہ ہوں اور اس کے بجائے کم ذات اور کم اوقات، جنہیں عام زبان میں رذیل اور کمین کارو کہا جاتا ہے، حاکمیت کی کرسیوں پر براجمان ہوں تو وہی ہوتا ہے جو آج پاکستان میں ہورہا ہے !ملک پر جو فسطائیت ، جو عمران خان کی حکومت کو اقتدار کے بھوکے جرنیلوں کے سامراجی آقاء کے حکم پر گرائے جانے کے بعد سے چار سال سے زیادہ ہونے کو آئے، مسلط ہے اس نے ان قوم پہ انہی کوبراجمان کیا ہواہے جنہیں یہ قوم واشگاف الفاظ میں مسترد کرچکی تھی!پاکستان کے طالع آزما جرنیلوں کے منہ کو سیاست کا لہو تو گذشتہ ستر برس سے لگا ہوا ہے اور بساط پر نام نہاد سیاسی گماشتے یہ اپنی سہولت کیلئے بٹھاتے ہیں تاکہ اسٹیج پر ان کی کٹھ پتلیاں ناچتی رہیں اور یہ پردہ کے پیچھے سے ان کی ڈوریاں ہلاتے رہیں۔ظاہر ہے کوئی شریف اور نجیب تو یزیدیوں کی کٹھ پتلی بننے سے رہا۔ لہٰذا جرنیلوں کے پسندیدہ سیاسی مہرے وہ کم ذات ہی ہوتے ہیں جنہیں عزت کا کوئی پاس بلکہ ان کے اندر شرافت کا مادہ ہی نہیں ہوتا اور وہ بخوشی جرنیلوں کی کٹھ پتلیاں بننے کو تیار ہوجاتے ہیں۔سو اپریل 2024ء کے عام انتخابات پر شبخون مارنے کے نتیجہ میں عاصم منیر نے ایسے ہی سیاسی مہروں کو پاکستان کی بساطِ سیاست اور ریاست پر بٹھایا جو اس کے ہر حکم پر آمنا اور صدقنا کہنے کو آمادہ ہوں، اس کے ہر فرمان کو بجالانا اپنی توقیر سمجھتے ہوں۔ تو کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے، اور ہمیں تو ذرہ برابر بھی نہیں ہے، جو کٹھ پتلی وزیر اعظم شہباز نام کا شریف اپنی ہر تقریر کو اپنے مربی عاصم منیرکو خراجِ عقیدت پیش کرکے ختم کرتا ہے!پاکستانی قوم کی اس سے بڑھ کر بد نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے کہ مسندِ صدارت پر ایک ڈکیت بیٹھا ہوا ہے، یا بٹھادیا گیا ہے، اور یہ اس پائے کا ڈکیت ہے کہ یورپ کے اسکولوں کے بچوں کو اس کی مثال دے کر سمجھایا جاتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے ترقی نہ کرسکنے کی راہ میں زرداری جیسے گلے گلے تک کرپٹ حکمراں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔اور رہ گیا عاصم منیر کا وزیر اعظم، شہباز شریف، تو اس کی چوری کی داستانیں تو پاکستان کے بچے بچے کو ازبر ہیں۔ملک کنگال ہورہا ہے، ورلڈ بنک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جس میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ کے درجنوں ممالک کے ساتھ ساتھ افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں پاکستان میں ان تمام ممالک کے مجموعی اعداد و شمار کے 48 فیصد غریب بستے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کو علیحدہ کردیا جائے تو بقیہ ممالک میں غریب اور نادار محض 52 فیصد بچتے ہیں!یہ ہے اس کٹھ پتلی حکومت کے دن و رات کے ان کی اصل حقیقت جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک ان چوروں اور ڈکیتوں کی حکمرانی میں تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے اور وہ دن دور نہیں کہ پاکستان کا شمار ترقی یافتہ ملکوں میں ہوگا!ملک کا خزانہ خالی ہے، ملک کے کڑوڑوں غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں لیکن شہباز شریف نے ڈھائی برس میں ایک دو نہیں ، درجن بھر بھی نہیں ، بلکہ چوالیس (44)، جی ہاں چوالیس غیر ملکی دورے کئے ہیں! اسی لئے کسی مبصر نے کیا خوب بات کہی کہ شہباز شریف تو چند دن کیلئے پاکستان کے دورے پر آتے ہیں ورنہ ان کا زیادہ تر وقت تو بیرونِ ملک گذرتا ہے !میاں، کیوں نہ گذرے شہبازکا زیادہ وقت باہر؟ آخر کو لوٹ مار کا مال باہر وہاں محفوظ بناناہے جہاں غیر ملکی بنکوں میں ان کی لوٹ مار کا مال جمع ہے اور دنیا بھر میں ان کی جائیدادیں پائی جاتی ہیں۔ ان نام کے شریفوں اور زرداریوں کیلئے سیاست تو تجارت ہے، کاروبار ہے زیادہ سے زیادہ لوٹ مار کرنے کا وسیلہ ہے۔ اسی لئے تو افلاطون کا قول سنہرے حرفوں سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس نے نجیب اور شریف کیلئے حکمرانی کو یونہی جائزقرار دیا تھا کہ شریف اور خاندانی کبھی چوری نہیں کرتا، ناجائز طور پہ مال نہیں بٹورتا!تو زرداری اورشہباز کو جو موقعہ مزید لوٹ مار کا ان کے سرپرست عاصم منیر نے فراہم کیا ہے اس سے یہ دونوں اور ان کے خاندان اور لواحقین بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور تجوریاں بھر رہے ہیں!لیکن چور ہمیشہ بزدل ہوتا ہے، ڈرتا رہتا ہے کہ اس کی چوری پکڑی نہ جائے۔ اسی لئےتو کہاوت ہے کہ چور کے پاؤں کہاں!ظاہر ہے کہ جب شہبازاور زرداری چور ہیں اور بزدل بھی ہیں تو ان کا سرپرست عاصم منیر ان سے زیادہ بزدل ہوگا، اور ہے !پاکستانی جرنیلوں کی بزدلی تو زباں زدِ عام ہے اور وہ باقاعدگی سے اس کے ثبوت بھی فراہم کرتے آئے ہیں۔ لیکن بزدلی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے جرنیل طاقت کے نشہ سے بھی مغلوب رہے ہیں۔ اپنے ہاتھ میں پکڑی بندوق پر بڑا زعم رہا ہے ہمارےجرنیلوں کو۔ سو یہ زعم، یہ تکبر انہیں ہر مسئلہ کو طاقت کے بل پر حل کرنے کے جنون میں مبتلاکرتا آیا ہے۔ اور اس جنون نے پاکستان کو کیا دن دکھایا ہے اس سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے!طاقت کے بل پر ان جرنیلوں نے مشرقی پاکستان کی اکثریت کو اس کے جائز آئینی حق سے محروم کرنا چاہا تھاجس کے نتیجہ میں ملک دو لخت ہوا اور مشرقی پاکستان آزاد اور خودمختار بنگلہ دیش بن گیا!لیکن احمق ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ نادان اور احمق اپنی غلطیوں سے بھی کچھ نہیں سیکھتا اور پاکستان کے جرنیل، جنہیں اپنے ارضی خدا ہونے کا بھی جنون ہے، اس کی بہترین مثال ہیں۔ جو غلطیاں ان مغرور اور متکبر جرنیلوں نے مشرقی پاکستان میں کی تھیں انہیں غلطیوں کو یہ
اب خیبرپختونخواہ میں دہرا رہے ہیں!عاصم منیر نے اپنےیزیدی تسلط میں اپنے ہاتھوں میں ہر وہ طاقت جمع کردی ہے جس نے پاکستان کو بدترین فسطائیت میں ڈھال دیا ہے۔ ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے اور بدمست جرنیل نشہء طاقت میں اپنے کو ہر قانون اور ضابطہ سے بالا تر گردانتے ہیں۔لیکن پھر بھی چور کے دل میں وسوسے پیدا ہوتے رہنا قدرتی اور فطری بات ہے۔ عاصم منیر نے عمران خان کو بدترین حالات میں قید کیا ہوا ہے لیکن آج بھی اسکی راتوں کی نیند حرام ہورہی ہے اس دھڑکے سے، اس خوف سے کہ عمراں اگر اس کی قید سے باہر آگیا تو اس کا انجام کیا ہوگا؟عمران جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی شیر ہے، شیر دل ہے اور آزاد ہے اور یزید عاصم منیر تمام تر طاقت اپنی ٹوپی کے نیچے جمع کرنے کے بعد بھی بزدلی کی قید میں ہے!عمران کا بھوت ان کی نیندیں حرام کر رہا ہے۔ یہی خوف ہے جس نے خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگادیا ہے اور ایمرجنسی نافذ کردی ہے!عاصم منیر کو خوف تھا کہ اگر تحریک انصاف کی لانگ مارچ اسلام آباد تک پہنچ گئی تواس کے اقتدار کیلئے خطرہ نہ بن جائے اور وہ پاکستان کا آمرِ مطلق بنا بیٹھا ہے کہیں اس کا راج سنگھاسن تہس نہس نہ ہوجائے!سو وزیر اعظم اور صدر نے اپنے آقاء کے حکم پر صوبہ خیبر پختونخواہ کو پیپلز پارٹی کے کٹھ پتلی گورنر فیصل کنڈی کی تحویل میں دے دیا ہے اور صوبہ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے!اس کے ساتھ ہی صوبہ کے ہردلعزیز وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلی کے اسپیکرکو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے قائدین اور صوبائی کابینہ کے وزراء کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تو دنوں سے جاری تھا۔ اب اس میں مزید تیزی آگئی ہے !
عاصم منیر کے مقبوضہ فسطائی پاکستان میں تو لوگوں کو اٹھالئے جانے کا سلسلہ تو کب سے دراز ہے۔ نام نہادنامعلوم افراد جو رسوائے زمانہ آئی ایس آئی کے پروردہ غنڈے ہوتے ہیں ہر قانون اور احتساب سے ماوراء ہیں۔ ان بدبختوں کے ہاتھوں نہ چار دیواری محفوظ ہے نہ چادر کا تقدس باقی رہا ہے۔ اور یہ سب ظلم عاصم منیر کی حکمرانی میں ہورہا ہے جو حافطِ قرآن ہے۔ لیکن اس نے قرآن کے مفہوم اور پیغام کو آج تک نہیں سمجھا ورنہ نام نہاد ” اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں عورتوں کو یوں سربازار بالوں سے پکڑ کر اس پنجاب کی پولیس نہ گھسیٹ رہی ہوتی جس پر ایک کم ظرف عورت، مریم نواز عاصم منیر کے ایماء پر حکومت کر رہی ہے اور ظلم اور بد دیانتی کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے !صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی یہ کہہ کر نافذ کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کی روک تھام میں وفاقی حکومت سے تعاون نہیں کر رہی تھی!لیکن دہشت گرد تو خود وفاقی حکومت اور جی ایچ کیو میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ دہشت گردی کر رہے ہیں جو وفاقِ پاکستان کی جڑیں کھود رہی ہے!برطانیہ کے عالمی شہرت کے حامل جریدے، دی ایکومنسٹ جس کی ہر رپورٹ کو وقیع مانا جاتا ہے گذشتہ ہفتے پاکستان پر اپنے ایک مضمون میں یہ کہا تھا، اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ عاصم منیر کی فسطائیت پاکستان کو اس سمت میں لیجا رہی ہے جہاں پاکستان کے وجود اور اکائی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔اس خبر کی تردید ہمارے دفترِ خارجہ کے ترجمان اور فوج کے فرعون صفت ترجمان، جنرل احمدشریف، نے بڑی شد و مد کے ساتھ کی تھی اور ایکومنسٹ کی رپورٹ کو پاکستان دشمنی سے تعبیر کیا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک و قوم کے سب سے بڑے دشمن جن سے پاکستان کے وجود کو شدید خطرہ لاحق ہے جی ایچ کیو میں اپنی کمیں گاہوں میں بیٹھے ہیں اور پاکستان کی وحدانیت کی ایک ایک اینٹ اپنی فرعونیت سے نکال رہے ہیں!پاکستان کو ان جرنیلوں کے ہوتے ہوئے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہے!اب خیبر پختونخواہ میں گورنر راج لگ گیا ہے تو دیکھیں کیسے دہشت گردی کا خاتمہ ہوتا ہے؟بہت سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کو عدالتوں میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ بالکل کیا جاسکتا ہے لیکن عاصم منیر نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیمات کیوں کی تھیں؟اسی لئے کہ پاکستان کے عدالتی نظام کو، جس کی تاریخ سیاہ داغوں سے پہلے ہی بھری ہوئی تھی، مزید مفلوج کردیا جائے اور عدالتوں کو ان فیصلوں کا پابند کردیا جائے جو جی ایچ کیو میں لکھے جاتے ہیں!تو آپ بھی اس راقم الحروف کے ساتھ پاکستان کی بدقسمتی کا نوحہ پڑھئے اور ان چار مصرعوں کی داد دیجئے جو ملک و قوم پر مسلط بھئیوں کے چوپٹ راج کا مرثیہ ہیں:
کم ظرفوں کی اوقات زمانہ دیکھے
چھٹ بھئیوں کی بہتات زمانہ دیکھے
یہ کیسا ستم قوم پہ ٹوٹا ہے، خدا
کب دورِ مکافات زمانہ دیکھے ؟

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button