عدالتِ عالیہ کٹہرے میں؟

عسکری آمر عاصم منیر کے پاکستان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن جو گھناؤنا ناٹک عمران خان کے ہسپتال لیجانے پر ان کند ذہن جرنیلوں اور ان کے تابع فرمان سیاسی کٹھ پتلیوں نے رچایا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سرکس کے کرتبیوں کی سوچ کتنی پست اور ذہنیت کیسی آلودہ ہے!اصل معاملہ یہ تھا کہ کٹھ پتلی ‘حکومت نے جس کا سیاسی دماغ نابغہء روزگار نواز شریف جیسے عقل و دانش سے پیدل جینئس کے ہاتھ رہن رکھا ہوا ہے اس بل پر، جو کٹھ پتلی پارلیمان کے سامنے عاصم منیر کے اختیارات میں بدرجہا توسیع اور اضافہ کی غرض سے پیش کیا گیا تھا، کچھ سودے بازی کا سوانگ رچایا تھا!سو عاصم منیر نے اپنی کٹھ پتلیوں کے پر قینچ کرنے کیلئے عمران خان کے طبی معائنہ کا ڈرامہ رچایا تاکہ کٹھ پتلیوں اور مہروں کو عمران کی رسیاں ڈھیلی کرنے کا خوف دلواسکے۔یاد رہے کہ عمران کو، جو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا بانی اور رہنما ہے اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ کل عالم اسلام میں سب سے مقبول قائد ہونے کا لوہا دنیا سے منوا چکا ہے، ان طبی سہولتوں سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جو ایک معمولی قیدی کو حاصل ہوتی ہیں چہ جائیکہ ایک سابق اور نامور وزیر اعظم ہونے کے ناطہ عمران جن سہولتوں کا بجا طور پہ حقدار ہے، قانون اور اخلاقی اقدار پر، وہ بھی اسے مہیا نہیں کی جارہیں!یہ سب کچھ عاصم منیر کے حکم اور ایماء سے ہورہا ہے کیونکہ یہ اپنے بونے پن کے احساسِ کمتری میں مبتلا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ذہنی مریض ہے اور عمران سے نہ صرف نفرت میں جل رہا ہے بلکہ اس سے انتقام لینے کی آگ بھی اسے اندر ہی اندر کھارہی ہے!پاکستان اس عاصم منیر سے پہلے بھی چار عسکری آمروں کو جھیل چکا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کی طرح ذہنی مریض نہیں تھا۔یہ ذہنی مریض انتہا درجہ کا سفاک اور ظالم ہے۔ اس نے پاکستانی فوج کی کمان فریب دیکر حاصل کی، بلکہ ہتھیالی، اور اس کے ساتھ ہی اس نے پاکستان میں ظلم و جور کا جو نظام جاری کیا ہے اس کی تو مثال ملک کی داغدار تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کی شہرت یہ ہے کہ یہ جاہل حافطِ قرآن ہے۔ ہوگا لیکن قرآن اس کے کردار اور کرتوت میں کہیں دور دور نظر نہیں آتا۔اس ظالم اور سفاک نے اگر قرآن کو سمجھا ہوتا تو اسے علم ہوتا کہ ایک مظلوم کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اور یہ فرمان اس کا ہے جو کونین کا مالک اور مختار ہے۔ لیکن اس بدمست آمر کے مقبوضہ پاکستان میں بیگناہوں کا جو خون بہایا جارہا ہے وہ ایک نئی تاریخ مرتب کر رہا ہے۔ اس نام نہاد حافظ کے مقبوضہ ملک میں تو نہ چادر محفوظ ہے نہ چاردیواری۔ عورتوں کو جس بے شرمی سے مہارانی مریم نواز کے پنجاب میں سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے وہ اس آمر کے بدنما چہرے پہ کلنک کا ٹیکہ ہے۔سو اس سفاک نے عمران کو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں طبی معائنہ کروانے کیلئے اپنے تابع فرمان عدالت عالیہ کو، جواس کی مٹھی میں ایک مہرے سے زیادہ نہیں ہے، حکم دیا کہ عمران کیلئے اس سہولت کا اعلان کردیا جائے۔ اور بے دست و پا عدالت نے فوری حکم دے دیا کہ دو دن میں عمران کو الشفاء ہسپتال میں طبی معائنہ کیلئے لیجایا جائے۔ادھر سیاسی کٹھ پتلیوں کو عدالت کا فرمان جاری ہوتے ہی پسینہ آنے لگا اور اپنا وجود خطرہ میں دکھائی دینے لگا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسمبلی نے فور اً اس بل پر صاد کردیا جو عاصم منیر کو ملک کے دفاعی اداروں ، بشول فضائیہ اور بحریہ، کا مکمل اختیار دے رہا ہے۔ اب اس ذہنی مریض کے نحس ہاتھوں میں دفاع ٔپاکستان سے متعلق تمام تر اختیارات جمع ہوگئے ہیں۔ اب دفاع کے ضمن میں اس ذہنی مریض کے فیصلوں کے خلاف نہ پارلیمان کو کوئی اختیار رہا ہے نہ کٹھ پتلی حکومت کو۔ اور عدالتیں تو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد مکمل طور پہ اس جنونی منتقم کی مٹھی میں ہیں۔ سو اب یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور اثاثوں کو کس طرح استعمال کرتا ہے کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں بچا۔ کسی کا اختیار نہیں کہ اس کا موخذہ کرسکے، اس سے حساب مانگ سکے اسلئے کہ اس نے پہلے ہی اپنے آپ کو تا حیات استنثیٰ دے دیا ہے !سو عدالتِ عالیہ کے فرمان کی جس طرح توہین کی گئی اس پر عمران کی تحریکِ انصاف نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے اور ایک پٹیشن دائر کی ہے کہ حکومت عدالت کی توہین کرنے کی مرتکب ہوئی ہے !اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس عدالتِ عالیہ کے منصفوں میں اتنا ظرف ہے کہ یہ بدمست عسکری آمرِ وقت سے ٹکر لے سکیں؟عمران خان اور اس کی پارٹی نے عدالت کو ایسے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے جہاں اس کے ظرف اور اس کے منصفوں کی عزتِ نفس کا امتحان بھی ہے، مواخذہ اور احتساب بھی!ہماری پاکستان کی عدالتِ عالیہ کی تاریخ بے ضمیر منصفوں سے بھی بھری ہوئی ہے اور ان ضمیر والےمنصفوں سے بھی یہ مزین ہے جنہوں نے عسکری آمروں کے سامنے نہ گردن جھکائی نہ ان کے بوٹ چومے بلکہ ان بدمست آمروں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی اور انصاف کا بول بالا کیا۔پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں ایک انتہائی دلچسپ اور سبق آموز پہلو یہ ہے کہ کسی غیر مسلم منصف نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔وہ چاہے جسٹس کارنیلئیس ہوں، یا جسٹس دوراب پٹیل (جو بھٹو کے تاریخی فیصلہ میں عدالت کے تمام مسلم منصفوں کے خلاف وہ واحد جج تھے جنہوں نے بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلہ کے خلاف ووٹ دیا )، یا جسٹس بھگوان داس کسی نے آمریت سے سودا نہیں کیا نہ ہی عسکری آمروں کے سامنے ہتھیار ڈالے اور قانون کو بے بس ثابت کرنے کا جرم کیا۔حیرت تو مسلمان ججوں پر ہے جو اس کتابِ الہیٰ پر ایمان رکھتے ہیں جو واضح الفاظ میں تلقین کر رہی ہے کہ انسانوں کے درمیان انصاف سے فیصلے کرو اور اگر اس عمل میں تمہارا اپنا کوئی قرابت دار بھی ہو تو جھوٹی گواہی نہ دو۔