یہ رازداری اور پردہ داری کیوں ہے؟ کہیں بادشاہ ننگا تو نہیں ہو جائے گا!

اڈیالہ جیل میں مقید عمران خان نے تین ماہ پیشتر جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا تھا کہ انہیں دائیں آنکھ میںتکلیف ہے تو جیلر نے کچھ دھیان نہیں دیا۔ جب بار بار کہا گیا تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے جیل میں بیٹھے کرنل سے ذکر کیا۔ کرنل نے اپنے اوپر جنرل عاصم منیر سے ہدایات لیں اور طے پایا کہ آئی ڈراپس ڈالتے رہو۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ عمران خان کو دائیں آنکھ میں صرف ایک دھندلا سا رشنی کا ہالہ رہ گیا۔ پچاسی فیصد عمران خان کی بینائی باقی رہ جانے کی خبر جب لیک ہوئی تو فوجی جرنیل فکر مند ہوئے اور انہوں نے ڈاکٹروں کے ہاتھ کھڑا کر دینے کے بعد رات کے اندھیرے میں عمران خان کو اسلام آباد کے پمز ہاسپٹل میں لیجایا گیا اور ایک ٹیکہ لگا دیا گیا۔ اس پورے واقعے میں نہ ہی عمران خان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا گیا، نہ ہی ان کے ذاتی ڈاکٹرز کو کچھ بتایا گیااور ناپروسیجر میں شامل کیا گیا اور نہ ہی عمران خان کے وکلاء کو خبر دی گئی۔ راتوں رات خفیہ طریقے سے عمران خان کو پمزہاسپٹل پہنچایا اور نام نہاد پروسیجر کر کے واپس اڈیالہ پہنچا دیا گیا۔ اس خبر کے لیک ہونے کے بعد پورے ملک میں ایک اضطراب کی صورت حال پیداہو گئی کہ عاصم منیر یہ کیا ایک مرتبہ پھر عمران خان کی جان سے کھیلنے کی کوشش کررہا ہے۔ اگر ہر چیز صاف و شفاف ہے تو پھر اتنی رازداری کیوں؟ آخر عمران خان کی فیملی اور فیملی ڈاکٹرز سے کس چیز کی پردہ داری کی جارہی ہے؟ اس خبر کے بعد عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی نے مطالبہ کیا کہ اگلے پروسیجر سے پہلے عمران خان کا ان کے ڈاکٹروں سے معائنہ کرایا جائے اور ان کا علاج فوجی ہسپتال الشفاء کے بجائے اسلام آباد ہی میں موجود ایک اور آنکھوں کے ہسپتال شفاء انٹرنیشنل میں کرایا جائے کیونکہ نہ صرف عمران خان کی فیملی،ڈاکٹرز، وکلاء بلکہ پی ٹی آئی کو سرکاری ہسپتال اور اس کے ڈاکٹروں پر کوئی اعتماد نہیں ہے اور ان اداروں اور ڈاکٹروں کی تشخیص، علاج اور پروسیجر کو نہیں تسلیم کیا جائے گا۔ جب دنیائے کرکٹ کے 14کپتانوں نے عمران خان کی آنکھ ضائع ہو جانے پرحکومت پاکستان کو خط لکھا کہ انہیں صورت حال پر نہ صرف افسوس ہے بلکہ تشویش بھی ہے تو حکومت نے کچھ دبائو محسوس کیا۔ جہاں تک ہمارے ملک کے 21کپتانوں کا تعلق ہے تو وہ بے چارے خوف اور خوشامد کی وجہ سے آج تک کوئی ایسا خط نہ لکھ پائے اور منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے 44 پروفیسرز، ڈاکٹرز، سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی عمران خان کی آنکھ کی بینائی ضائع ہو جانے پر تشویش اور مذمت کا لیٹر نہ صرف حکومت پاکستان کو لکھا بلکہ دنیا بھر کے مختلف انسانی حقوق کے اداروں اور او آئی سی اور اقوام متحدہ میں بھی کاپیاں ارسال کیں۔
