چینی صدر شی جن پنگ اچانک مصر پہنچ گئے، ایران سے تعلقات پر امریکا کی پابندیوں کا خطرہ

قاہرہ: چین کے صدر شی جن پنگ مصر پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کریں گے۔شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب مصر اور چین دونوں کو ایران کے ساتھ مالی اور تجارتی روابط کی وجہ سے امریکی پابندیوں کے خطرے کا سامنا ہے۔شی جن پنگ مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے۔ یہ چینی صدر کا مشرق وسطیٰ کا ایک اہم اور غیر معمولی دورہ قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری جنگ نے خطے کے اہم تجارتی راستوں اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔واشنگٹن نے گزشتہ ماہ ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تہران کے ساتھ مالی یا تجارتی روابط رکھنے والے ممالک اور اداروں پر بھی نئی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ اس صورتحال میں مصر اور چین کے مالیاتی ادارے بھی امریکی کارروائی کی زد میں آنے کے خدشات سے دوچار ہیں۔مصر کی سوئز یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر جمال سلامہ کے مطابق شی جن پنگ کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب چین کے اقتصادی مفادات امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ سے براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ سنگاپور میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے محقق لیو جیا کے مطابق چین واضح طور پر مصر کے ساتھ تعاون کے ذریعے خطے کے معاملات کو سنبھالنے اور ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔



