قید میں بھی فنِ تخلیق زندہ رہا، یاسمین راشد نے کشنز پر ہاتھ سے خوبصورت کشیدہ کاری کر ڈالی

لاہور ( آصف اقبال ) پنجاب کی سابق وزیر صحت اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما، ممتاز گائنا کولوجسٹ ڈاکٹر یاسمین راشد نے دورانِ قید تکیوں اور صوفے کے کُشنز پر ہاتھ سے خوبصورت اور منفرد کشیدہ کاری کرکے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک نیا پہلو سامنے رکھ دیا۔76 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی سالگرہ 21 ستمبر کو تھی، اس موقع پر سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ان کی تخلیقات نے لوگوں کو حیران کردیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی اس کڑھائی کو ’’Beyond The Bars‘‘ کا نام دیا ہے۔قید کے دوران مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی سے تیار کیے گئے ان فن پاروں میں ہاتھی، گھوڑے، اُلو، بلیاں، پرندے، تتلیاں، پھول، پہاڑ، بیل بوٹے اور گل دستے نہایت خوبصورتی سے نمایاں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے اپنی تخیل کی دنیا کے رنگ تکیوں اور صوفہ کُشنز پر منتقل کر دیے ہوں۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی ہر تخلیق کو الگ عنوان بھی دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کام کسی اسٹوڈیو میں نہیں بلکہ پسِ زنداں تخلیق کیا گیا، جہاں ہر ٹانکا صبر کی علامت اور ہر رنگ امید کی کرن بن گیا۔ان کا کہنا ہے کہ جب محسوس ہو کہ وقت تھم گیا ہے اور ہاتھ، ذہن اور روح خالی ہیں تو تخلیق انسان کا بہترین سہارا بن جاتی ہے۔ حالات جب انسان کے قابو میں نہ رہیں تو تخلیق ہی اسے تسکین فراہم کرتی ہے، جبکہ مشکل ترین حالات میں بھی خوبصورتی کے نمودار ہونے پر غیر متزلزل یقین رکھنا چاہیے۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایک کتاب بھی تحریر کی ہے، جو جلد منظرِ عام پر آنے کی توقع ہے۔