اس دبائو میں آ کر فوجی جرنیلوں نے اعلان کیا کہ عمران خان کو ان کے ڈاکٹروں، اہل خانہ اور پارٹی رہنمائوں کے ساتھ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں لیجایا جائے گا۔ ٹی وی پر آ کر وزیر داخلہ اور جنرل عاصم منیر کے سالے سید محسن رضا نقوی نے یقین دہانیاں کرائیں مگر وہ محسن نقوی ہی کیا جو اپنی غلیظ حرکتوں سے باز رہے۔ گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ نے ایک مرتبہ محسن نقوی کے متعلق کہا تھا کہ جب ایک ڈکٹیٹر پیشاب کرتا ہے تو اس میں سے ایک محسن نقوی پیدا ہوتا ہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ وہ قول زریں کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔ اس ہفتے ایک مرتبہ پھر عمران خان کو محسن نقوی کے وعدہ کے مطابق انجکشن لگانے کے فالو اپ پروسیجر کے لئے رات کے اندھیروں میں تیز رفتار کارواں کے ذریعے اڈیالہ جیل لیجایاگیا مگر نہ اس میں عمران خان کی فیملی یا بہنیں شامل تھیں نہ عمران خان کے ذاتی معالج شامل تھے اور نہ ہی عمران خان کو انکی فیملی کے مطالبے کے مطابق شفا انٹرنیشنل آئی ہسپتال لیجایا گیا چھپن چھپائی کا کھیل یا ڈرامہ پھر رچایا گیا۔ بندوق کی نالی کے زور پر پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز سے کامیاب پروسیجر کی رپورٹ، بندوق کی نالی پر میڈیا پر چلائی گئی کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ ہمارے خیال میں اس رپورٹ کے نیچے دستخط بھی ڈاکٹر عاصم منیر نے ہی کئے ہوں گے۔ دوسری مرتبہ اس قسم کے رازداری اور پردہ داری کے طریقہ کار نے اب پاکستانیوں کو عموماً اور عمران خان کے اہل خانہ تینوں بہنوں، ڈاکٹروں اور تحریک انصاف کی کارکنوں کو خصوصاً یہ یقین دلادیا ہے عمران خان کیساتھ جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں مارنے کاپروگرام چل رہا ہے۔ مراد سعید نے اس ہفتے ایک فہرست جاری کی ہے کہ کس کس طرح اس فوجی رجیم نے عمران خان کو ہٹائے جانے کے بعد مارنے کی کوششیں کی ہیں۔
پہلی مرتبہ وزیر آباد میں براہ راست گولیاں مار کر عمران خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا دوسری مرتبہ ایک افغانی کو عمران خون کو مارنے کا ٹاسک دیا گیا جو ناکام ہوا۔
تیسری مرتبہ صوابی میں عمران خان کے ہیلی کاپٹر گرانے کا بھی پلان ناکام ہو گیا۔ پھر ایک دفعہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر میں غلط فیول ڈالاگیا تاکہ اڑنے کے بعد وہ فوراً گر کر تباہ ہو جائے۔ پھر ایک مرتبہ عدالت کے باہر ڈیتھ ٹریپ بچھا کر مارنے کی کوشش کی گئی مگر کیا کہتے ہیں کہ مارنے والے سے بڑا اوپر بچانے والا خدا ہے اور شکر ہے کہ عمران خان کی جان لینے کے سارے جرنیلی طریقے ناکام ہوئے۔
اب اڈیالہ جیل میں عمران خان کے دائیں آنکھ کے ریٹنا میں بلڈ کلاٹس (خونی لوتھڑے) جمع ہونے کی وجہ سے بینائی چلی جانے کے واقعے کے اوپر امریکہ اور یورپ کے طبی ڈاکٹروں اور ماہرین کو شبہ ہے کہ شاید عمران خان کو پچھلے تین سالوں سے اڈیالہ جیل میں کھانے میں ایسے کیمیکل دئیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے جسم کے خون میں لوتھڑے پیدا ہورہے ہیں جن کا پہلا نشانہ تو ریٹنا بنا ہے مگر ان کلوٹس کی وجہ سے ان کو ہارٹ اٹیک جیسی کئی بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو اب سمجھ میں آتا ہے کہ عمران خان نے اپنے خون کا ٹیسٹ کرانے کا کیوں مطالبہ کیا ہے اور ان دنوں گزشتہ پروسیجر میں اتنی پردہ داری اور رازداری کا کیا مقصد ہے۔ پاک فوج زندہ باد، پاک جنرلز مردہ باد۔



