لانگ مارچ!

میرے دادا جان بہت بوڑھے ہو گئے تھے مگر کہانیاں سناتے تھے ہم اس وقت بہت چھوٹے تھے بس دو چار سال ہی دادا جان کی کہانیاں سنیں،پھر وہ اللہ کو پیارے ہو گئے،دادا جان کہانی اسی وقت سناتے جب ہم ان کو کوئی چیز کھانے کو دیتے،امی کہتیں دادا جان کے لئے چائے لے جاؤ،دادا جان چائے کا پیالہ ہاتھ میں لیتے اور چائے کے بارے میں ایک لمبی کہانی سنا دیتے پھر یہ بھی بتاتے تھے کہ انہوں دو پیسے میں کتنی چائے خریدی تھی،گرمیوں میں جب آم کا موسم ہوتا اور ہم کٹے ہوئے آم دادا جان کے لئے لے جاتے تو دادا جان آم کے بارے میں لمبی کہانی سناتے اور یہ بھی خبر دیتے کہ دو آنے میں بوری بھر آم مل جاتے تھے،پھر آم کی اقسام اور ان کے ذائقوں کے بارے میں بتاتے خربوزوں کا موسم آتا تو خربوزوں کے بارے میں ،یہ بھی بتاتے کہ خربوزوں کی دھاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ کون سا خربوزہ میٹھا ہوتا ہے اشیاے کے بارے میں دادا جان انسائکلو پیڈیا تھے ہاں سانپوں کے بارے میں بھی بتاتے تھے کبھی شکار کے قصے بھی سناتے کبھی کبھی دادا جان سلطانہ ڈاکو کی کہانی بھی سناتے، یہ ساری کہانیاں دلچسپ تھیںمگرجب ہوش سنبھالا تو سمجھ میں آیا کہ دادا جان ان چیزوں کی بات کرتے تھے جن کی رسد کم ہو گئی تھی اور کم دستیاب تھیںیا وہ باتیں جو معاشرے میں شاذ ہی ڈسکس ہوتیں جیسے سانپ اور شکار ،ہم نے سانپ دیکھے تو ہیں مارا ایک بھی نہیں،اسی طرح ہم شکار پر کبھی نہیں گئے ،اُردو ڈائجسٹ میں شکاریات ایک مستقل موضوع ہوا کرتا تھا وہ ہمارے لئے دلچسپی کا باعث تھا یا پھر ایڈ ونچر،جو کبھی شوق تھا اب ایک پروفیشن ہو چکا ہے،بچپن میں دنیا بدل رہی تھی،جب محلے کی مسجدسے لاؤڈ اسپیکر پر اذان ہوئی تو اچھا لگا،دنیا کو بدلتے ہوئے دیکھا اور پھر ہم نے معروف کالم نگار ارشاد حقانی کا ایک کالم پڑھا جس میں انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ مساجد سے جب لاؤڈ اسپیکر پر ایک ساتھ کئی اذانیں ہوتی ہیں تو یہ noise pollution ہوتا ہے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے تقسیم سے قبل مذہب ایسا نہ تھا شرم،رواداری، برداشت سبھی کچھ تھا ،نہ کوئی پوچھتا کہ نماز پڑھی کہ نہیں کسی نے نہیں پوچھا روزہ رکھا کہ نہیں،کوئی حج کر لیتا تو نہ مبارک نہ سلامت بس رشتے دار ملنے آ جاتے تھے زکوۃٰ کا رواج ہی نہ تھامگر مذہب کا احترام بھی تھا عقیدت بھی تھی پھر ایسا کیا ہو گیا تقسیم کے بعد کہ اس اسلام کا چہرہ ہی بدل گیا،اب مذہب سے خوف آنے لگا ،وجہ یہ ہے کہ مذہبmonitizeہو گیا،اب کہا جاتا ہے کیسا خدا،کیسا نبی،پیسہ خدا ، پیسہ نبی،جب مذہبی لوگ وڈیروں ،سرمایہ داروں ،اور جاگیر داروں کی دہلیز پر سجدہ گزار ہوئے تو ان کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت بھی مل گئی،ملک کی ہردیوار،ہر محراب پر کلمہ لکھ دیا گیا سرکاری عمارتوں پر بھی،عدلیہ کی عمارت کے ماتھے پر،مگر اخلاص اور خوفِ خدا جاتا رہا،کافر، ملحد مرتد مفسد کہنا آسان ہو