ہفتہ وار کالمز

آنکھیں!

آنکھیں بڑی نعمت ہیں آنکھوں کے بغیر روزگار چلتا نہیں ہی یوں تو انسانی جسم کا کوئی بھی عضو خراب ہو یا ناکارہ ہو توزندگی ایک عذاب بن جاتی ہے پچھلے ہفتے جب میں کالم لکھ رہا تھا توعمران کی آنکھ کے بارے میں خبر آئی تھی عمران کے وکیل سلمان صفدر کو Friend Of Courtمقرر کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ عمران کی Living Conditionsکے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں سلمان صفدر عمران سے ملے تقریباً ڈھائی گھنٹےکی ملاقات رہی اور سلمان صفدر نے وہ رپورٹ عدالت میں جمع کرادی،سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل سے باہر آ کرمیڈیا سے مختصر گفتگو کی جب ان سے پوچھا گیا کہ عمران کی صحت کیسی ہے تو انہوں نے کہا تھاـــ۔ٹھیک،اس پر سوشل میڈیا نے ایک ہنگامہ برپا کر دیااور سلمان صفدر کو اپنی بات واپس لینی پڑی ان کو کہنا پڑاکہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ عمران کی صحت ٹھیک ہے عدالت میں جو رپورٹ جمع کرائی گئی اس میں سلمان صفدر نے لکھا تھا کہ عمران کی ایک آنکھ کی بینائی 15%رہ گئی ہے85%ضائع ہو چکی ہے اور دوران گفتگووہ بار بار رومال سے آنکھ سے بہنے والا پانی صاف کرتے رہے،یہ پچھلے ہفتے کی Developing Storyتھی ہمیں یقین تھا کہ عمران کی آنکھ پر بات آگے بڑھے گی تو اس ہفتے کے دوران یہ اسٹوری بہت ہنگامہ خیز ہو چکی ہے یہ عمران کی آنکھ کا معاملہ تھا کوئی معمولی بات تو تھی نہیں،معاملے نے طول پکڑنا تھا تو مختاریہ گل ودھ گئی اےعمران کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو نامعلوم ذرائع سے پتہ چلا کہ عمران کی آنکھ میں اکتوبر 2025میں تکلیف شروع ہوئی تھی جیل سپریڈینڈنٹ سے شکایت کی گئی تو آنکھوں میں ڈالنے کے لئے ڈراپس دے دیئے گئے ،تکلیف بڑھ گئی تو ان کو پمز ہسپتال لایا گیا اور ایک چھوٹا سا Procedureکر دیا جس میں بیس منٹ لگے اور واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا اس بات کی خبر تین دن بعد دی گئی کہا جاتا ہے کہ ایک صحافی نے یہ خبر بریک کی تھی،اس پر شور مچ گیا شور مچ ہی جانا تھا Overseas Social media Keyboard Warriorsنے ایک طوفان کھڑا کر دیا،حکومت دباؤ میں آئی اور دو ڈاکٹرز نے اڈیالہ میں ہی عمران کی آنکھ میں انجیکشن لگایاتمام ضروری ٹیسٹ کئے کہا جاتا ہے کہ آنکھ کی ایک شریان میں ایک کلاٹ تھا، وہ کلاٹ نکال دیا گیا،اسی دوران عمران کی ان کے دونوں بیٹوں سلیمان اور قاسم سے بیس منٹ بات کرا دی گئی یہ سب کچھ عدالت کے حکم پر ہوا،سلیمان اور قاسم تین چار دن تو خاموش رہے انہوں نے عمران کی صحت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی مگر ملاقات کے چار دن کے بعد ایک چینل کو انٹر ویو دیا اور کہا کہ عمران کی صحت ٹھیک نہیں اور ان کی آنکھوں کا مناسب علاج نہیں ہو رہا،شخ وقاص اکرم ایک ٹی وی شو میں ماریہ میمن کو بتا رہے تھے کہ عمران کی صحت کے حوالے سے New York Times /Washington post اور دیگر امریکی اخبارات میں کچھ خبریں چھپی ہیں ذاتی طور پر مجھے اس کا علم نہیں ،یہ خبریں میں نے نہیں دیکھیں مگر یقین کیا جا سکتا ہے کہ عمران کی صحت کے حوالے سے بیرونی میڈیا نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہوگا،سوشل میڈیا نے تو بہرحال آسمان سر پر اٹھا لیا ہے اور ظاہر ہے کہ سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا کو متاثر کرتا ہے۔افغان میڈیا اور بھارتی میڈیانے بھی اپنا حصہ ڈالا اور حکومت دباؤ میں آئی اور فوری طور پر دو ماہر ڈاکٹرز نے اڈیالہ جیل میں ہی عمران کو طبی علاج
فراہم کیا،ان ڈاکٹرز میں پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹر قریشی بھی شامل تھے ان ڈاکٹرز نے عمران کے ذاتی معالجین جن میں ڈاکٹرعاصم یوسف بھی شامل ہیں چالیس منٹ تک بریف کیا اور ان کے سوالات کے جوابات دیئے ان ڈاکٹرز نے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو بھی عمران کو دئے جانے والے علاج اور صحت کے بارے میں بتایا اور وہ مطمئن نظر آئے آج میں جیو نیوز پر شہزاد اقبال کا پروگرام دیکھ رہا تھا اس میں بتایا کہ جب عمران کی آنکھ کا علاج کرنے والےڈاکٹرز نے عمران کے ذاتی ڈاکٹرز کو تفصیلات بتائیں تو عمران کے ڈاکٹرز نے کہاـآپ نے تو کمال کر دیا ،مجھے نہیں معلوم کہ یہ جملہ ایک Complimentتھا یا طنز،سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے اور میرا خیال ہے کہ حکومت دباؤ میں آچکی ہے اب وفاقی وزیر کہہ رہے ہیں کہ عمران کا بہترین علاج کرایا جائیگاان کو شفا ہسپتال بھی لایا جا سکتا ہے،پمز میں بھی لا سکتے ہیں۔بہت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ اڈیالہ میں ڈاکٹروں کے علاج کے بعد پی ٹی آئی کے جنرل سکریٹری سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ کہ بانی آنکھ دیوار پر لگی ہوئی گھڑی بھی دیکھ سکتے ہیں اور گھڑی کی سوئیاں بھی،استحکام پاکستان پارٹی کے صدر محمود اچکزئی جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں انہوں نے بھی یہی کہا کہ عمران کو دیوار پر لگی گھڑی بھی نظر آ رہی ہے اور اس کی سوئیاں بھی،مگر پی ٹی آئی ورکرز کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں،انہوں نے پختون خواہ میں تمام سڑکوں کو بلاک کر دیا سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ سب کچھ پختوں خواہ کے لوگوں نے از خود کیا ہے ہم نے کوئی کال نہیں دی معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن کی صورت میں لایا گیا اورعدالت نے فوری طور پر سڑکیں کھولنے کا حکم دیا اور پولیس نے تمام سڑکیں کھلوا دیں ،اختیار ولی نے الزام لگایا کہ سڑکیں بند کرنے والے نوجوان وہاں ڈرگز استعمال کر رہے تھے یہ بتایا گیا کہ پختون خواہ کی تما م سڑ کیں بنا مزاحمت کھول دی گئیں اور سڑکیں بند کرنے والے نوجوان بہت تیزی سے منتشر ہو گئے،پختون خواہ میں احتجاج ایک تماشہ بن کر رہ گیا ہے جس سے عام پبلک کی کوئی دلچسپی ظاہر نہیں ہوتی ،یہ عام رویہ ہے کہ حکومت کی بات کا پاکستان میں کوئی اعتبار نہیں کرتا مگر معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عمران کی آنکھ کا معقول علاج کیا گیا ہے اور وہ بہتر محسوس کررہے ہیں ،قومی اسمبلی میں اچکزئی کی قیادت میں دیا جانے والا دھرنہ بھی ختم ہو گیاراجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ عید کے بعد سوچا جائے گا کہ کیا کرنا ہے۔