ہفتہ وار کالمز

پاکستان نہیں کنٹینیرستان ہے!

کس بَلاکے بزدل ہیں یہ پاکستانی جرنیل بھی!
دشمن کے خلاف ان کی بزدلی تو سمجھ میں آتی ہے اور اس کا سب سے منہ بولتا ثبوت تو اس چوہے جنرل نیازی نے، جو اپنے آپ کو ٹائیگر کہلواتا تھا اور جس نے شیخی بگھاری تھی کہ وہ بنگالیوں کی نسل بدل دے گا ، بھارتی سینا کے سامنے بے شرمی سے ہتھیار ڈال کے دیا جبکہ اس کی کمان میں ساٹھ ہزار سے زیادہ کیل کانٹے سے لیس فوجی جوان اور افسران تھے!لیکن چوہے نیازی کے جانشین تو اپنے ہی عوام کے خوف سے تھر تھر کانپتے دکھائی دیتے ہیں!عاصم منیر اپنے آپ کو فیلڈ مارشل تو بنا سکتا ہے، نہتے عوام کے سینے ان گولیوں سے چھلنی کرسکتا ہے لیکن چونکہ غاصب ہے، بے ایمانی سے فوج کا سالار بنا ہے، رسوائے زمانہ نام کے شریفوں سے ساز بازکرکے یہ پاکستان کا بے تاج بادشاہ بنا بیٹھا ہے لیکن عمران کا خوف اس کی راتوں کی نیندیں حرام کئے رکھتا ہے!عمران کا خوف اس کائر، بزدل کو ستاتا ہے اس کے باوجود کہ یہ غاصب تین سال سے زیادہ ہوگئے عمران کو جیل کی سلاخوں سے رہا کرنے کیلئے ٹس سے مس نہیں ہورہا!یہ بزدل عمران کو بھی اپنی ہی طرح بے حیا اور بے غیرت سمجھتا ہے اور اسے یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ عمران رہا ہونے کے بعد اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو اس بزدل کا وطیرہ ہے۔ لیکن عمران اس کی طرح کم ظرف اور کم اوقات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی رگوں میں کم ظرفی کا خمیر ہے۔ عمران بڑے ظرف والا، شریف النفس انسان ہے اور اسے علم ہے کہ عاصم منیر جیسے طالع آزما تاریخ کی دھول بن جاتے ہیں اور کل کا مورخ ایسے چھٹ بھئیوں کا وہی حشر کرتا ہے جس کے یہ کم ظرف مستحق ہوتے ہیں!عمران کا خوف بھوت بن کر کائر عاصم منیر کو ستاتا رہتا ہے لیکن عمران کے چاہنے والوں کا خوف بھی اس بزدل کا کلیجہ مسوس رہا ہے!27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کا آسیب عاصم منیر کو ڈراؤنے خواب دکھا رہا ہے لہٰذا ان کے خوف سے اس بزدل نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنادیا ہے!