گیا،اور گستاخی ء رسول کی وبا پھوٹی تو سرِ بازار قتل کرنا عام ہو گیا قاتلوں کو عزت ملی ،لوگ ڈر کے مارے چندے دینے لگے ،اور دین فروشوں کو عروج مل گیا حکومت ان قاریوں اور مولویوں پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ہوئی جو مدارس اور مساجد میں بچوں اور بچیوں کے ریپ کے مجرم تھے،سو معاشرے کے ایک اور طبقے پر قانون کا اطلاق نہیں ہوا وڈیرے اور جاگیر دار پہلے ہی قانون سے بالاتر تھے ،یہ دونوں طبقے سیاست سے بھی متعلق تھے،سو سیاست کو زہر آلود ہونا ہی تھا ،اس اتحاد سے فوج بھی ڈرتی ہے ،سب بے خوف ہو گئے،زرداری نے کہا کہ اینٹ سے اینٹ بجا دینگے،نواز شریف نے جنرلز کو کٹہرے میں لا کھڑا کر دیا،مولانا نے بھی فوج کو کھری کھری سنائیں،لبیک والے تو بغاوت پر اتر آئے،اور پی ٹی آئی نے نو مئی کر دیا، چھوٹی بڑی کوئی جماعت ایسی نہیں جو تھوڑی دیر کو ہی سہی فوج کے خلاف نہ آئی ہو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے تو مغلظات کی وہ بارش کی کہ خود فوج نے کانوں کو ہاتھ لگا لئے،ادھر جب سے عمران گرفتار ہوئے ہیں دہشت گردی کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں ٹی ٹی پی ،بی ایل اے،افغان طالبان، اور القاعدہ کا نام تو اقوام متحدہ بھی لے رہی ہے،ادھر امریکہ ایران جنگ جس نے معیشت کی
کمر توڑ دی ہے حکومت کمزور ہے وہ ایلیٹ کلاس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی،اور ایلیٹ کلاس ملک کو لوٹنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتی،کابینہ میں بیٹھی مافیاز الگ متحرک ان حالات میں پاکستان میں چار چار لانگ مارچ ہونے کی خبریں ہیں،گزشتہ چونتیس دن سے جماعت اسلامی نےملک بھر میں دھرنے دے رکھے ہیں،ان کا مطالبہ ہے کہ پیٹرول سے لیوی ختم کی جائے،مطالبہ غلط نہیں یہ سچ ہے کہ ہر لیٹر پر بے تحاشا لیوی لی جاتی ہے،اور اس کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے، عوام 780 ارب ٹیکس دیتا ہے تو ایلیٹ کلاس اور تاجر صرف 72ارب ،یہ کسی صورت میں مناسب نہیں،مگر سوال یہ کہ جماعت اسلامی نے وڈیروں، جاگیر داروں، تاجروں، ایلیٹ کلاس اور مافیاز کے خلاف کتنے دھرنے دئے،کتنے لانگ مارچ ،اگر نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا لٹیروں کے خلاف جماعت نے دھرنے،اور لانگ مارچ کیوں نہیں کئے،میر رضا کیس میں سندھ حکومت کی جانبداری کے خلاف مظاہروں میں جماعت اسلامی نے کتنا وزن ڈالا، پمز ہسپتال میں چودہ بچوںکی موت پر جماعت اسلامی کی خاموشی پر اسرار ہے،گل پلازہ میں جو آگ لگی اس پر جماعت اسلامی کا رد عمل کیا تھا، اس بے اعتنائی کی تاریخ طویل ہے،پی ٹی آئی عمران کی رہائی کے لئے لانگ مارچ کر رہی ہے،پی ٹی آئی جانتی ہےکہ عمران کی رہائی عدلیہ کے حکم سے ہی ممکن ہے مگر یہ لوگ احتجاج سے خان کو رہا کرانا چاہتی ہے،احتجاج ہمیشہ پُر تشدد ہی رہا ہے،اشتعال انگیز ہی رہا ہے اس بار بھی للکار پہ للکار، جنید اکبر کہتے ہیں کہ ہم اسلام آباد کو سومنات بنا دینگے۔