ان بے ضمیر ججوں سے یہ سوال تو جائز ہے کہ انہیں موت پر یقین ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو پھر یہ کیوں دنیا کی خاطر اپنے دین اور ایمان کا سودا کرلیتے ہیں جبکہ کائنات کا خالق یہ کہہ رہا ہے کہ مسندِ عدل پر بیٹھنے والوں کا کڑا حساب ہوگا اور رائی کے دانے کے برابر بھی غلط عمل پر سزا ملے گی!یہ کیوں غاصب عسکری آمروں کے کرتوت اور غیر آئینی فیصلوں سے نہ صرف صرفِ نظر کرتے آئے ہیں بلکہ مشرف جیسے رنگیلے آمر کو تو اس وقت کی عدالتِ عالیہ نے یہ اختیار بھی دے دیا تھاکہ وہ پاکستان کے آئین میں جو ترمیم کرنا چاہے کرسکتا ہے!سو اب دیکھنا ہے کہ وہ تین رکنی بنچ جس نے یہ حکم دیاتھا حکومتِ وقت کو کہ عمران کو شفاء ہسپتال منتقل کیا جائے اور عدالت کے سامنے اگلی پیشی تک، جس کیلئے 16 ستمبر کی تاریخ دی گئی تھی، وہیں ہسپتال میں رکھا جائے، اپنے اس غیر مبہم اور واضح حکم کی جس طرح توہین کی گئی ہے اور جس بیدردی سے کٹھ پتلی حکمرانوں نے اپنی ڈوریاں کھینچنے والے بدمست آمر عاصم منیر کے اشارے پر دھجیاں بکھیری ہیں، حکومت کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے؟یہ صرف چور شہباز کی حکومت کی جراءتِ رندانہ کا احتساب ہی نہیں ہوگا بلکہ اس پورے نظامِ جبر کا بھی مواخذہ ہوگا جس میں ذہنی مریض عاصم منیر اپنے آپ کو ہر قانون اور آئین سے بالا تر سمجھتا ہے!پاکستان کی بدنصیبی پر اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے کہ ایک ذہنی طور پہ بیمار شخص، جس کی غاصبانہ حرکتیں پوری سفاکی کے ساتھ قوم پر عیاں ہیں، پورے نظامِ عدل کو چیلنج کر رہا ہے اور اس اعتماد کے ساتھ عدالتِ عالیہ کو ٹھینگا دکھا رہا ہے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی!عاصم منیر اللہ کے احکامات کو بھی چیلنج کر رہا ہے اپنے اس یقین کے ساتھ کہ جب تک اس کے سر پر اسی کی طرح ذہنی مریض ٹرمپ جنونی کا دستِ شفقت ہے اس کا دنیا میں کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا!اس جعلی حافظ کا قبلہ واشنگٹن میں ہے اور اس کا کعبہ بیتِ ٹرمپ ہے۔ اسی لئے یہ ٹرمپ کے ہر فرمان پہ آمنا و صدقنا کہتا ہے اور یہ سطور جب لکھی جارہی ہیں ٹرمپ کا یہ گماشتہ اپنے آقاء کا ایک اور فرمان لے کر ایران جارہا ہے اور اس کے ہمراہ اس کا چہیتا محسن نقوی ہے۔ہر مرض کی دوا اب یہ دو بقراط، عاصم اور محسن ہیں۔ باقی سب پاکستانی ان کی چندھی نظروں میں مرچکے۔ یہ دونوں ہی سفارتکار بھی ہیں، حکیم اور رہنمائے دور بھی ہیںاور ملک کی تقدیر کے بگاڑنے والے بھی!لیکن آخر کو پاکستانی قوم کی بے حسی ہے جس سے یہ غاصب اور خائن بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اٹھاتے رہینگے جب تک قوم سر سے کفن باندھ کے گھروں سے نہیں نکلتی۔آخر کو ماننا پڑتا ہے کہ جیسی قوم ویسے ہی اس کے حاکم۔ پاکستانی قوم اپنی خیانت اور بے ایمانی کیلئے عالمی شہرت کی حامل ہے سو اللہ کے فرمان کے مطابق اس کو اپنے ہی جیسے چور حاکم اور غاصب قائد ملے ہوئے ہیں جواس قوم کیلئے رسوائی اور ذلت کے سوا اور کچھ نہیں کما رہے۔
کہنا پڑتا ہے کہ یہ بداعمال قوم عمران جیسے کھرے، دیانت دار اور مخلص قائد کی مستحق اور حقدار نہیں ہے۔ بانیء پاکستان بابائے قوم حضرت قائد اعظم تو بہت دور رہے!
قانون کا رکھوالا تھا جس ملک کا بانی
اس ملک کے اب جابر و قاہر ہوئے سلطان
اے ارضِ وطن تجھ پہ زوال آیا یہ کیسا
حکام درندے بنے کمتر ہوئے انسان !