ہر شاہراہ بند کردی گئی ہے، ہر موڑ پہ کنٹینر کھڑے ہیں تو بھارتی ذرائع ابلاغ اگر پاکستان کو کنٹینرستان کہہ کے مذاق اڑا رہے ہیں اور ہر انداز سے پاکستان کو اپنی تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں تو کیا غلط کر رہے ہیں؟ نہیں ، بالکل نہیں۔ ہم جب دشمن کو خود ذلیل اور اوچھی حرکتیں کرکے موقع فراہم کرینگے تو وہ تو بہتی گنگا میں اشنان ہی نہیں کرینگے بلکہ ڈبکیاں لگائیں گے، ہر ہر طور سے ہمارے منہ پہ تھوکیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ پاکستان پر قابض بزدل اور کائر جرنیل اس کا کیا حشر نشر کر رہے ہیں!اور بڑے میاں تو بڑے میاں ہیں ہی چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ!عاصم منیر کا گماشتہ جو پاکستان کا دوسرا بڑا طاقتور بن کے اکڑ اکڑ کے چلتا ہے وہ چھٹ بھئیا بھی تحریکِ انصاف کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر اس کے کارکنوں نے اسلام آباد کا رخ کیا تو وہ ان کے سینے گولیوں سے چھلنی کروادے گا !اور ملت فروش محسن نقوی کی دھمکی کو دیوانے کی بڑ کہہ کے نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا اسلئے کہ یہ سامراجی گماشتہ جو پاکستان دشمن قوتوں کا آلہء کار ہے اور جس میں تہذیب اور تربیت کا فقدان تو اسی بات سے نظر آتا ہے کہ یہ کم ظرف ہر جگہ، ہر وقت اپنی آستینین چڑھائے رکھتا ہے پہلے بھی نہتے عوام پر گولی چلوانے کا مجرم ہے اور اس قابل ہے کہ اس پر دہشت گردی کے تحت مقدمہ چلواکے اس ملت فروش کو قرار واقعی سزا دی جائے!اور 27 ستمبر کے عوامی احتجاج کی راہ مسدود کرنے کیلئے اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے کٹھ پتلی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں!ڈوگر، جس کی شکل پہ ٹھیکرے ٹوٹتے ہیں، اپنے عسکری آقاء بزدل عاصم منیر کی چاکری میں بے شرمی اور بے حیائی کی ہر حد سے گذرچکا ہے۔میں سوچتا ہوں کس مٹی سے بنے ہوئے لوگ ہیں یہ بے ضمیر اورناقاعبت اندیش سرفراز ڈوگر جیسے بے حیا جو اعلیٰ عدلیہ کی مسندوں پہ براجمان ہیں اور جنہیں اللہ کا یہ فرمان یاد نہیں کہ انصاف کرو چاہے ملزم تمہارا اپنا عزیز کیوں نہ ہو!لیکن سرفراز ڈوگر تو لگتا ہے کہ وہ عاصم منیر کی غلامی میں اللہ اور عاقبت کو ہی بھول گیا ہے اور ہر اس حکم پر اپنا انگوٹھا لگا دیتا ہے جو عسکری طالع آزما کی طرف سے آیا ہو!لہٰذا اس بے ضمیر ڈوگر نے یہ فیصلہ سنادیا ہے کہ حکومتِ وقت کے خلاف احتجاج ملک کے آئین سے غداری ہے، اور آئین کے فرمان کو نظر انداز کرنا قابلِ دست اندازی فعل ہوگا!اس ضمیر فروش سے کوئی یہ سوال کرے کہ پاکستان کے آئین کو تو صرف عسکری طالع آزماؤں نے توڑا ہے اور اس جرم کے یہ ملت فروش بار بار مجرم ہوئے ہیں۔ کیا کسی عسکری آمر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کسی ڈوگر یا اس کی عدالت کو جرأت ہوئی؟ کیا کسی ڈوگر کو یہ توفیق نصیب ہوئی کہ وہ آئین توڑنے والوں کا احتساب کرسکے ؟!بزدل عاصم منیر کاخوفِ عمران اور عوام کا یہ عالم ہے کہ عمران کی ہمشیرہ علیمہ خان کو بھی نقصِ امن کے اندیشے میں تیس دن کیلئے گرفتار کرکے کوٹ لکھپت بھیج دیا گیا ہے!یہ ہیں وہ دلیر جرنیل جو ایک عورت سے بھی خوف کھاتے ہیں اور جن کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بندوق کا ایسا زعم ہے، ایسا گھمنڈ ہے کہ جو ان کے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اسے بند کردیتے ہیں، اٹھا لیتے ہیں یا پھر اس کی سینے میں گولیاں اتار دیتے ہیں! یہی کارنامہ ہے ہمارے ان ملت فروش، ملک دشمن بزدل و کائر جرنیلوں کا جو پاکستان کے خود سب سے بڑے اور کھلے دشمن ہیں اور جن کے کرتوتوں نے ملک کو دو لخت کیا تھا اور اب بھی ان کی سیاہ کاریاں ملک کی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں! اور ان بزدل جرنیلوں کا بٹھایا ہوا کٹھ پتلی برائے نام وزیر دفاع وہ خواجہ آصف ہے جو جب منہ کھولتا ہے فحش کلامی کا مرتکب ہوتا ہے !اس کے خمیر میں جرنیلوں کی غلامی ودیعت ہے!اس کا باپ، خواجہ صفدر ضیا الحق کے تلوے چاٹتا تھا اور اسی سبب وہ ضیاء کی نام نہاد مجلس شوریٰ کا صدر بن گیا تھا۔ بیٹا اب عاصم منیر کے بوٹ چاٹنے میں کمال کر رہا ہے اور اپنے آقاء کی خوشنودی حاصل کرنے کو عمران خان اور اس کے بیٹوں کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے!لیکن اس بار جب اس نےیہ کہہ کے عمران کے بیٹوں کو یہودی ہونے کا بہتان لگایا کہ یہودیت میں تو نسل ماں کی طرف سے چلتی ہےتو فرزندانِ عمران کی ماں جمائما نے اس موذی کو وہ کرارا جواب دیا ہے کہ اگر اس میں حیا اور شرم کی ایک بوند بھی ہوگی توآئندہ کبھی یہ عمران کو یااس کے بیٹوں کو یہودی ایجنٹ ہونے کا طعنہ نہیں دے گا!اپنی دانست میں تو یہ بد ذات بڑی دور کی کوڑی لایا تھا کہ یہودیوں میں واقعی نسل ماں کی طر فٖ سے چلتی ہے لیکن جمائما نے اس جاہل، اُجڈ اور گنوار کو اس کی اوقات دکھادی یہ کہہ کر کہ میری ماں تو عیسائی ہے وہ تو یہودی نہیں ہے تو میں کیسے یہودی ہوئی اور میرے بیٹے کیسے یہودی ہوئے؟اور جمائما نے مزید اس بے شرم کے منہ پہ طمانچہ رسید کیا یہ اضافہ کرکے کہ اس کی دادی بھی مرتے دم تک کرسچن رہی۔ دادی یہودی نہیں تھی تو باپ کیسے یہودی ہوا؟لیکن عاصم منیر ہو یا بے شرم خواجہ آصف ہو یا عاصم کی منظورِ نظر رانی مریم نواز ہو یہ سب بے شرموں، بے حیاؤں اور کم ظرفوں کا ایک قبیلہ ہے جو پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے، اپنی ملکیت گردانتا ہے اور پاکستانی عوام کی نہ ختم ہونے والی بے حسی سے فائدہ اٹھا رہا ہے!مریم نواز تو خود ستائشی کے اسی مرض میں مبتلا ہے جس کا بہترین نمونہ سامراجی ٹرمپ ہے۔ یہ دونوں تو اپنی ذات کے سحر میں مبتلا ہونے کی خاصیت کے سبب ایک دوسرے کے بھائی بہن لگتے ہیں۔مریم نواز نے اپنی بیٹی کی گریجویشن کیلئے انگلستان جانے کیلئے، جہاں ان کے کنبہ کا قبلہ و کعبہ ہے، جو سرکاری جہاز استعمال کیا تھا اس پر بڑی لے دے ہورہی تھی، سوشل میڈیا میں آگ لگی ہوئی تھی۔ رہا پاکستانی نیوز میڈیا تو اس کے پر عاصم منیر ایسے ہی کاٹ چکا ہے جیسے اس نے عدلیہ کو بے دست و پا کرکے اپنے مہرے میں تبدیل کردیا ہے۔تو مریم نواز نے اپنی بے غیرتی اور ڈھٹائی کا ایک اور بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے زعم سے یہ اعلان کیا کہ ان کا ہر دورہ، ہر فعل، ذاتی نہیں بلکہ سرکاری ہوتا ہے اور معترزین کو ایک طرح سے ٹھینگا دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بھی جہاز کو اپنی ذاتی ملکیت کی طرح استعمال کریںگی جو ان کا بگاڑ سکتا ہو بگاڑ لے !بی بی، آپ کا گھمنڈ جائز ہے اسلئے کہ پاکستان کے عوام، اور خاص طور پہ آپ کے پنجاب کے عوام توایسے بے حس ہیں کہ آپ کچھ بھی کریں یہ بولنے والے نہیں ہیں۔ یہ تو بقولِ حضرتِ جوش
