Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

صدر ٹرمپ کی تصوراتی دنیا!

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ صدر ٹرمپ ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات اتنی پرانی ہو چکی ہے کہ اب اسے دُہرانا مناسب نہیں۔ صدر ٹرمپ کی MAGA تحریک سے وابستہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے لیکن امریکی عوام کی اکثریت جانتی ہے کہ انکا صدر سچائی اور فکشن میں تمیز نہیں کر سکتا۔ صدر ٹرمپ ہر روز نہ سہی ہر ہفتے ایسا کوئی نہ کوئی بیان دے دیتے ہیں جسے سن کر لوگ اس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اسکا حقیقت سے کیا تعلق ہے۔ مثال کے طور پر گذشتہ اتوار کو انہوں نے اپنے میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دور دور تک آگ کے بڑھکتے ہوے شعلے نظر آ رہے تھے۔ اسکے نیچے انہوں نے لکھا تھاکہ ایران کے خارگ جزیرے کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔ اس سے چند روز پہلے امریکہ آبنائے ہرمز میں ایران کے تین آئل ٹینکرز تباہ کر چکا تھا اور اسکے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر حملے کئے تھے۔ اس پوسٹ کے بعد صدر امریکہ کے ناقدین نے کہا کہ خارگ جزیرے پر امریکہ نے آخری حملہ اپریل میں کیا تھا۔ یہ بات جب چل نکلی تو پھر یہ پتہ چلا کہ صدر ٹرمپ نے جو ویڈیو پوسٹ کی تھی وہ مصنوعی ذہانت کی بنائی ہوئی تھی یعنی AI Generated تھی۔ تو کیا صدر ٹرمپ مصنوعی ذہانت کی بنائی ہوئی اور حقیقی ویڈیو کا فرق نہیں جانتے یا وہ یہ فرق جانتے ہیں اور انہوں نے جان بوجھ کر کذب بیانی کی ہے۔دونوں جوابات تشویشناک ہیں۔ ہر امریکی صدر کو روزانہ ملکی اور عالمی حالات کے بارے میں بریفنگ دی جاتی ہے تا کہ وہ معروضی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کر سکے لیکن صدر ٹرمپ یہ بریفنگ نہیں لیتے وہ ٹیلی ویژن شوق سے دیکھتے ہیں اور اپنے مشاہیر اور سٹاف کی دی ہوئی معلومات کی بنیاد پر فیصلے کر تے ہیں۔ صدر ٹرمپ چھ ماہ سے کہہ رہے ہیں کہ ایران کی فوج کو تباہ کر دیا گیا ہے‘ آبنائے ہرمز پر اب امریکہ کا قبضہ ہے‘ ایران چند دنوں میں ہتھیار ڈال دے گااور امریکہ اس جنگ میں فتح حاصل کر چکا ہے۔ اس نوع کے بیانات نے امریکہ کی ساکھ کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ اب کوئی ان پر توجہ نہیں دیتا۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ صدر امریکہ محض اپنے بیانات کے ذریعے ایسے حقائق تخلیق کرنا چاہتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ خارجی معاملات کے علاوہ داخلی سیاست میں بھی صدر ٹرمپ اپنے تصورات کے اسیر ہیں۔ ان کی مقبولیت کا گراف گر کرتیس سے پینتیس فیصد کے درمیان آ چکا ہے۔ حالیہ تاریخ میں کسی بھی امریکی صدر کی مقبولیت اس سطح پر نہیں آئی۔ انتخابات اگر قریب ہوں تو ہر غیر مقبول صدر خود کو انتخابی سیاست سے الگ کر لیتا ہے اور اپنی پارٹی کے جلسوں میں شرکت نہیں کرتا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آ ئے۔ آج کل ری پبلیکن پارٹی کے حالات اتنے دگر گوں ہیں کہ وہ دو ماہ بعد ہونیوالے انتخابات میں ٹیکساس، الاسکا اور آئیوا،جیسی قدامت پسند ریاستوں میں بھی شکست کھاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ایوان نمائندگان میں تو صدر ٹرمپ کی جماعت کی شکست نوشتۂ دیوار ہے اور سینٹ میں بھی انکی چار سیٹوں کی برتری خطرے میں ہے۔ ان دونوں ایوانوں میں ری پبلیکن پارٹی اگر اکثریت کھو دیتی ہے تو صدر ٹرمپ کی صدارت خطرات کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ لیکن ان کے طور طریقے ایسے ہیں جیسے وہ ایک بہت بڑی فتح سے ہمکنار ہونے والے ہیں۔ وہ اپنی کامیابی کے بارے میں اتنے پر اعتماد ہیں کہ وہ اگلے ہفتے ڈیلاس میں ایک مڈ ٹرم کنونشن منعقد کر رہے ہیںجس میں ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر اپنی انتخابی مہم اورعوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے بارے میںتقاریر کریں گے۔ ا س کنونشن میں پارٹی کے نامی گرامی ڈونرز بھی شرکت کریں گے اور اسکی ہر ہیڈ لائن میں صدر ٹرمپ کا نام ہو گا۔ لیکن اسکی کامیابی اس لیے مشکوک ہے کہ امریکی نیوز ایجنسی POLITICO کے سروے کے مطابق ستر سے زیادہ امیدواروں نے ابھی تک اس کنونشن میں شمولیت کا اعلان نہیں کیااور 45ری پبلیکن کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی انتخابی مصروفیات کی وجہ سے اس تقریب میں شرکت نہیں کر یں گے۔ اس کنونشن کے علاوہ صدر ٹرمپ اسوقت وائٹ ہائوس میں ایک عالیشان Ballroom کی تعمیر کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ واشنگٹن کے کسی مصروف چوراہے پر اپنا ایک مجسمہ بھی نصب کرنا چاہتے ہیںاور امریکی سکوں پر انکی تصویر کند کرنے کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ چند ماہ پہلے صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے خود کو جارج واشنگٹن اور ابراہام لنکن سے زیادہ مقبول اور کامیاب صدر ظاہر کیا تھا۔ یہ حرکات و سکنات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ صدر ٹرمپ تخیٔلات کی ایسی دنیا میں رہتے ہیںجس میں ان سے کوئی غلط کام سرزد نہیں ہوسکتا۔ اس جہانِ گر دمیں امریکی عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیںاور ان کے دشمن ان کے خوف سے تھر تھر کانپتے ہیں۔ ان کی بنائے ہوئی ہر ڈیل ثمر آور ثابت ہوتی ہے اور ان کی شروع کی ہوئی ہر جنگ فتح سے ہمکنار ہوتی ہے۔ انکی جماعت ہر الیکشن میں فتحیاب ہوتی ہے اور انکے مخالفین ہمیشہ اپنے زخم چاٹتے رہتے ہیں۔ اس تخیٔلاتی دنیا میں رہنے کا نقصان یہ ہے کہ جب کوئی بحران دستک دیتا ہے تو بادشاہ سلامت اسکے لیے تیار نہیں ہوتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے حالات بے قابو ہو جاتے ہیں اور اس تخیٔلاتی دنیا کے مسمار ہونے کی قیمت عالم پناہ کے علاوہ عوام کو بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کا غصہ اس بحران کا پتہ دے رہا ہے ۔ ریپبلیکن پارٹی بھی اسے آتا ہوا دیکھ رہی ہے مگر صدرٹرمپ اس سے بے خبر اور بے نیاز ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button