ہمارا میڈیا کمال کرتا ہے یہ مردوں میں جان ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے سوشل میڈیا پر Mortality Rate صفر ہے سوشل میڈیا کے Keyboard Warriorsمردوں کو مرنے ہی نہیں دیتے اب پی ٹی آئی کے جنگجواراکین کی فرمائش ہے کہ ہمارے تین مطالبات مانے جائیںوہ مطالبات یہ ہیں کہ عمران کو الشفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے ،ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے اور فیملی کو عمران سے ملنے دیا جائے،حکومت یہ تو کہتی ہے کہ عمران کابہترین ڈاکٹرز سے علاج کرایا جائیگامگر تین مطالبات پر وفاقی وزراء برہمی کا اظہار کرتے ہیں مسئلہ امن و امان کا ہےجب بھی کوئی عمران سے ملنے جاتا ہے کوئی ایسی بات لے کر آتا ہے جس پر پی ٹی آئی کا سوشل میڈیاآگ بگولا ہو جاتاہے پارٹی پر دباؤ آتا ہے اور اینکرز دیوانے ہو جاتے ہیںسات بجے سے گیارہ بجے تک ایک تماشہ لگا رہتا ہے عاصم منیر کو گالیاں پڑتی ہیں علیمہ خان کہتی ہیں کہ ہمیں عمران سے ملنے دیا جائے تو ہم فیلڈ مارشل کا نام نہیں لیں گے،ادھرہر احتجاج کی ناکامی سے بد دل ہو کر سہیل آفریدی نے عمران رہائی فورس بنانے کا اعلان کر دیا ہے یہ اعلان بہت متنازعہ ہو چکا ہے بیرسٹر گوہر نے اس کی مخالفت کی ہے جب کہ جنید اکبر کہتے ہیں کہ ہم سوچ رہے ہیں سہیل آفریدی نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مقتدرہ سے لڑائی ہے عجیب بات ہے کہ مقتدرہ سے لڑائی بھی ہے اور مقتدرہ سے بات بھی کرنا چاہتے ہیں ابھی خبر آئی ہے کہ عمران کو دوبارہ پمز ہسپتال لایا ہے ان کی سیکنڈ انجیکشن کے لئے منظوری لی گئی اور دوسرا انجیکشن بھی لگا دیا گیا اور اس پروسیجر کے دوران عمران کی حالت معمول کے مطابق رہی اس خبر کے آتے ہی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بات عمران کی آنکھ سے دور جا چکی یعنی مختاریہ گل ودھ گئی اے۔اب ان کا مطالبہ ہے کہ عمران کا پورا چیک اپ ان کے ذاتی معالجین کریں ان تمام کوششوں کا نتیجہ سیاسی پنڈت یہی نکالتے ہیں کہ کوئی بات باہر آئے اور احتجاج کا موقع ہاتھ لگے،ایسا لگتا ہے کہ حکومت بھی پی ٹی آئی کو ایسے معاملات میں الجھا کر زچ کرنا چاہتی ہے اور پارٹی کے اندر کے اختلافات سے لطف اندوز ہو رہی ہے ایک دھڑا کہتا ہے کہ علیمہ خان پارٹی کو کنٹرول کرکے تباہ کر رہی ہیں اور سوشل میڈیا علیمہ خان کو پروموٹ کر رہا ہے،اس پورے جنجال پورہ میں نقصان معیشت کا ہو رہا ہے عام شہری پس رہا ہے مہنگائی بڑھ رہی ہے پی ٹی آئی چاہتی ہے مہنگائی اور بڑھے تاکہ عوام مہنگائی سے تنگ آ کر باہر نکلے اور وہ اس سے فائدہ اٹھائے حکومت مہنگائی کا سبب احتجاج بتاتی ہے لگتا یہی ہے کہ عوام کی فکر نہ پی ٹی آئی کو ہے نہ حکومت کو،ملک کے دو صوبوں میں دہشت گردی عام ہے اور حالات قابو میں نہیں مگر وزیر اعظم صدر اور وفاقی وزراء کے بیرونی دورے ختم نہیں ہو رہے ان دوروں کے خاطر خواہ نتائج نہیں مل رہے مگر زرمبادلہ بے دردی سے خرچ ہو رہا ہے ہر شاخ پہ الوّ کو بھی بیٹھے زمانہ ہو گیا الوّ مرتا بھی نہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button