یہ مردہ ہیں زندوں سے انہیں کیا نسبت
جب مردہ بنوگے تو یہ پہچانیں گے
تو مریم نواز نے ایک اور فریب کیا، ایک اور جھوٹ بولا یہ کہہ کر کہ انہوں نے جہاز کے استعمال پر جو لاگت آئی تھی، کوئی تین کڑوڑ روپے، وہ سرکاری خزانے میں جمع کروادی ہے۔ انہوں نے ملتان میں جلسہ سے خطاب کے دوران ایک رسید بھی لہرائی کہ یہ رسید ہے رقم جمع کروانے کی!
لیکن وہ رسید جعلی نکلی، مریم نواز اور ان کے فریبی خاندان کی طرح۔لیکن کیا فرق پڑتا ہے۔ مریم نواز ہو، یا آصف یا ان دونوں کا آقاء عاصم منیر وہ جو جھوٹ بھی بولیں پاکستانی عوام کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی اور یہی آمروں اور طالع آزماؤں کے عروج اور دوام کا سبب ہے !یہ جرنیل، یہ جونکیں پاکستان کو یونہی ڈستی رہینگی اور خون پیتی رہینگی!پاکستان نہیں کنٹینیرستان ہے!
کرامت غوری
کس بَلاکے بزدل ہیں یہ پاکستانی جرنیل بھی!
دشمن کے خلاف ان کی بزدلی تو سمجھ میں آتی ہے اور اس کا سب سے منہ بولتا ثبوت تو اس چوہے جنرل نیازی نے، جو اپنے آپ کو ٹائیگر کہلواتا تھا اور جس نے شیخی بگھاری تھی کہ وہ بنگالیوں کی نسل بدل دے گا ، بھارتی سینا کے سامنے بے شرمی سے ہتھیار ڈال کے دیا جبکہ اس کی کمان میں ساٹھ ہزار سے زیادہ کیل کانٹے سے لیس فوجی جوان اور افسران تھے!لیکن چوہے نیازی کے جانشین تو اپنے ہی عوام کے خوف سے تھر تھر کانپتے دکھائی دیتے ہیں!عاصم منیر اپنے آپ کو فیلڈ مارشل تو بنا سکتا ہے، نہتے عوام کے سینے ان گولیوں سے چھلنی کرسکتا ہے لیکن چونکہ غاصب ہے، بے ایمانی سے فوج کا سالار بنا ہے، رسوائے زمانہ نام کے شریفوں سے ساز بازکرکے یہ پاکستان کا بے تاج بادشاہ بنا بیٹھا ہے لیکن عمران کا خوف اس کی راتوں کی نیندیں حرام کئے رکھتا ہے!عمران کا خوف اس کائر، بزدل کو ستاتا ہے اس کے باوجود کہ یہ غاصب تین سال سے زیادہ ہوگئے عمران کو جیل کی سلاخوں سے رہا کرنے کیلئے ٹس سے مس نہیں ہورہا!یہ بزدل عمران کو بھی اپنی ہی طرح بے حیا اور بے غیرت سمجھتا ہے اور اسے یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ عمران رہا ہونے کے بعد اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو اس بزدل کا وطیرہ ہے۔ لیکن عمران اس کی طرح کم ظرف اور کم اوقات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی رگوں میں کم ظرفی کا خمیر ہے۔ عمران بڑے ظرف والا، شریف النفس انسان ہے اور اسے علم ہے کہ عاصم منیر جیسے طالع آزما تاریخ کی دھول بن جاتے ہیں اور کل کا مورخ ایسے چھٹ بھئیوں کا وہی حشر کرتا ہے جس کے یہ کم ظرف مستحق ہوتے ہیں!عمران کا خوف بھوت بن کر کائر عاصم منیر کو ستاتا رہتا ہے لیکن عمران کے چاہنے والوں کا خوف بھی اس بزدل کا کلیجہ مسوس رہا ہے!27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کا آسیب عاصم منیر کو ڈراؤنے خواب دکھا رہا ہے لہٰذا ان کے خوف سے اس بزدل نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنادیا ہے!
