امریکہ اور ایران ‘ جنگ کی دہلیز پر!

امریکہ ایران پر حملہ کرے گا یا نہیں اسکا جواب بعض امریکی دانشور یہ دے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کریں گے۔ جینیوا میں جمعرات کو ہونیوالے مذاکرات کو آخری مرحلہ کہا جا رہا ہے۔ اسکے فو راًبعد صدر ٹرمپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ حملہ کب کیسے اور کتنے بڑے پیمانے پر کیا جائے۔ جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا محدود حملہ ہو سکتاہے جسکے بعد بڑا حملہ کچھ تاخیر سے ہو گا۔ یہ اگر درست ہے تو وہ ایک بڑے حملے کومؤخر کیوں کر رہے ہیں۔ اسکی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس مرتبہ کی جنگ گذشتہ برس سے نہایت مختلف ہو گی۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ایران اس مرتبہ بھرپور جواب دے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط میں ایران کے مستقل مندوب امیر سید اروان نے لکھا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں متحارب قوتوں کے تمام ٹھکانوں اور اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی مندوب نے کہا ہے” The U.S would bear full responsibility for any unpredictable and uncontrolled consequences.” یہ تو ظاہرہے کہ ایران پر دوسرے امریکی حملے کے کچھ ایسے نتائج بھی ہوں گے جو ابھی تک بر سر پیکار ممالک کو معلوم نہیں ہیں۔ عراق‘ شام‘ لیبیا اور افغانستان کے معاملات کبھی بھی امریکہ کے قابو میں نہ تھے۔ ان ممالک پر حملوں کے بعد امریکہ کو اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر واپس جانا پڑا۔ ایران ان تمام ممالک سے کہیں زیادہ طاقتوراور با اثر ہے۔ چین اور روس بھی اس سے ہمدردی رکھتے ہیں اور سامنے آئے بغیر اسکی مدد کرتے رہتے ہیں۔
ایران کا ابھی تک اپنے مئوقف پر ڈٹے رہنا پتہ دیتا ہے کہ خامنہ ای حکومت امریکی شرائط جن میں یورینیم کی افزودگی ختم کرنے‘ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری سے دستکش ہونے اور پراکسی ملیشیا سے قطع تعلق کرنا شامل ہیں کو تسلیم کرنا ایسی حزیمت سمجھ رہی ہے جو جنگ سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس لیے وہ امریکی مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے جنگ پر کمر بستہ ہے۔ بعض ماہرین کی رائے میں صدر ٹرمپ اگر ایک بڑی اور طویل جنگ کو ٹالنا چاہتے ہیں تو انہیں ایران کو ایک ایسی ڈیل دینا ہو گی جو اس کے لیے قابل قبول ہو۔ اس قسم کی کسی پیشکش کے آثار اس لیے نظر نہیں آ رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ گذشتہ برس ایران میں حکومت کے خلاف مظاہروں‘ بارہ روزہ جنگ اور اسکے بعد مزید معاشی پابندیوں کے نتیجے میں خامنہ ای حکومت کو اتنا کمزور سمجھتی ہے کہ اسے اپنی بقا کے لیے ہر ڈیل کو قبول کر لینا چاہیئے۔ صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے مشیر سٹیو وٹکاف نے ہفتے کو ٖفاکس نیوز چینل کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’ صدر ٹرمپ حیران ہیں کہ ایران نے ابھی تک انکے مطالبات کیوں تسلیم نہیں کئے۔‘‘ اس سے پتہ چلتا ہے کہ خلیج فارس میں دو طیارہ بردار امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی سے ایران کی حکومت خوفزدہ ہو جائے گی۔ ایسا کیوں نہیں ہوا۔ اس سوال کے جواب میں Iran International Crisis Group کے ڈائریکٹر علی واعظ نے کہا ہے کہ ’’ ایران کے لیے ان امریکی شرائط کو تسلیم کرنا جنگ سے زیادہ نقصان دہ ہے۔‘‘
ممتاز امریکی کالم نگار Erica Solomon نے تئیس فروری کے کالم میں لکھا ہے کہ یہ جنگ اگر طوالت اختیار کرتی ہے تو اس میں حوثی قبائل کا کردار امریکہ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ گذشتہ برس بحیرہ احمر( یہ افریقہ اور جزیرہ نما عرب کے درمیان واقع ایک مشہور سمندر ہے)میں حوثی قبائل کئی دنوں تک مسلسل تجارتی جہازوں پر بمباری کرتے رہے تھے۔ اس جنگ میں امریکی بحری بیڑے کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ اکتیس دن تک جاری رہنے والے اس تصادم میں امریکہ کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کو حوثی ملیشیا سے ایک ڈیل کرنا پڑی تھی۔ اسوقت صدر ٹرمپ ایران سے جنگ کی ایک بڑی قیمت ادا کرنے کو تیار نہ تھے اب تو نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہونے ہیں۔ اس صورت میں ایک طویل امریکی اجنگ ریپبلیکن پارٹی کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایران بہر صورت اس جنگ کو طول دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ خدشہ ہے جو صدر ٹرمپ کے اضطراب کا باعث ہے۔ ایران آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حملے بھی کر سکتا ہے۔ اس تصادم میں اگر تیل کی قیمتیں ایک یا دو ڈالر فی گیلن بڑھ جاتی ہیں تو یہ امریکی عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو گا۔
اس منظرنامے کو دیکھتے ہوے صدر ٹرمپ شاید کسی ایسے محدود حملے کو ترجیح دیں گے جس کے نتیجے میں ایرانی قیادت مجبور ہو کر تمام امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ جان ہاپکن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس اور اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر ولی نصر نے کہا ہے کہ گذشتہ برس ایران نے امریکی حملے کے جواب میں جارحانہ رد عمل دکھانے سے گریز کیا تھا ۔ اسکے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ امریکہ اسکے دفاعی انداز کو اسکی کمزوری سمجھ کر مزید جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے اس لیے اسکے پاس ایک بھرپور جوابی حملے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا۔ ایرانی قیادت اس حقیقت سے بھی آگاہ ہو گی کہ کسی بھی ملک کے لیے دو امریکی بحری بیڑوں ‘ میزائلوں سے لیس درجنوں لڑاکا طیاروں اور لاتعداد ڈرونز کا مقابلہ ایک خطرناک مہم جوئی ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ کسی بھی طویل جنگ میں اس کے لیے ایران کے سینکروں بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں اسرائیلی شہروں کی حفاظت اور مشرق وسطیٰ میں اپنی انیس فوجی تنصیبات میں چالیس ہزار فوجیوں کا دفاع کوئی آسان کام نہ ہو گا۔ میدان جنگ کا نقشہ دونوں متحارب طاقتوں کے سامنے پڑا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ جمعرات کے مذاکرات کے بعد صدر ٹرمپ ایک مرتبہ پھر طاقت کے بے دریغ استعمال کا فیصلہ کرتے ہیں یا وہ کوئی ڈیل بنا کر ایک خوفناک جنگ کو ٹال دیتے ہیں۔



