نوجوان ڈاکٹرز تحقیق اور نئی سوچ سے عالمی صحت کے چیلنجز کا مقابلہ کریں: سپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور، (آصف اقبال) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ عالمی صحت کے چیلنجز کا مقابلہ جدید علاج اور ٹیکنالوجی کے ساتھ تحقیق، تجسس، مسلسل سوچ اور عملی اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ نوجوان میڈیکل طلبہ اپنی تعلیم کو محض ڈگری کے حصول تک محدود نہ رکھیں بلکہ دورانِ تعلیم ہی صحتِ عامہ، کمیونٹی سروس اور معاشرتی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔
وہ ایک نجی میڈیکل کالج میں منعقدہ تیسری بین الاقوامی اسٹوکان 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کا موضوع ”عالمی صحت کے چیلنجز سے مقامی اقدام تک: ایک میڈیکل طالب علم کیا کر سکتا ہے؟“ تھا، جس میں 40 سے زائد اداروں کے طلبہ نے شرکت کی۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ نوجوانوں کو سوال اٹھانے، سوچنے، تحقیق کرنے اور نئے خیالات پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنا معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے، خصوصاً طب کے شعبے میں یہ صلاحیتیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ مستقبل کے ڈاکٹرز کو نئے امراض اور بدلتے طبی چیلنجز کا سامنا ہوگا، جس کے لیے کتابی علم کے ساتھ تحقیق، مشاہدہ اور درست فیصلہ سازی بھی ضروری ہے۔
کورونا وبا کا حوالہ دیتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ عالمی وبا کے دوران دنیا کو متعدد طبی سوالات کا سامنا ہوا جن کے جوابات سائنسی تحقیق اور طبی ماہرین کی کاوشوں سے ممکن ہوئے۔ اس تجربے نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر کا کردار صرف مریض کے علاج تک محدود نہیں بلکہ مشکل حالات میں معاشرے کو درست سمت دکھانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے خوابوں کو ذاتی کامیابی تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں انسانیت اور معاشرے کی بہتری سے جوڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت صرف اقتدار کا نام نہیں بلکہ کردار، علم اور عمل کے ذریعے بھی قیادت کی جا سکتی ہے۔
تعلیمی مواقع میں تفاوت کا ذکر کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بعض نجی اداروں میں طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ بہت سے بچے ان مواقع سے محروم ہیں۔ ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ تمام بچوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔
سپیکر نے کہا کہ طب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی طبی تحقیق اور دریافت پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی تحقیق اور تعلیم کے ایسے مراکز اور مواقع کو فروغ دینا ہوگا جو نوجوانوں کو عالمی سطح پر طبی شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی طبی تشخیص، تحقیق اور علاج میں نئی راہیں کھول رہی ہے، تاہم اس کا استعمال انسانی اقدار، اخلاقیات اور مریض کے وقار کے تحفظ کے ساتھ ہونا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت ڈاکٹر کی معاونت کر سکتی ہے لیکن انسانی ہمدردی، اعتماد اور مریض کے احترام کا متبادل نہیں بن سکتی۔
ملک محمد احمد خان نے قانون سازی اور پالیسی سازی میں تحقیق اور شواہد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتر فیصلے قابلِ اعتماد تحقیق، حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے معاشرے خیالات، الفاظ اور اصولوں کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں، نوجوان اپنے علم، کردار اور الفاظ کے ذریعے معاشرے پر دیرپا مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے تیسری بین الاقوامی اسٹوکان 2026 کے انعقاد پر پروفیسر راشد لطیف خان، پیٹرن اِن چیف، پروفیسر طاہر مسعود احمد، پرنسپل، فیکلٹی ممبران، منتظمین اور شریک طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔
کانفرنس میں طب، نرسنگ، فارمیسی، ڈی پی ٹی، الائیڈ ہیلتھ اور پبلک ہیلتھ سے وابستہ طلبہ نے شرکت کی، جبکہ تحقیقی مقالہ جات، پوسٹر پریزنٹیشنز اور دیگر علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔



