۔ ۔۔اورپھول راستے میں رہ گئے!!!!

عمران خان پاکستان کی ان نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کھیل، فلاحی خدمت اور سیاست، تینوں میدانوں میں اپنی شناخت کرائی، ان کا شمارپاکستان کی جدید سیاسی تاریخ کی سب سے متنازع شخصیات میں بھی ہوتا ہے۔ وہ ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر، 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے فاتح کپتان، فلاحی کارکن اور پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے بانی ہیں۔ 2018 میں وہ پاکستان کے وزیرِاعظم بنے اور اپریل 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں ان کی حکومت ختم ہوئی۔ وہ اپنی حکومت کے خاتمے کو سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔مختلف سیاسی مقدمات میں انھیںسزا سنائی گئی اگست2023سے وہ پنجاب کے اڈیالہ جیل میں قید ہیں،دوران قیدان کی صحت، خصوصاً دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی۔ عمران خان کے اہلِ خانہ اور تحریکِ انصاف کا الزام ہے کہ انہیں جیل میں مناسب طبی سہولیات،فیملی سے ملاقات اور وکلاء تک مناسب رسائی کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کی حراست، منصفانہ مقدمے، طبی سہولت اور ملاقات کے حقوق کے حوالے سے سنگین تحفظات ظاہر کئے تھے۔ تاہم حکومت ان تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ عمران خان کو طبی معائنہ اور دیگر سہولتیں فراہم کی جاتی رہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں ان کی صحت کا معاملہ خاص طور پر انتہائی سنگین اور اہم ہوگیا۔ 18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے حکم دیا تھاکہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرکے طبی معائنہ اور ضروری علاج کرایا جائے، جبکہ طبی بورڈ میں ان کے ذاتی ڈاکٹر کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ 21اگست کو انہیں طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزپمزلے جایا گیا اور چند گھنٹوں بعد ہی پھر جیل واپس بھیج دیا گیا۔ عمران خان کو نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل کی طرف لے جایا ہی نہیں گیا۔ شفا انٹرنیشنل کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات یہ تاثر دینے کے لیے کئے گئےتھے کہ عمران خان کو وہاں لایا جارہا ہے۔ بعد میں حکومت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہسپتال تبدیل کرنے کا مؤقف اختیار کیا، جبکہ PTI نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں نے معائنہ کرکے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیا۔ مگر ڈاکٹر فیصل سلطان کو جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیںاپنے مریض تک رسائی نہ دینا غیرمعمولی اور غیرضروری اقدام تھاکیونکہ وہ سیاسی شخصیت نہیں بلکہ عمران خان کےمعالج ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز لے جانے کے حکومتی فیصلے نے ناصرف قانونی سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔عدالت کا حکم شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا تھا، جبکہ انتظامیہ نے سکیورٹی کو وجہ بتا کر پمز منتقل کیا۔ اسی تبدیلی پر یہ تنازع کھڑا ہوا ہے کہ آیا یہ عدالتی حکم کی تعمیل تھی یا اس سے انحراف۔
جب یہ خبر پھیلی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے گا تو بس پھر کیا تھا، لوگوں کی امیدیں جاگ اٹھیں۔ لوگ صرف ایک شخص کے منتظر نہیں تھے، وہ ایک امید کے منتظر تھے۔ لوگوں نے ہاتھوں میں پھول اٹھا رکھے تھے،کسی نے اپنے محبوب لیڈر کی تصویر سینے سے لگا رکھی تھی تو کسی نے اپنےہردلعزیز لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں سڑک کےکنارے کھڑے رہنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ نوجوانوں کے دل میں یہ خواہش تھی کہ شاید آج عمران خان کی گاڑی ان کے سامنے سے گزرے گی اور وہ صرف ایک لمحے کے لیے اپنے لیڈر کو دیکھ سکیں گے۔لوگوں نے راستے سوچ لئے، جگہیں مقرر کرلیں، پھول خرید لئے۔بتایا گیا کہ اس دن شہر میں دوکانوں پرپھول ختم ہوگئے تھے عوام نے اپنے محبوب لیڈر کی آمدپرشفا انٹرنیشنل کے راستوں پر پھول بچھادیئے ،یہ صرف ایک ہسپتال کا راستہ نہیں تھا،یہ عوام اور ان کے محبوب لیڈر کے درمیان ایک جذباتی تعلق کا راستہ تھا۔یہ قوم جذباتی ضرور ہے، مگر بے شعور نہیں۔کسی نے شاید یہ بھی سوچا ہوگا کہ جب قافلہ گزرے گا تو پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے اپنے محبوب قائد کو یہ پیغام دیں گے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔لیکن پھر انتظار، انتظار ہی رہ گیا۔
عوام کسی پروٹوکول کے طلبگار نہیں تھے۔ انہیں کسی سرکاری استقبال کی خواہش بھی نہیں تھی بلکہ وہ صرف چند سیکنڈ اپنے لیڈر کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ شاید گاڑی کے شیشے کے پیچھے ایک چہرہ، شاید ایک ہاتھ کا ہلکا سا اشارہ، انھیں اتنا یقین تھا کہ جس شخص کے لیے وہ برسوں سے نعرے لگا رہے ہیں، وہ انہیں دیکھ کر جان لے کہ اس کے چاہنے والے آج بھی موجود ہیں۔مگر جب عوام کو ایک امید دی جائے اور پھر وہ امید پوری نہ ہو تو سوال صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں رہتا، سوال اعتماد کا بن جاتا ہے۔عوام کو بار بار یہ احساس کیوں دلایا جائے کہ ان کے جذبات کی کوئی قیمت نہیں؟سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے بعد عمران خان کی شفاء انٹرنیشنل منتقلی مقررہ وقت میں نہ ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر قانونی اور انتظامی وجوہات پیش کی گئیں، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کے طور پر دیکھا۔ سپریم کورٹ کے عدالتِ عظمیٰ نے 18 اگست کو دوپہر تقریباً ایک بجے عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیاتھا، تاہم 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزر گیااور یوں وہ پھول، جو ایک جھلک کے استقبال کے لیے خریدے گئے تھے، ہاتھوں ہی میں مرجھانے لگے۔آج بھی عمران خان پاکستان کی سیاست میں ایک انتہائی بااثر شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ مسلسل محنت، عزم اور مقصد سے وابستگی انسان کو بڑے سے بڑا ہدف حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کی کرکٹ کی کامیابی، فلاحی خدمات اور سیاسی جدوجہد انہیں پاکستان کی معاصر تاریخ کی ایک اہم شخصیت بناتی ہے۔
عمران خان کے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی نہ بنایا جائے۔ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں حکومتیں تبدیل ہوں لیکن قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے اصول تبدیل نہ ہوں۔عمران خان کے حامی انہیں سیاسی انتقام کا شکار سمجھتے ہیں، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ اس لیے ایک ذمہ دارانہ مؤقف یہی ہے کہ جذبات کے بجائے عدالتی فیصلوں، طبی رپورٹس اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔پاکستان کی مضبوطی کسی ایک سیاسی رہنما کی جیت یا شکست میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ ہر پاکستانی کے لیے انصاف ایک جیسا ہو۔شاید تاریخ اس واقعے کو ایک عدالتی حکم، ایک نظرثانی درخواست یا ایک انتظامی تنازع کے طور پر لکھے گی۔ مگر عوام اِسے اپنے دل کی ڈائری میں ایک اور طرح سے لکھیں گے’’ہمیں ایک جھلک کی امید دی گئی تھی، مگر ہماری آنکھیں سڑک پر ہی رہ گئیں‘‘۔



