9/11 اور امریکی مسلمان!

گیارہ ستمبر ہر سال آتا ہے اور خاموشی سے گذر جاتا ہے۔ لیکن اس سال اسکی بازگشت ابھی تک باقی ہے۔ گذشتہ پچیس برسوں اور اس سال کے نو گیارہ میں فرق یہ اس مرتبہ یہ دن سیاست کی دھند میں لپٹا ہوا تھا۔ اس سے پہلے دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ اس دن کو سیاست کی آلودگی سے پاک رکھا جا ئے گا۔ سیاستدان اس دن منعقد ہونیوالی سرکاری تقریب میں شرکت ضرور کریں گے لیکن انہیں تقریر کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہ روایت پچیس برس تک قائم رہی۔یہ دن اس شہر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن اس لیے ہے کہ اس دن اس شہر کے 2997 افراد، دو فلک بوس میناروں کے ملبے میں دفن ہوئے تھے۔ ہر سال اس روز ان رفتگان کے نام بہ آواز بلند لیے جاتے ہیں اور پھر انکے لواحقین کو اپنا دکھ درد بیان کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس سال بھی یہ سب کچھ ہوا لیکن اس روز ایک لمحہ ایسا بھی آیا جو ہر اعتبار سے سیاست میں لتھڑا ہوا تھا۔ اس لمحے اس شہر کے مسلمان مئیر ظہران ممدانی نے پچیس برس پرانے میئر Rudy Giuliani سے مصافحہ کیا تھا۔ دونوں گرائونڈ زیرو پر منعقد ہونیوالی تقریب میں مدعو تھے۔ان میں سے ایک ڈیموکریٹ اور دوسرا ریپبلیکن تھا لیکن انکے تعلقات میں کشیدگی کی وجہ ملکی سیاست نہ تھی بلکہ ایک مذہبی تنازعہ تھا۔روڈی جولیانی نے اس دن سے پہلے ایک طویل میڈیا مہم چلا کر یہ مطالبہ کیا تھا کہ ظہران ممدانی اس تقریب میں شرکت نہ کرے۔ اسکی وجہ اس نے یہ بتائی تھی کہ نیویارک کے لوگوں کی اکثریت اس تقریب میں کسی مسلمان کی شرکت کے خلاف ہے۔ اسکے ثبوت کے طور پر سابقہ مئیر نے اس سوشل میڈیا مہم کا ذکر کیا جو ایک ایسے شخص نے چلائی تھی جسکی اہلیہ گیارہ ستمبر کے سانحے میں ہلاک ہوئی تھی۔ اس کا نام Gioyanni Galante ہے اور اس نے ایک ماہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک خط پوسٹ کیا تھا جس میں اس نے موجودہ مئیر سے اس تقریب میں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس درخواست پر ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دستخط کئے تھے۔ یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان میں سے کتنوں کا تعلق
نیو یارک سے تھا۔ ان لوگوں کی اکثریت کا تعلق اگر دوسری ریاستوں سے بھی ہو تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکہ میں آج تک مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس شک و شبے کو روڈی جولیانی کی مسلمان دشمن شعلہ بیانی نے مزید بڑھا دیا۔ سابقہ مئیر کی چلائی ہوئی مہم میں نیو یارک کے سابقہ گورنر George Pataki سٹی کونسل کے ممبر Vickie Paladino اور تین نومبر کو ہونیوالے انتخابات میں گورنر کے عہدے کے ریپبلیکن امیدوار Bruce Blakeman اور کئی دیگر نامور شخصیات نے بھی شرکت کی تھی۔ اس میڈیا مہم کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ مئیر ظہران ممدانی گیارہ ستمبر کی تقریب میں شرکت نہ کریں کیونکہ انکے عقائد‘ نظریات اور تقاریر ان حملہ آوروں کی ترجمانی کرتی ہیں جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کیا تھا۔ گیارہ ستمبر سے پہلے نیویارک کے نیوز میڈیا نے کئی مرتبہ ظہران ممدانی سے پوچھا کہ وہ اپنے خلاف چلنے والی مہم کے جواب میں کیا کہیں گے۔ اس سوال کا جواب انہوں نے ہر مرتبہ یہی دیا کہ یہ دن ان لوگوں کے غم میں شرکت کا دن ہے جن کے عزیز رشتے دار اس روز ہلاک ہوئے تھے۔ مئیر ممدانی نے یہ بھی کہا کہ وہ اس تنازعے میں نہیں الجھنا چاہتے اور وہ صرف اپنی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ انکے مخالفین نے اس جواب کو اہمیت نہ دی اور اپنی مخالفانہ مہم کو جاری رکھا۔ ان کی اکثریت کا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے تھا اور وہ اس دن کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم سے پتہ چلتا تھا کہ پچیس برس بعد بھی انکے انتقام کی پیاس نہیں بجھی۔ اسامہ بن لادن اور صدام حسین ہلاک ہو چکے اور خالد شیخ محمد پچیس برس سے گوانتانامو بے میں مقید ہے۔ لیکن روڈی جولیانی اور انکے متعصب گروہ نے مسلمانوں کی نئی نسل میں دشمن تلاش کر لیے ہیں۔ نیویارک میں اس سیاست بازی کے لیے ظہران ممدانی سے بہتر شکار کون ہو سکتا تھا۔ امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف چلنے والی مہم کا دائرہ صرف نیویارک تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ شہر اور قصبہ جہاں مسلمان اہم سیاسی اور سرکاری عہدوں پر فائز ہیں وہاں انہیں اس نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کا اہم عہدوں پر تعینات ہو جانا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت متعصب نہیں ہے۔ وہ میرٹ پر آگے آنے والے کسی بھی شخص کی حق تلفی نہیں کرتے۔ اسکا ایک بڑا ثبوت مشی گن سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینٹ کے امیدوار ڈاکٹر عبدلرحمان ال سید ہیں۔ اس ریاست کی طاقتور یہودی لابی نے ال سید کے خلاف انتخابی مہم میں بتیس لاکھ ڈالر خرچ کئے مگر انہیں شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ اب تین نومبر کے عام انتخاب میں اسی لابی نے ڈاکٹر ال سید کے خلاف ساٹھ لاکھ ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس لابی کی مہم کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ مسلمان اس لیے امریکن نہیں ہو سکتے کہ انکی مذہبی اقدار امریکنوں سے نہایت مختلف ہیں۔ یہ نظریہ کیونکہ امریکہ کے مرکزی سیاسی دھارے میں اپنی جگہ بنا چکا ہے ا س لئے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ متعصب قوم پرست اس حقیقت کو قابل توجہ نہیں سمجھتے کہ انکی اپنی Brown Universityنے Cost Of War Project کے عنوان سے کی ہوئی تحقیق میں یہ ثابت کیا ہے کہ جنگ دہشت گردی میں براہ راست ہلاک ہونیوالے مسلمانوں کی تعداد چار لاکھ بتیس ہزار ہے اور پانچ مسلمان ممالک کے وار زون میں بالواسطہ طور پر ہلاک ہونیوالے مسلمانوں کی تعداد 3.8 ملین یعنی لگ بھگ 38 لاکھ ہے۔ اسکے باوجود روڈی جولیانی کے ہم خیالوں کا غصہ اور انتقام ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ امریکہ میں مسلمانوں کی نئی نسل کو ظہران ممدانی اور ڈاکٹر ال سید کی طرح امریکی سیاست میں حصہ لیکر اس متعصب گروہ کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ایک مشہور فارسی مصرعہ ہے کہ کسب کمال کن کہ عزیز جہان شوی ،یعنی ہنر یا کمال حاصل کرو کہ دنیا کے عزیز بن جائو۔