ہر شاہراہ بند کردی گئی ہے، ہر موڑ پہ کنٹینر کھڑے ہیں تو بھارتی ذرائع ابلاغ اگر پاکستان کو کنٹینرستان کہہ کے مذاق اڑا رہے ہیں اور ہر انداز سے پاکستان کو اپنی تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں تو کیا غلط کر رہے ہیں؟ نہیں ، بالکل نہیں۔ ہم جب دشمن کو خود ذلیل اور اوچھی حرکتیں کرکے موقع فراہم کرینگے تو وہ تو بہتی گنگا میں اشنان ہی نہیں کرینگے بلکہ ڈبکیاں لگائیں گے، ہر ہر طور سے ہمارے منہ پہ تھوکیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ پاکستان پر قابض بزدل اور کائر جرنیل اس کا کیا حشر نشر کر رہے ہیں!اور بڑے میاں تو بڑے میاں ہیں ہی چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ!عاصم منیر کا گماشتہ جو پاکستان کا دوسرا بڑا طاقتور بن کے اکڑ اکڑ کے چلتا ہے وہ چھٹ بھئیا بھی تحریکِ انصاف کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر اس کے کارکنوں نے اسلام آباد کا رخ کیا تو وہ ان کے سینے گولیوں سے چھلنی کروادے گا !اور ملت فروش محسن نقوی کی دھمکی کو دیوانے کی بڑ کہہ کے نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا اسلئے کہ یہ سامراجی گماشتہ جو پاکستان دشمن قوتوں کا آلہء کار ہے اور جس میں تہذیب اور تربیت کا فقدان تو اسی بات سے نظر آتا ہے کہ یہ کم ظرف ہر جگہ، ہر وقت اپنی آستینین چڑھائے رکھتا ہے پہلے بھی نہتے عوام پر گولی چلوانے کا مجرم ہے اور اس قابل ہے کہ اس پر دہشت گردی کے تحت مقدمہ چلواکے اس ملت فروش کو قرار واقعی سزا دی جائے!اور 27 ستمبر کے عوامی احتجاج کی راہ مسدود کرنے کیلئے اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے کٹھ پتلی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں!ڈوگر، جس کی شکل پہ ٹھیکرے ٹوٹتے ہیں، اپنے عسکری آقاء بزدل عاصم منیر کی چاکری میں بے شرمی اور بے حیائی کی ہر حد سے گذرچکا ہے۔میں سوچتا ہوں کس مٹی سے بنے ہوئے لوگ ہیں یہ بے ضمیر اورناقاعبت اندیش سرفراز ڈوگر جیسے بے حیا جو اعلیٰ عدلیہ کی مسندوں پہ براجمان ہیں اور جنہیں اللہ کا یہ فرمان یاد نہیں کہ انصاف کرو چاہے ملزم تمہارا اپنا عزیز کیوں نہ ہو!لیکن سرفراز ڈوگر تو لگتا ہے کہ وہ عاصم منیر کی غلامی میں اللہ اور عاقبت کو ہی بھول گیا ہے اور ہر اس حکم پر اپنا انگوٹھا لگا دیتا ہے جو عسکری طالع آزما کی طرف سے آیا ہو!لہٰذا اس بے ضمیر ڈوگر نے یہ فیصلہ سنادیا ہے کہ حکومتِ وقت کے خلاف احتجاج ملک کے آئین سے غداری ہے، اور آئین کے فرمان کو نظر انداز کرنا قابلِ دست اندازی فعل ہوگا!اس ضمیر فروش سے کوئی یہ سوال کرے کہ پاکستان کے آئین کو تو صرف عسکری طالع آزماؤں نے توڑا ہے اور اس جرم کے یہ ملت فروش بار بار مجرم ہوئے ہیں۔ کیا کسی عسکری آمر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کسی ڈوگر یا اس کی عدالت کو جرأت ہوئی؟ کیا کسی ڈوگر کو یہ توفیق نصیب ہوئی کہ وہ آئین توڑنے والوں کا احتساب کرسکے ؟!بزدل عاصم منیر کاخوفِ عمران اور عوام کا یہ عالم ہے کہ عمران کی ہمشیرہ علیمہ خان کو بھی نقصِ امن کے اندیشے میں تیس دن کیلئے گرفتار کرکے کوٹ لکھپت بھیج دیا گیا ہے!یہ ہیں وہ دلیر جرنیل جو ایک عورت سے بھی خوف کھاتے ہیں اور جن کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بندوق کا ایسا زعم ہے، ایسا گھمنڈ ہے کہ جو ان کے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اسے بند کردیتے ہیں، اٹھا لیتے ہیں یا پھر اس کی سینے میں گولیاں اتار دیتے ہیں! یہی کارنامہ ہے ہمارے ان ملت فروش، ملک دشمن بزدل و کائر جرنیلوں کا جو پاکستان کے خود سب سے بڑے اور کھلے دشمن ہیں اور جن کے کرتوتوں نے ملک کو دو لخت کیا تھا اور اب بھی ان کی سیاہ کاریاں ملک کی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں! اور ان بزدل جرنیلوں کا بٹھایا ہوا کٹھ پتلی برائے نام وزیر دفاع وہ خواجہ آصف ہے جو جب منہ کھولتا ہے فحش کلامی کا مرتکب ہوتا ہے !اس کے خمیر میں جرنیلوں کی غلامی ودیعت ہے!اس کا باپ، خواجہ صفدر ضیا الحق کے تلوے چاٹتا تھا اور اسی سبب وہ ضیاء کی نام نہاد مجلس شوریٰ کا صدر بن گیا تھا۔ بیٹا اب عاصم منیر کے بوٹ چاٹنے میں کمال کر رہا ہے اور اپنے آقاء کی خوشنودی حاصل کرنے کو عمران خان اور اس کے بیٹوں کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے!لیکن اس بار جب اس نےیہ کہہ کے عمران کے بیٹوں کو یہودی ہونے کا بہتان لگایا کہ یہودیت میں تو نسل ماں کی طرف سے چلتی ہےتو فرزندانِ عمران کی ماں جمائما نے اس موذی کو وہ کرارا جواب دیا ہے کہ اگر اس میں حیا اور شرم کی ایک بوند بھی ہوگی توآئندہ کبھی یہ عمران کو یااس کے بیٹوں کو یہودی ایجنٹ ہونے کا طعنہ نہیں دے گا!اپنی دانست میں تو یہ بد ذات بڑی دور کی کوڑی لایا تھا کہ یہودیوں میں واقعی نسل ماں کی طر فٖ سے چلتی ہے لیکن جمائما نے اس جاہل، اُجڈ اور گنوار کو اس کی اوقات دکھادی یہ کہہ کر کہ میری ماں تو عیسائی ہے وہ تو یہودی نہیں ہے تو میں کیسے یہودی ہوئی اور میرے بیٹے کیسے یہودی ہوئے؟اور جمائما نے مزید اس بے شرم کے منہ پہ طمانچہ رسید کیا یہ اضافہ کرکے کہ اس کی دادی بھی مرتے دم تک کرسچن رہی۔ دادی یہودی نہیں تھی تو باپ کیسے یہودی ہوا؟لیکن عاصم منیر ہو یا بے شرم خواجہ آصف ہو یا عاصم کی منظورِ نظر رانی مریم نواز ہو یہ سب بے شرموں، بے حیاؤں اور کم ظرفوں کا ایک قبیلہ ہے جو پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے، اپنی ملکیت گردانتا ہے اور پاکستانی عوام کی نہ ختم ہونے والی بے حسی سے فائدہ اٹھا رہا ہے!مریم نواز تو خود ستائشی کے اسی مرض میں مبتلا ہے جس کا بہترین نمونہ سامراجی ٹرمپ ہے۔ یہ دونوں تو اپنی ذات کے سحر میں مبتلا ہونے کی خاصیت کے سبب ایک دوسرے کے بھائی بہن لگتے ہیں۔مریم نواز نے اپنی بیٹی کی گریجویشن کیلئے انگلستان جانے کیلئے، جہاں ان کے کنبہ کا قبلہ و کعبہ ہے، جو سرکاری جہاز استعمال کیا تھا اس پر بڑی لے دے ہورہی تھی، سوشل میڈیا میں آگ لگی ہوئی تھی۔ رہا پاکستانی نیوز میڈیا تو اس کے پر عاصم منیر ایسے ہی کاٹ چکا ہے جیسے اس نے عدلیہ کو بے دست و پا کرکے اپنے مہرے میں تبدیل کردیا ہے۔تو مریم نواز نے اپنی بے غیرتی اور ڈھٹائی کا ایک اور بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے زعم سے یہ اعلان کیا کہ ان کا ہر دورہ، ہر فعل، ذاتی نہیں بلکہ سرکاری ہوتا ہے اور معترزین کو ایک طرح سے ٹھینگا دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بھی جہاز کو اپنی ذاتی ملکیت کی طرح استعمال کریںگی جو ان کا بگاڑ سکتا ہو بگاڑ لے !بی بی، آپ کا گھمنڈ جائز ہے اسلئے کہ پاکستان کے عوام، اور خاص طور پہ آپ کے پنجاب کے عوام توایسے بے حس ہیں کہ آپ کچھ بھی کریں یہ بولنے والے نہیں ہیں۔ یہ تو بقولِ حضرتِ جوش
یہ مردہ ہیں زندوں سے انہیں کیا نسبت
جب مردہ بنوگے تو یہ پہچانیں گے
تو مریم نواز نے ایک اور فریب کیا، ایک اور جھوٹ بولا یہ کہہ کر کہ انہوں نے جہاز کے استعمال پر جو لاگت آئی تھی، کوئی تین کڑوڑ روپے، وہ سرکاری خزانے میں جمع کروادی ہے۔ انہوں نے ملتان میں جلسہ سے خطاب کے دوران ایک رسید بھی لہرائی کہ یہ رسید ہے رقم جمع کروانے کی!
لیکن وہ رسید جعلی نکلی، مریم نواز اور ان کے فریبی خاندان کی طرح۔لیکن کیا فرق پڑتا ہے۔ مریم نواز ہو، یا آصف یا ان دونوں کا آقاء عاصم منیر وہ جو جھوٹ بھی بولیں پاکستانی عوام کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی اور یہی آمروں اور طالع آزماؤں کے عروج اور دوام کا سبب ہے !یہ جرنیل، یہ جونکیں پاکستان کو یونہی ڈستی رہینگی اور خون پیتی رہینگی!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button